وزیرمملکت سائرہ افضل تارڑ کا ملک میں بے ہنگم بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنے بارے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل فروری

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-10
تاریخ اشاعت: 2015-02-10
تاریخ اشاعت: 2015-02-10
تاریخ اشاعت: 2015-02-10
تاریخ اشاعت: 2015-02-10
تاریخ اشاعت: 2015-02-10
تاریخ اشاعت: 2015-02-10
تاریخ اشاعت: 2015-02-10
پچھلی خبریں -

اسلام آباد

تلاش کیجئے

وزیرمملکت سائرہ افضل تارڑ کا ملک میں بے ہنگم بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنے بارے قانون سازی نہ ہونے بارے بے بسی کا اظہار، اپوزیشن مذہبی طبقے کے ردعمل کی ذمہ داری لے تو کل ہی ایوان میں قانون لے آئیں گے،سائرہ تارڑ، کچھ لوگ جعلی پولیو سرٹیفکیٹ لے کر بیرون ملک سفر کر رہے ہیں،وزیر کا اعتراف، ایڈز کے1لاکھ سے زائد مریض ہیں مگر رجسٹرڈ صرف پانچ ہزار ہیں، اراکین پارلیمان کا حج کوٹہ اس وقت تک بند رہے گا جب تک سعودی حکومت کی جانب سے20فیصدکٹوتی ختم نہیں ہوتی، سردار یوسف، سندھ کے کچھ علاقوں میں میٹر اپوزیشن لگوا دے تو بجلی فراہم کر دیں گے،عابد شیرعلی، قومی اسمبلی کا وقفہ سوالات

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔10فروری۔2015ء)قومی اسمبلی میں وقفہ سولات کے دوران وزیرمملکت سائرہ افضل تارڑ نے ملک میں بے ہنگم بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنے بارے قانون سازی نہ ہونے بارے اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اپوزیشن مذہبی طبقے کے ردعمل کی ذمہ داری لے لے تو کل ہی ایوان میں قانون لے آئیں گے۔انہوں نے اعتراف کیا کہ کچھ لوگ جعلی پولیو سرٹیفکیٹ لے کر بیرون ملک سفر کر رہے ہیں،ایران،سری لنکا سمیت کئی ملکوں میں آبادی کو کنٹرول کر لیا گیا ہے مگر افسوس یہاں مذہبی طبقے کے باعث آبادی کو کنٹرول نہیں کر پا رہے ہیں۔

ملک میں1لاکھ سے زائد مریض ہیں مگر افسوس اس بیماری میں مبتلا مریض خود کو رجسٹرڈ کرانے سے گھبراتے ہیں۔وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے کہا ہے کہ اراکین کا حج کوٹہ اس وقت تک بند رہے گا جب تک سعودی حکومت کی جانب سے20فیصدکٹوتی ختم نہیں ہوتی۔وزیرمملکت پانی وبجلی عابد شیرعلی نے کہا کہ اگر سندھ کے کچھ علاقوں میں میٹر اپوزیشن لگوا دے تو بجلی فراہم کر دیں گے۔پیر کو قومی اسمبلی کے وقفہ سوالات میں ارکان کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ افسوس پاکستان میں اس طرح کا اسلام لایا جارہا ہے جس کا اصل مذہب سے کوئی تعلق نہیں،ہر معاملے پرملک میں مظاہرے شروع کردئیے جاتے ہیں جس کے باعث قانون سازی نہیں کرسکے اب صوبوں کے پاس صحت کا شعبہ ہے،وہ قانون سازی کرے،ملک میں ایڈز کے1لاکھ سے زائد مریض ہیں،افسوس رجسٹرڈ صرف5 ہزار ہیں۔

پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا میں100بچوں کو پولیو قطرے پلائے جاچکے،بلوچستان میں94فیصد فاٹا میں75 فیصد بچوں کو ویکسین پلائی جاچکی ہے،تیراہ میں ضرب عضب اور گلگت بلتستان میں برف باری کے باعث بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے میں مشکلات ہیں،وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے کہا ہے کہ اراکین کا حج کوٹہ اس وقت تک بند رہے گا جب تک سعودی حکومت کی جانب سے20فیصدکٹوتی ختم نہیں ہوتی،حج صرف پکا مسلمان ہی کرتا ہے۔

وزیرمملکت پانی وبجلی عابد شیرعلی نے کہا کہ اگر سندھ کے کچھ علاقوں میں میٹر اپوزیشن لگوا دے تو بجلی فراہم کر دیں گے،لاڑکانہ کے بجلی سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کو تیار ہوں اگر اپوزیشن رہنمائی کرے۔مسرت رفیق ہیرکے سوال کے جواب میں وزیرمملکت سائرہ افضل تارڑ نے ایوان کو بتایا کہ پورے ملک میں صرف2لاکھ بچے پولیو ویکسین سے رہ چکے ہیں جبکہ چاروں صوبوں میں100فیصد بچوں کو پولیو قطرے پلانے کیلئے صرف بلوچستان میں94فیصد،فاٹا میں75فیصد بچوں کو پولیو ویکسین پلائے جاچکے ہیں۔

تیراہ(باڑہ) میں ضرب عضب کی وجہ سے اور گلگت بلتستان میں برف باری کے باعث پولیو مہم متاثر ہوئی ہے لیکن وزارت داخلہ کے اقدامات کی وجہ سے پولیو مہم بہتر طور پر چلائی گئی ہے۔ایک ضمنی سوال پر انہوں نے اعتراف کیا کہ کچھ لوگ جعلی پولیو سرٹیفکیٹ لے کر بیرون ملک سفر کر رہے ہیں،اب اس شعبہ کو مؤثر بنانے کیلئے بیج نمبر لینا بھی ضروری قرار دے دیا ہے۔پانی وبجلی کے وزیر مملکت عابد شیر علی نے مسرت رفیق ہیر کے سوال کے جواب میں ایوان کو بتایا کہ 2000 میگاواٹ بجلی سسٹم میں لائی گئی ہے ۔

محمد علی ارشد کے سوال کے جواب میں وزیرمملکت کیڈ سائرہ افضل نے ایوان کو بتایا کہ جعلی ادویات فروخت اور بنانے والے گروہ کو گرفتار کیا ہے۔ایس اے اظہار کے ضمنی سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا ،پنجاب اور سندھ میں جعلی ادویات کا کام ہوتا ہے،بلوچستان میں اس طرح غیر معیاری ادویات نہیں بنائی جاتی۔انہوں نے کہا جعلی ادویات کو روکنے کیلئے مؤثر قانون سازی کی ضرورت ہے تاکہ اس گھناؤنے کام میں ملوث افراد کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے اور ان کی ضمانت نہ ہوسکے۔

محمد علی ارشد کے سوال کے جواب میں انہوں نے ایوان کو بتایا کہ دسمبر2014ء میں ایڈز کی تعداد10ہزار663 ہے اس وقت ملک میں1لاکھ سے زائد مریض ہیں مگر افسوس اس بیماری میں مبتلا مریض خود کو رجسٹرڈ کرانے سے گھبراتے ہیں اور حکومت کے اس رجسٹرڈ تعداد صرف 5ہزار ہے۔شیخ صلاح الدین کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری ہاؤسنگ میرساجد میلانی نے ایوان کو بتایا کہ وزیراعظم نے5لاکھ گھر کم آمدن والے لوگوں کو فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے،جیسے ہی منظوری ملے گی کام شروع کردیا جائے گا۔

ایاز سومرو کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری نے ایوان کو بتایا کہ ہاؤسنگ سکیم کیلئے وفاقی حکومت کے پاس ہے صرف اسلام آباد اور پنجاب میں ہے البتہ اپنا گھرسکیم سے سندھ ،پنجاب،خیبرپختونخوا میں بلوچستان اور گلگت بلستان میں ہاؤسنگ سکیمیں بنائیں گے،جس پر ایاز سومرو نے لاڑکانہ میں زمین دینے کااعلان کیا جس پر پارلیمانی سیکرٹری نے یقین دلایا کہ اگر سندھ میں زمین مل جائے تو وہاں ہاؤسنگ سکیم بنائیں گے۔

عمران ظفر لغاری کے سوال کے جواب میں ایوان کو بتایاگیا کہ اگر علماء کرام کا رد عمل وہ برداشت کرلیں تو خاندانی منصوبہ بندی کا بل ایوان میں لاسکتے ہیں مگر 18ویں ترمیم کے بعد یہ معاملہ صوبوں کو چل گیا ہے،افسوس اس ملک میں جس طرح اسلام کا نام لیا جاتا ہے اس کا اصل مذہب اسلام سے کوئی تعلق نہیں،ایران،سری لنکا سمیت کئی ملکوں میں آبادی کو کنٹرول کر لیا گیا ہے مگر افسوس یہاں مذہبی طبقے کے باعث آبادی کو کنٹرول نہیں کر پا رہے ہیں۔

نعیمہ کشور کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے ایوان کو بتایا ہے کہ اراکین اسمبلی کو حج کوٹہ کی کوئی تجویز نہیں ہے کیوں کہ پاکستان کے حج کوٹہ پر حرم میں توسیع کے باعث کٹ لگا جس کے باعث گزشتہ دور حکومت میں2010ء میں کابینہ نے اس کو منظور نہیں کیا،اس لئے اس کو ختم کردیا۔مریم اورنگزیب اور میاں عبدالمنان کے دو الگ الگ سوالوں کے جواب میں سردار یوسف نے ایوان کو بتایا کہ حج کرتا ہی پکا مسلمان ہے لیکن سعودی حکومت کی جانب سے 20 فیصد کٹ ہے اس لئے جب تک کوٹہ ختم نہیں ہوتا اس وقت تک اراکین قومی اسمبلی کا حج کوٹہ بحال نہیں کیا جاسکتا۔

صاحبزادہ یعقوب کے سوال کے جواب میں وزیرمملکت پانی وبجلی عابد شیر علی نے ایوان کو بتایا کہ اس وقت شارٹ فال کی وجہ پن بجلی کی پیداوار میں کمی ہے،جس پر قابو پانے کیلئے داسو،نیلم جہلم پروجیکٹ پر کام جاری ہے جو کہ اپنی مقررہ مدت تک مکمل ہوجائیں گے۔عمران ظفر لغاری کے سوال کے جواب میں وزیرمملکت پانی وبجلی نے ایوان کو بتایا کہ اگر فاضل ممبر اپنے علاقہ میں میٹر لگوا دیں تو بجلی ہم فراہم کردیں گے۔شازیہ مری کے سوال کے جواب میں وزیرمملکت عابد شیرعلی نے ایوان کو بتایا کہ سندھ میں جہاں بھی واپڈا کے پول گرے ہیں انہیں30دنوں میں لگا دیا جائے گا۔ایاز سومرو کے سوال کے جواب میں عابد شیرعلی نے کہا کہ لاڑکانہ کے جن علاقوں میں میٹر نہیں ہیں وہ لگوا دیں،اس معاملے پر ان کے ساتھ علاقے کا دورہ کرنے کو تیار ہوں اگر لائن لاسز کم ہو جائیں تو مسئلہ حل ہوجائے گا ۔

10-02-2015 :تاریخ اشاعت