سانحہ شکارپور کے ماسٹر مائنڈ کا پتہ لگا لیا‘ فی الوقت نام نہیں بتاسکتے‘ چوہدری ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ فروری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-07
تاریخ اشاعت: 2015-02-07
تاریخ اشاعت: 2015-02-07
تاریخ اشاعت: 2015-02-07
تاریخ اشاعت: 2015-02-07
تاریخ اشاعت: 2015-02-07
تاریخ اشاعت: 2015-02-07
تاریخ اشاعت: 2015-02-07
پچھلی خبریں -

اسلام آباد

تلاش کیجئے

سانحہ شکارپور کے ماسٹر مائنڈ کا پتہ لگا لیا‘ فی الوقت نام نہیں بتاسکتے‘ چوہدری نثار، 2001ء سے لے کر اب تک ہونے والے ہر خون کا بدلہ لیں گے‘ دہشت گردی کے کینسر کو ختم کر کے دم لیں گے‘ دہشت گردی کے سانحات پر تفریق کی بجائے اتحاد کا مظاہرہ کیا جائے‘ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے تمام صوبوں کو ہر طرح کا تعاون دینے کیلئے تیار ہوں گے ‘ ۔ وزیر داخلہ کی قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے بعد شکار پور سانحہ بارے وضاحت ،جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم نے وفاقی حکومت کے اقدامات کو سرا ہا، مزید اقدامات اٹھانے پر زور، پیپلزپارٹی کا وفاقی حکومت کی جانب سے شکار پور کے لواحقین کے لئے پیکیج دینے کا مطالبہ

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 7فروری۔2015ء)وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ سانحہ شکار پور کے پیچھے کارفرما دہشت گردوں تک پہنچ چکے‘ سانحہ کے ماسٹر مائنڈ کا پتہ لگا لیا ہے فی الوقت نام نہیں بتا سکتا‘ 2001ء سے لے کر اب تک ہونے والے ہر خون کا بدلہ لیں گے‘ پشاور اور شکار پور کے شہدا سمیت تمام شہیدوں کے لواحقین کو یقین دلاتے ہیں کہ دہشت گردی کے کینسر کو ختم کر کے دم لیں گے‘ دہشت گردی کے سانحات پر تفریق کی بجائے اتحاد کا مظاہرہ کیا جائے‘ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جس حد تک سندھ سمیت دیگر صوبے وفاقی حکومت سے تعاون مانگیں گے دینے کیلئے تیار ہوں گے ‘ دہشت گردی کا خاتمہ کسی ایک صوبائی حکومت نہیں سب کی ذمہ داری ہے جسے ختم کر کے دم لیں گے۔

جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم نے وفاقی حکومت کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ مزید اقدامات کی ضرورت ہے جبکہ پیپلزپارٹی نے وفاقی حکومت کی جانب سے شکار پور کے لواحقین کے لئے پیکیج دینے کا مطالبہ کر دیا‘ عبدالستار باچانی نے کہا کہ وفاقی حکومت سندھی بھائیوں کے ساتھ زیادتی نہ کرے صرف ایک وفاقی وزریر متاثرہ ضلع میں گیا جس سے احساس محرومی بڑھ رہا ہے۔ جمعہ کے روز قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے بعد وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے شکار پور سانحہ بارے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے قطعی طور پر نہیں کہا کہ یہ سانحہ سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ایک گھمبیر نیٹ ورک ہے جو سالہا سال سے بنا ہے جس کو ختم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے تمام حکومتوں انٹیلی جنس شیرنگ سمیت تمام اقدامات اٹھا رہے ہیں اور دہشت گردی کا خاتمہ کسی ایک صوبہ کا مسئلہ یا ذمہ دار ی نہیں ہے ہم سب ملکر اس کو ختم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد کا سرضرور ملا ہے مگر وہ اتنی بری حالت میں ہے کہ اس کی شناخت نہیں ہو سکتی اور نہ ہی پاؤں سے تصدیق ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک دہشت گرد کی انگلی ملی ہے جس سے تصدیق کرنا تھی جو ناممکن ہے مگر انٹیلی جنس کے حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے جبکہ خودکش حملہ کرنے والے کے کپڑوں کو لینے والے کی تصدیق بھی ہوئی ہے‘ انہوں نے کہا انٹیلی جنس کے ذریعے بہت پیش رفت ہوئی ہے اور ماسٹر مائنڈ بارے معلومات مل چکی ہیں مگر فی الوقت اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا اگر اس کی تشہیر کر دی جائے تو پھر دہشت گرد کہیں بھاگنے میں کامیاب نہ ہو جائیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سانحہ کے پیچھے کارروائی کرنے والے عناصر کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی پیش رفت ہو گی اس بارے ایوان کو آگاہ کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ سانحہ پشاور کے بعد شہید بچوں کے لواحقین کی سسکیاں پورا ملک محسوس کر رہا ہے انہوں نے کہا کہ سانحہ پشاور کے شہیدوں لواحقین رشتہ داروں کی آواز پوری دنیا نے محسوس کی ہے‘ پاکستانی قوم‘ حکومت اس واقعہ کو کسی صورت

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

07-02-2015 :تاریخ اشاعت