پنجاب حکومت کا آخر کارنومبر2015 میں بلدیاتی انتخابات کرانے کافیصلہ ،ختیار ات بیورو ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار فروری

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-08
تاریخ اشاعت: 2015-02-08
تاریخ اشاعت: 2015-02-08
تاریخ اشاعت: 2015-02-08
تاریخ اشاعت: 2015-02-08
تاریخ اشاعت: 2015-02-08
پچھلی خبریں -

فیصل آباد

فیصل آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 20/01/2017 - 12:46:55 وقت اشاعت: 20/01/2017 - 14:11:50 وقت اشاعت: 20/01/2017 - 14:11:51 وقت اشاعت: 20/01/2017 - 14:11:52 وقت اشاعت: 20/01/2017 - 14:11:53 وقت اشاعت: 20/01/2017 - 14:11:54 فیصل آباد کی مزید خبریں

تلاش کیجئے

پنجاب حکومت کا آخر کارنومبر2015 میں بلدیاتی انتخابات کرانے کافیصلہ ،ختیار ات بیورو کریسی کو ہی دینے اور اور حلقہ بندیوں میں ردو بدل پراپوزیشن جماعتوں کا تحفظات کا اظہار ، حکومتی فیصلے کو آمرانہ سوچ قرار دیدیا ،مزاحمت کا اعلان

فیصل آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 8فروری۔2015ء)پنجاب حکومت نے آخر کارنومبر2015 میں بلدیاتی انتخابات کرانے کافیصلہ کر لیاتاہم اس حوالہ سے صوبائی حکومت کی طرف سے اختیار ات اور حلقہ بندیوں میں ردو بدل کے اقدامات پر تحریک انصاف ،جماعت اسلامی ،مسلم لیگ ق ،عوامی تحریک سمیت دیگر جماعتوں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ان اقدامات کو آمرانہ سوچ قرار دیدیا۔معتبر ذرائع کے مطابق نومبر میں منعقد ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے فیصلہ کے باوجود بلدیاتی اداروں کے اختیار ات عوامی نمائندوں کی بجائے بیوروکریسی کے پاس رکھنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے جبکہ 2002ء کے بلدیاتی آرڈیننس اور منظور کئے گئے قانون کے تحت ہر سٹی ڈسٹرکٹ گورنمٹ کا ناظم ضلع کا سربراہ ہوتا تھا اور ڈی سی او کا کام صرف ضلعی ناظم کے احکامات پر مختلف محکموں کے افسران سے عملدرآمد کرانا اور اس کی رپورٹ ضلعی ناظم کو دینا ہوتی تھی۔

اس طرح سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کا ناظم جوکہ منتخب ہوکر آتا تھا‘ شہریوں‘ یونین کونسلوں‘ ناظمین‘ نائب ناظمین اور ٹاؤن ناظمین کو جوابدہ بھی تھا مگر جب سے موجودہ حکومت پنجاب اور مرکز میں برسراقتدار آئی ہے انہوں نے ضلعی نظام کو معطل کرکے اس کے تمام اختیارات ڈی سی او کو سونپ دئیے اور وہ اپنے احکامات جن میں بعض غیرقانونی بھی ہوتے ہیں‘ مختلف محکموں کے افسران کو جاری کرتا ہے۔ اگر صوبائی محکمے کا ضلعی افسر غیر آئینی احکامات کو ماننے سے انکار کرے تو اس افسر کیخلاف ڈی سی او نہ صرف کارروائی کرنے کا مجاز ہوتا ہے بلکہ صوبائی محکموں کے سیکرٹریوں کے علاوہ چیف سیکرٹری پنجاب کو بھی فون کال کے ذریعے یا تحریری طور پر اس افسر کی تبدیلی یا معطلی کے بارے میں شکایت کرسکتا ہے جس پر عملدرآمد ہونا ضروری ہوتا ہے۔

خبر رساں ادارے کو مزید معلوم ہوا ہے کہ حال ہی میں دھرنوں اور احتجاج کی سیاست کے بعد حکومت پنجاب نے صوبہ بھر میں بلدیاتی انتخابات کرانے ک فیصلہ کرتے ہوئے اختیارات کو نچلی سطح پر منتخب ہونے والے عوامی نمائندوں کو سونپنے کا فیصلہ کیا تھا مگر بیوروکریسی نے وزیراعلی کو سبز باغ دکھاکر ایسا کرنے سے منع کرتے ہوئے ایک کمیٹی کی روشنی میں پنجاب بھر کے بلدیاتی اداروں جن میں سابقہ دور کی میونسپل کمیٹیاں‘ ضلع کونسلیں‘ کارپوریشنز کیساتھ ساتھ میٹرو پولیٹن کارپوریشنز کو صوبائی سیکرٹری بلدیات نے ایک تحریری حکم ایس آر او (لوکل گورنمنٹ) 37\46 کو بنیاد بناکر پنجاب بھر کی تمام ضلع کونسلوں‘ میونسپل کمیٹیوں‘ میونسپل کارپوریشنوں کو نہ صرف بحال کردیا گیا ہے بلکہ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

08-02-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان