سلیکشن کمیٹی کے کام میں دخل نہیں دیتا ،معین ‘ وقار ‘ مصباح الحق اور ٹور کمیٹی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر فروری

لاہور

تلاش کیجئے

سلیکشن کمیٹی کے کام میں دخل نہیں دیتا ،معین ‘ وقار ‘ مصباح الحق اور ٹور کمیٹی نے حفیظ کے متبادل کے طور پر ناصر جمشید کا نام پیش کیا ‘ چیئرمین پی سی بی،سلیکشن کمیٹی سے کہا آپ کے پاس موقع ہے سعید اجمل کو لے سکتے ہیں لیکن اوپننگ بلے باز کی جگہ متبادل کے طور پر اوپننگ بلے باز ہی مانگا ،سعید اجمل کی ” دوسرا “ سمیت تمام ڈلیوریز کلیئر ہو گئی ہیں،ٹور کمیٹی انہیں ورلڈ کپ کھلانا چاہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں، پاکستانی ٹیم اگر ہار رہی ہے تو جیتی بھی ہے ،ہار جیت کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ،انجریز کے مسائل پاکستانی ٹیم کو ہی نہیں دیگر ٹیموں کو بھی درپیش ہیں،شہر یار خان کی قذافی اسٹیڈیم میں میڈیا سے گفتگو

لاہور( اُردو پوائنٹ اخبارتاز ترین ۔ 8فروری 2015ء) پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہر یار خان نے کہا ہے کہ سلیکشن کمیٹی کے کام میں بالکل دخل نہیں دیتا ،معین خان ‘ وقار یونس ‘ مصباح الحق اور ٹور کمیٹی نے محمد حفیظ کے متبادل کے طور پر ناصر جمشید کے نام پر اتفاق کے بعد مجھ سے رابطہ کیا جسکی منظوری دیدی ہے ، محمد حفیظ کی انجری کے بعد سلیکشن کمیٹی سے کہا کہ آپ کے پاس موقع ہے سعید اجمل کو لے سکتے ہیں لیکن انہوں نے کہا کہ اوپننگ بلے باز کی جگہ متبادل کے طور پر اوپننگ بلے باز ہی چاہیے ،سعید اجمل کی ” دوسرا “ سمیت تمام ڈلیوریز کلیئر ہو گئی ہیں،پاکستانی ٹیم اگر ہار رہی ہے تو جیتی بھی ہے البتہ ہار جیت کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ،کھلاڑیوں کے زخمی ہونے کی خبریں صرف پاکستانی ٹیم سے نہیں آرہی دیگر ٹیمیں بھی اس کا شکار ہو رہی ہیں ۔

قذافی اسٹیڈیم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ انٹر نیشنل کرکٹ کونسل ابھی محمد حفیظ کی انجری کا تکنیکی جائزہ لے گا جسکے بعد حتمی طور پر بتایا جائے گا لیکن محمد حفیظ کی انجری کی رپورٹ آنے کے بعد ناصر جمشید کا متبادل کے طور پر فیصلہ کر لیا گیا ہے اور وہ آئندہ چند روز میں ٹیم کو جوائن کر لیں گے ۔ ناصر جمشید کیلئے ویزے کا کوئی مسئلہ نہیں صرف راحت علی کا مسئلہ تھا جسکے لئے آسٹریلن ہائی کمشنر سے بات کی اور انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ چوبیس گھنٹوں میں ویزے کے معاملات مکمل کر لئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سعید اجمل کا ایکشن کلیئر ہونا خوشی کی بات ہے اور سعید اجمل نے بہت بڑا کام کیا ہے ۔بالنگ ایکشن کی درستگی میں انکے ایڈوائزرز خصوصاً ثقلین مشتاق‘ محمد مشتاق اور محمد اکرم نے بڑی محنت کی اور میں نے ثقلین مشتاق کو ٹیلیفون کر کے ان کا شکریہ ادا کیا ہے لیکن مجموعی طور پر اس کا سہرا سعید اجمل کے سر ہے جنہوں نے اپنے ایکشن کو کلیئر کرانے کے لئے دن رات محنت کی ۔ انہوں نے کہا کہ سعید اجمل نے بتایا کہ وہ فیصل آباد جارہے ہیں جہاں وہ ایک ،دو کلب کے میچز کھیلیں گے اسکے بعد دیگر مقابلوں میں بھی حصہ لیں گے تاکہ ان کا نیا بالنگ ایکشن جلد سیٹ ہو سکے اور انہیں مستقبل میں کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔

