آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرگئے ، انتخابات ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ فروری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-07
تاریخ اشاعت: 2015-02-07
تاریخ اشاعت: 2015-02-07
تاریخ اشاعت: 2015-02-07
تاریخ اشاعت: 2015-02-07
تاریخ اشاعت: 2015-02-07
تاریخ اشاعت: 2015-02-07
تاریخ اشاعت: 2015-02-07
تاریخ اشاعت: 2015-02-07
تاریخ اشاعت: 2015-02-07
تاریخ اشاعت: 2015-02-07
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 28/02/2017 - 11:04:23 وقت اشاعت: 28/02/2017 - 11:04:29 وقت اشاعت: 28/02/2017 - 11:04:31 وقت اشاعت: 28/02/2017 - 11:09:56 وقت اشاعت: 28/02/2017 - 11:09:57 وقت اشاعت: 28/02/2017 - 11:10:00 اسلام آباد کی مزید خبریں

تلاش کیجئے

آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرگئے ، انتخابات میں ٹکٹ کی الاٹمنٹ کے حوالے سے بلاول بھٹو زرداری منظر پر نہیں، آصف علی زرداری بھی انہیں منانے کیلئے لندن گئے تھے لیکن منانے میں ناکام رہے، بلاول پارٹی میں نئے چہروں کو شامل کرکے پارٹی کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا چاہتے تھے ، بعض پارٹی اراکین نے ان کے فیصلے کی مخالفت کی ، تھرپارکر بحران پر بدانتظامی پر وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اور صوبائی ڈپٹی سیکرٹری جنرل منظروسان کو شوکاز نوٹس جاری ہونے پر باپ بیٹے کے درمیان اختلافات سامنے آئے ، بلاول فریال تالپور کو اضافی اختیارات دینے پر بھی والد سے نالاں تھے، پنجاب میں حالیہ تعیناتیوں پر بلاول خوش نہیں تھے، ذرائع

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 7فروری۔2015ء) سابق صدر آصف علی زرداری اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرگئے کیونکہ سینٹ انتخابات میں ٹکٹ کی الاٹمنٹ کے حوالے سے بلاول بھٹو زرداری منظر پر نہیں ہیں ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پارٹی میں اعلیٰ سطح اندرونی اختلافات نے آصف علی زرداری کو شدید دھچکا پہنچایا ہے کیونکہ بلاول بھٹو زرداری سکیورٹی خدشات کی وجہ سے ملک کے بڑے انتخابی ایونٹ (سینٹ ) سے دور ہیں ۔

سینٹ الیکشن کے امیدواروں کے انٹرویو قریب آتے ہی پارٹی اختلافات بھی سامنے آئے ہیں کیونکہ بلاول اپنی پارٹی سے نئے چہروں کی نمائندگی میں دلچسپی نہیں لے رہے پاکستان پیپلز پارٹی کے اکیس سینئر سینیٹر رکنیت سے فارغ ہو جائینگے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ پیپلز پارٹی نے مختلف اضلاع میں کنونشن کا انعقاد کرکے پنجاب میں پارٹی کو فعال کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم اس بڑے فیصلے کے پیچھے بلاول کی مرضی نظر نہیں آرہی ہے کیونکہ قبل ازیں انہوں نے اپنے طور پر پارٹی کی تنظیم نو میں دلچسپی ظاہر کی تھی پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ سے بات چیت کے بعد یہ تاثر ابھرا ہے کہ بلاول بھٹو نے اپنی خواہشات کے برعکس پارٹی معاملات کو دیکھتے ہوئے پنجاب میں پارٹی معاملات سے ہاتھ کھینچ لیا ہے یہاں تک کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو بھی یقین نہیں ہے کہ وہ کب وطن واپس آئینگے ۔

بلاول بھٹو زرداری جو کئی ماہ سے برطانیہ میں مقیم ہیں انہوں نے پارٹی کے یوم تاسیس میں بھی شرکت نہیں کی اور آصف علی زرداری بھی انہیں منانے کیلئے لندن گئے تھے تاہم انہیں منانے میں ناکام رہے اگرچہ بلاول کی غیر حاضری کے پیچھے سکیورٹی خدشات کا حوالہ دیا گیا ہے تاہم کئی مہینوں کی غیر حاضری نے ان کے اور ان کے والد کے درمیان اختلافات کو ہوا دی ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول پارٹی میں نئے چہروں کو شامل کرکے پارٹی کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا چاہتے تھے تاہم بعض پارٹی اراکین نے ان کے فیصلے کی مخالفت کی تھی اور وہ پھر پارٹی امور سے باہر رہے ۔

تھرپارکر بحران پر بدانتظامی پر وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اور صوبائی ڈپٹی سیکرٹری جنرل منظرو وسان کو شوکاز نوٹس جاری ہونے پر باپ بیٹے کے درمیان اختلافات سامنے آئے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول اپنی پھوپھی فریال تالپور کو اضافی اختیارات دینے پر بھی والد سے نالاں تھے ۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پنجاب میں حالیہ تعیناتیوں پر بلاولس خوش نہیں تھے ۔

07-02-2015 :تاریخ اشاعت