اپوزیشن کے شدیداحتجاج کے باوجودحکومت نے انتخابی فہرستیں ترمیمی آرڈیننس 2014ء میں ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل فروری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-10
تاریخ اشاعت: 2015-02-10
تاریخ اشاعت: 2015-02-10
تاریخ اشاعت: 2015-02-10
تاریخ اشاعت: 2015-02-10
تاریخ اشاعت: 2015-02-10
تاریخ اشاعت: 2015-02-10
تاریخ اشاعت: 2015-02-10
تاریخ اشاعت: 2015-02-10
تاریخ اشاعت: 2015-02-10
تاریخ اشاعت: 2015-02-10
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

اپوزیشن کے شدیداحتجاج کے باوجودحکومت نے انتخابی فہرستیں ترمیمی آرڈیننس 2014ء میں 120دنوں کی توسیع ایوان سے لے لی ، حکومت 2روزمیں بل لے آئے حمایت کریں گے ،خورشیدشاہ، آرڈیننس فیکٹریوں کوبندہوناچاہئے ،فہمیدہ مرزا، افسوس حکومت ایوان کوڈائننگ کلب میں تبدیل کررہی ہے ،نویدقمر،ایم کیوایم کی طرف سے آرڈیننس میں توسیع کی حمایت،بل بھی لانے کا مطالبہ، ایسابل لایاجائیگاجس پرتمام اپوزیشن جماعتوں کااتفاق ہوگا،شیخ آفتاب کی یقین دہانی

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔10فروری۔2015ء)قومی اسمبلی میں حکومت کی جانب سے انتخابی فہرستوں اورحلقہ بندیوں کے حوالے سے آرڈیننس میں 120دن کی توسیع پراپوزیشن جماعتوں کے شدیداحتجاج کے باوجودانتخابی فہرستیں ترمیمی آرڈیننس 2014ء میں 120دنوں کی توسیع ایوان سے سے لے گئی ،قائدحزب اختلاف سیدخورشیدشاہ نے کہاہے کہ حکومت 2روزمیں بل لے آئے حمایت کریں گے ،آرڈیننس کی کسی صورت توسیع نہیں ہونی چاہئے ،سابق سپیکرفہمیدہ مرزانے کہاکہ آرڈیننس فیکٹریوں کوبندہوناچاہئے ،سیدندیدقمرنے کہاکہ آرڈیننس آئین کی خلاف ورزی ہے ،ہمیں پارلیمنٹ کومضبوط بناناچاہئے افسوس حکومت ایوان کوڈائننگ کلب میں تبدیل کررہی ہے ،ایم کیوایم نے آرڈیننس میں توسیع کی حمایت کرتے ہوئے ایوان میں بھی لانے کامطالبہ کردیا،حکومت کی جانب سے شیخ آفتاب نے یقین دلایاہے کہ ایسابل لایاجائیگاجس پرتمام اپوزیشن جماعتوں کااتفاق ہوگا۔

پیرکی شام قومی اسمبلی کے اجلاس میں جب وزیرپارلیمانی امورنے انتخابی فہرستیں آرڈیننس 2014ء اورحلقہ بندیاں ترمیمی آرڈیننس2014میں 120دن کی توسیع چاہی توپیپلزپارٹی کے سینئررکن پارلیمنٹ سیدنویدقمرنے مخالفت کردی اورکہاکہ ملک کی بدقسمتی ہے کہ حکومت کے پاس ایوان میں سادہ اکثریت حاصل ہے ،مگراس کے باوجودآرڈیننس کاسہارالیکرآئین کی خلاف ورزی کی جاتی ہے حالانکہ 18ویں ترمیم کے وقت یہ اتفاق کیاگیاکہ قانون سازی کیلئے آرڈیننس کاسہارانہیں لیاجائیگا،مگرافسوس اس جانب زورنہیں دیاگیا۔

انہوں نے کہاکہ بتایاجائے کہ اگرآرڈیننس کے ذریعے قانون سازی ہوگی توپھرپارلیمنٹ کی کیاضرورت ہے ،اس ایوان کوکیوں ڈیٹنبنگ کلب بنایاجارہاہے کیااس ایوان میں ہم صرف وزیراعظم کی کرسی بچانے گئے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اس وقت ملک کے حالات انتہائی خراب ہیں کیوں کہ حکومت اپوزیشن کی اچھی چیزوں سے استفادہ نہیں کرتی ۔انہوں نے کہاکہ حکومت بہترقوانین لیکرآئیں ہم تعاون کیلئے تیارہیں ،ہمیں اپنے آپ پربھروسہ نہیں ہے اورپارلیمانی جماعتوں پراعتمادنہ کرناانتہائی شرمناک ہے ،حکومت اس معاملے کوموٴخرکرے اوراس معاملے پرباقاعدہ قانون سازی لائی جائے ،اس کے بعدایوان میں لایاجائے ،بعدازاں جماعت اسلامی کے رکنصاحبزادہ شیراکبرخان نے کہاہے کہ اس بل کی مخالفت اس لئے کرتے ہیں کہ حکومت کے طریقہ کاردرست نہیں ہے ،نواب یوسف تالپورنے اس معاملے پراظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ پارلیمنٹ کوفٹبال کی طرح دھکیلاجارہاہے ،اس صورتحال میں

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

10-02-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان