2018ء تک سپیکر قومی اسمبلی کے عہدے پر فائز رہوں گا، ایاز صادق،عمران جج نہیں اور نہ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار فروری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-08
تاریخ اشاعت: 2015-02-08
تاریخ اشاعت: 2015-02-08
تاریخ اشاعت: 2015-02-08
تاریخ اشاعت: 2015-02-08
تاریخ اشاعت: 2015-02-08
تاریخ اشاعت: 2015-02-08
تاریخ اشاعت: 2015-02-08
تاریخ اشاعت: 2015-02-08
پچھلی خبریں -

لاہور

تلاش کیجئے

2018ء تک سپیکر قومی اسمبلی کے عہدے پر فائز رہوں گا، ایاز صادق،عمران جج نہیں اور نہ ہی میں جج ہوں ،کیس کا فیصلہ جسٹس کاظم علی نے کرنا ہے،فیصلہ ثبوتوں اور شواہد کی بنیاد پرہوتا ہے کسی کی خواہشات پر نہیں ،این اے 122 شیروں کا حلقہ ہے ،آئندہ الیکشن میں بھی شیر ہی کامیاب ہوگا،سپیکر قومی اسمبلی کی الیکشن ٹریبونل میں بیان ریکارڈ کرانے کے بعد میڈیا سے گفتگو

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 8فروری۔2015ء)سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا ہے کہ انشاء اللہ 2018 ء تک سپیکر قومی اسمبلی کے عہدے پر فائز رہوں گا،عمران خان جج نہیں اور نہ ہی میں جج ہوں ،این اے 122 کیس کا فیصلہ جسٹس کاظم علی ملک نے کرنا ہے ،جج نے فیصلہ ثبوتوں اور شواہد کی بنیاد پر کرنا ہے کسی کی خواہشات پر فیصلے نہیں ہوتے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز این اے 122 میں مبینہ دھاندلی کے حوالے سے الیکشن ٹریبونل میں اپنا بیان یرکارڈ کرانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔

سپیکر ایاز صادق نے کہا کہ آج جو بات کروں گا وہ بات سوچ سمجھ کر کروں گاا سلئے پوائنٹس لکھ کر آیا ہوں،میں جس منصب پر فائز ہوں اس منصب کی غیر جانبداری اور عزت میرا فرض ہے، اللہ تعالی کی مہربانی سے اس فرض کو نبھاتا رہا ہوں اور نبھاتا رہوں گا،انہوں نے کہا کہ کوئی سیاسی بات نہیں کروں گا کیونکہ یہ منصب کا تقاضا ہے کہ میں کوئی سیاسی بات نہ کروں۔انہوں نے کہا کہ میرا128 دن سے ٹرائل کیا گیا مگر اس دوران کسی فورم پر کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا ،میں کس سے انصاف مانگو۔

میں نے اپنا کیس اللہ تعالی کے حضور دائر کر دی ہے وہاں مجھے انصاف ملے گا،مجھے یقین ہے کہ مجھے یہاں بھی انصاف ملے گا اور آخری میں بھی انصاف ملے گا،انہوں نے کہا کہ میں کوئی ایسی بات نہیں کروں گا کہ کبھی عمران خان کے ساتھ آمنا سامنا ہو جائے اور مجھے نظریں جھکا کر غائب ہونا پڑے ۔میں اللہ تعالیٰ کے حضورسرخرو ہونا چاہتا ہوں ،میں کوئی ایسا بات نہ کروں جس سے اللہ تعالی کے حضور شرمندگی اٹھانا پڑے۔

انہوں نے کہا کہ میں جج نہیں اور نہ عمران خان جج ہیں ،جسٹس کاظم علی ملک نے این اے 122 کے حوالے سے کیس کا فیصلہ سنانا ہے۔سپیکر ایاز صادق نے کہا کہ الیکشن ٹریبونل نے فیصلہ شواہد اور ثبوتوں کی بنیاد پر کرنا ہے کسی کی خواہشات پر فیصلے نہیں ہوتے۔انہوں نے کہا کہ انشاء اللہ زندگی رہی اور اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا تو 2018 ء تک سپیکر قومی اسمبلی کے عہدے پر فائز رہوں گا اور اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیتا رہوں گا۔

ووٹرز ،سپورٹر جنہوں نے مجھے تیسری مرتبہ اس حلقہ میں منتخب کیا ہے میرا رشتہ ان کے ساتھ جڑا رہے گا یہ شیروں کا حلقہ ہے آئندہ بھی اسی حلقے میں شیر ہی سرخرو ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ پچاس سال قبل تیسری اور چوتھی جماعت کے لڑکے ہاکی کھیل رہے تھے کہ غلطی سے ہاکی عمران خان نیازی کے گال پر لگی جس سے خون بہا اور عمران خان ہسپتال لے جایا گیا ،کچھ دنوں تک ناراضگی چلتی رہی لیکن چند ہی روز بعد معاملہ رفع دفعہ ہوگیا ۔

مجھے نہیں پتہ تھا کہ 50 سال کے بعد بھی وہ یہ چیز دل میں رکھیں گے ۔میں میڈیا کی وساطت اور آپ بھائیوں کی وساطت سے اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ خان صاحب میں نے جان بوجھ کر ہاکی نہیں ماری دی بلکہ غلطی سے لگی تھی ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ این اے 122 میں سرخرو ہوں گا اور عمران اور دیگر کے خلاف جنہوں نے میرے خلاف ٹرائل کیا ہے کیس دائر کر دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان لوگ ڈریں اللہ تعالیٰ کی عدالت سب سے بڑی عدالت ہے۔اللہ تعالیٰ اس جہاں میں بھی سرخرو کریں گے اور اگلے جہاں میں بھی سروخرو کریں گے۔

08-02-2015 :تاریخ اشاعت