سلمان تاثیر قتل کیس،ممتاز قادری کے وکیل کے دلائل مکمل نہ ہونے پر سماعت 1 روز کے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ فروری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-11
تاریخ اشاعت: 2015-02-11
تاریخ اشاعت: 2015-02-11
تاریخ اشاعت: 2015-02-11
تاریخ اشاعت: 2015-02-11
تاریخ اشاعت: 2015-02-11
تاریخ اشاعت: 2015-02-11
تاریخ اشاعت: 2015-02-11
تاریخ اشاعت: 2015-02-11
پچھلی خبریں -

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:05 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:06 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:09 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:16 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:11:11 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:11:13 اسلام آباد کی مزید خبریں

تلاش کیجئے

سلمان تاثیر قتل کیس،ممتاز قادری کے وکیل کے دلائل مکمل نہ ہونے پر سماعت 1 روز کے لئے ملتوی،سلمان تاثیر توہین عدالت کے مرتکب ہوئے تھے اور ان کا یہی انجام تھا، ممتاز قادری کے کیس کا فیصلہ صرف شرعی عدالت ہی کر سکتی ہے،وکیل کے دلائل،شاتم رسول کی سزا مقرر ہے اس میں تاخیریا اضافے کی گنجائش نہیں ،جسٹس شوکت صدیقی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 11فروری۔2015ء) اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر قتل کیس میں گرفتار ممتاز قادری کے وکیل جسٹس (ر) میاں نذیر اختر کے دلائل مکمل نہ ہونے پر سماعت 1 روز کے لئے ملتوی کر دی۔ عدالت نے دونوں فریقین پر سماعت کے دوران واضح کیاکہ ممتاز قادری کیس کی سماعت عدالت کھلے ذہن سے اور میرٹ پر کر رہی ہے کسی کو شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے جبکہ ممتاز قادری نے وکیل جسٹس (ر) میاں نذیر اختر نے موقف اختیار کیا کہ سلمان تاثیر توہین عدالت کے مرتکب ہوئے تھے اور ان کا یہی انجام تھا، ممتاز قادری کے کیس کا فیصلہ صرف شرعی عدالت ہی کر سکتی ہے،شاتم رسول ﷺ کے لئے کوئی معافی نہیں ۔

ابتدائی سماعت کے دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا مرتد اور شاتم کی سزا مقرر نہیں کی گئی ہے لیکن آپ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو خود رسول خدا کا اپنے دلائل میں پیروکار کا حوالہ دے رہے ہیں جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ شاتم رسول کی سزا مقرر ہے اس میں تاخیر اور اضافے کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ منگل کے روز ہائیکورٹ میں 3 روز کے وقفہ کے بعد سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر قتل کیس میں گرفتار ممتاز قادری کی اپیل پر سماعت ہوئی۔

جسٹس نور الحق این قریشی اور جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر مشتمل دویژن بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ وفاق کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد میاں عبدالرؤف عدالت میں پیش ہوئے جبکہ درخواست گزار کے وکیل جسٹس (ر) میاں نذیر اختر نے اپنے موکل کے حق میں دلائل دیئے۔ ابتدائی سماعت کے دوران اپنے موکل کے حق میں میاں نذیر اختر نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ممتاز قادری پر دہشت گردی کی دفعات اور قتل کا مقدمہ غیر قانونی بنایا گیا ہے کیونکہ میرے موکل نے سلمان تاثیر کو شان رسالت میں گستاخی کا مرتکب سمجھتے ہوئے قتل کیا ہے۔

میرے موکل کو ماورائے عدالت سزا سنائی گئی ہے اور اب بھی بیرونی طاقتیں جیسا کہ سزائے موت کو ختم کرانے کے لئے سازشیں کر رہی ہیں، مقدس ہستیوں کی توہین کرنے والے کی اسلامی قانون کے مطابق سزا قتل ہے۔ عدالت میرے موکل کو دی گئی سزا ختم کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ سلمان تاثیر نے جو کچھ کیا اس نے اپنے کئے ہوئے کی سزا بھگت لی ہے لیکن میرے موکل کے بھی کچھ بنیادی حقوق ہیں جن کو عدالت عالیہ اپنے اختیارات کے مطابق دیکھ سکتی ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس (ر) میاں نذیر اختر نے عدالت کو بتایا کہ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر ایک بڑے صوبے کا گورنر تھا۔ اس نے اپنے ٹی وی پروگراموں میں شان رسول کی گستاخی شروع کر دی اور ناموس رسالت کے قانون کو کالا قانون کہنا شروع کیا۔ ممتاز قادری نے ساڑھے 3 ماہ تک گورنر پنجاب کی گستاخی کو برداشت کیا اور گورنر پنجاب کو توہین رسالت کا مرتکب جانتے ہوئے قتل کیا۔ انہوں نے اپنے موکل کا دفاع کرتے ہوئے کہا میرے موکل کو ایک ہی سزا دی جا سکتی ہے وہ بھی اسلامی تعلیمات کے مطابق۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے استفسار کیا آپ کیسے ثابت کریں گے کہ وہ توہین رسالت کا مرتکب ہوا،اس کا معاملہ بعد میں آئے گا۔ جسٹس (ر) میاں نذیر اختر نے کہا سلمان تاثیر نے کھلے عام توہین رسالت کی مرتکب ہونے والی خاتون آسیہ بی بی کا دفاع کرتے ہوئے جیل میں ان سے ملاقاتیں کیں اور ان کو ہونے والی سزا کی معافی کے لئے اس وقت کے صدر پاکستان کو خط بھی لکھا۔ سابق گورنر نے عدالتی فیصلے کی بھی توہین کی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11-02-2015 :تاریخ اشاعت