سعید اجمل کا ایکشن کلیئر ہونا پاکستان اورپاکستان کرکٹ کی بڑی کامیابی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ سعید اجمل نے ٹیسٹ میں ”دوسرا “سمیت تمام ورائٹیز کلیئر کر الی ہیں بلکہ انہوں نے چند نئی ورائٹیزبھی ایجاد کی ہیں جو انتہائی خوش آئند ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ورلڈ کپ کے بعد ہم نے انگلینڈ ‘ بھارت اور غالباً بنگلہ دیش سے کھیلنا ہے اور تینوں سیریز میں ٹیم کو سعید اجمل کی بہت ضرورت ہو گی ۔

انہوں نے پاکستانی ٹیم کے کھلاڑیوں میں انجریز کے حوالے سے کہا کہ اس طرح کی خبریں صرف پاکستانی ٹیم میں سے نہیں آرہی بلکہ بھارت سمیت دیگر ٹیمیں بھی اس کا شکار ہیں ۔ ہر کھلاڑی کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ورلڈ کپ میں اپنے ملک کی نمائندگی کرے ۔ افسوس کی بات ہے کہ ہمارے دواہم کھلاڑی انجریز کیوجہ سے ورلڈ کپ اسکواڈ سے باہر ہو گئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم بنگلہ دیش سے کھیلنا چاہتے ہیں ، بنگلہ دیش سے آنے والی ٹیسٹ سیریز ہماری ہوم سیریز ہے لیکن انکی طرف سے بنگلہ دیش آ کر کھیلنے کی پیشکش پر ہم نے انہیں کہا ہے کہ ہمیں اس کا کچھ معاوضہ دیا جائے وہ ابھی تک اس پر آمادہ نہیں ہیں لیکن اس کا کوئی نہ کوئی حل نکل آئے گا ۔

دبئی میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے سربراہ ویزہ نہ ملنے کی وجہ سے نہیں آسکے تھے اس لئے انکے دوسرے درجے کے عہدیداروں سے بات ہوئی جنہوں نے بتایا کہ وہ میری باتیں بورڈ کے سربراہ تک پہنچا دیں گے اور ہم اگلے ہفتے اس پر بات کر لیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش سے یو اے ای میں سیریز کھیلنے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں لیکن ہم بنگلہ دیش کے ساتھ ٹیسٹ سیریز کو کھونا نہیں چاہتے اگر ان سے مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو ممکن ہے ان سے ٹیسٹ سیریز نہ ہو ۔

انہوں نے مزید کہا کہ رواں سال میں نیپال‘ نیدر لینڈ سمیت اور بھی ایسوسی ایٹ ممالک کی ٹیمیں آنے کو تیار ہیں ، ان مقابلوں میں نئی کھلاڑیوں کو آزمایا جائے گا ۔لاہور میں اکیڈمی میں رہائش کا بہترین انتظام ہے جبکہ کراچی میں اسی طرح کاانتظام ہے جبکہ چند مہینوں بعد ملتان فیصل آباد بھی کھل جائیں گے جہاں پر کھیل کے مقام کے بالکل ساتھ رہائش ہو گی جس سے سکیورٹی خدشات نہیں ہو ں گے اور اس کے بعد یقینا بڑی ٹیمیں بھی آنے کا سوچیں گی ۔

انہوں نے آؤٹ آف فارم ناصر جمشید کو شامل کئے جانے کے سوال کے جواب میں کہا کہ مجھے معلوم ہے ڈومیسٹک میں بہت سے لڑکے ہیں جنہوں نے اچھی پرفارمنس دی ان میں سمیع اسلم‘ بابر اعظم اور دیگر شامل ہیں لیکن معین خان ‘ وقار یونس اور مصباح الحق او رٹور کمیٹی کا کہنا تھاکہ ہمیں تجربہ کار بلے باز کی ضرورت ہے اور ناصر جمشید کو بھیج دیں ۔ میں سلیکشن کمیٹی کے معاملات میں دخل نہیں دیتا یہ سب کا متفقہ فیصلہ تھا جسکی میں نے منظوری دیدی اور میں اسکے خلاف نہیں جاؤں گا ۔ حالانکہ میں نے حفیظ کی انجری کے بعد کمیٹی سے کہا تھاکہ موقع ہے کہ سعید اجمل کو لے لیں لیکن انہوں نے کہا کہ جس طرح فاسٹ بالر جنید کے زخمی ہونے کے بعد انکی پیسر لیا گیا اسی طرح حفیظ کی جگہ اوپننگ بلے باز چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ٹور کمیٹی سعید اجمل کو ورلڈ کپ میں کھلانا چاہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

09-02-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان