دہشت گردی صوبائی یا قومی نہیں بلکہ بین الاقوامی مسئلہ ہے ، شاہ محمود قریشی،دہشت ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ فروری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-06
تاریخ اشاعت: 2015-02-06
تاریخ اشاعت: 2015-02-06
تاریخ اشاعت: 2015-02-06
تاریخ اشاعت: 2015-02-06
تاریخ اشاعت: 2015-02-06
تاریخ اشاعت: 2015-02-06
تاریخ اشاعت: 2015-02-06
تاریخ اشاعت: 2015-02-06
تاریخ اشاعت: 2015-02-06
تاریخ اشاعت: 2015-02-06
پچھلی خبریں - مزید خبریں

تلاش کیجئے

دہشت گردی صوبائی یا قومی نہیں بلکہ بین الاقوامی مسئلہ ہے ، شاہ محمود قریشی،دہشت گردی کی جنگ میں کے پی کے نے بہت بھاری قیمت ادا کی ہے،صرف کے پی کے کی حد تک الیکشن میں حصہ لیں گے باقی صوبوں اور مرکز میں ہمارے ممبر سینیٹ الیکشن میں حصہ نہیں لیں گے،دھرنا ختم ہوا ہے لیکن اپنے مئوقف پرابھی تک ڈٹے ہوئے ہیں ،سانحہ پشاور پر قومی یکجہتی کیلئے وقفہ دیا ہے ہم نے ریاست کے مفاد کیلئے سیاست کی قربانی دی ہے لیکن ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں سے دھرنا چھوڑا تھا،سانحہ شکار پور و پشاور کی ذمہ دار وفاقی حکومت ہے وہ اپنی ناکامیاں دوسروں کے کھاتے میں نہ ڈالے،خود مختار جوڈیشل کمیشن کی تحقیقات کے نتیجے میں شفاف الیکشن اور انتخابی اصلاحات سے کسی کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ صحافیوں سے گفتگو

جہانیاں (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔6فروری۔2015ء) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ دہشت گردی صوبائی یا قومی نہیں بلکہ بین الاقوامی مسئلہ ہے ،دہشت گردی کی جنگ میں کے پی کے نے بہت بھاری قیمت ادا کی ہے،صرف کے پی کے کی حد تک الیکشن میں حصہ لیں گے باقی صوبوں اور مرکز میں ہمارے ممبر ووٹ سینیٹ الیکشن میں حصہ نہیں لیں گے، وزیر اعظم سانحہ پشاور پر کے پی کے کے دورے پر پہنچ گئے لیکن شکار پور امام بارگاہ دھماکے پر سندھ کیوں نہ گئے،دھرنا ختم ہوا ہے لیکن اپنے مئوقف پرابھی تک ڈٹے ہوئے ہیں ،سانحہ پشاور پر قومی یکجہتی کیلئے وقفہ دیا ہے ہم نے ریاست کے مفاد کیلئے سیاست کی قربانی دی ہے لیکن ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں سے دھرنا چھوڑا تھا،سانحہ شکار پور و پشاور کی ذمہ دار وفاقی حکومت ہے وہ اپنی ناکامیاں دوسروں کے کھاتے میں نہ ڈالے،خود مختار جوڈیشل کمیشن کی تحقیقات کے نتیجے میں شفاف الیکشن اور انتخابی اصلاحات سے کسی کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار پی ٹی آئی کے رہنما و سابق ممبر قومی اسمبلی جہانیاں ملک غلام مرتضیٰ کے بھائی ملک شیرن خان کی وفات پر فاتحہ خوانی کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ 2013ء کے الیکشن کی شفاف تحقیقات چاہتے ہیں یہ کسی کا ذاتی یا جماعت کا مسئلہ نہیں ہے یہ ایک قومی مسئلہ ہے جو بھی جمہوریت کا دعویدار یا علمبردار ہے وہ شفاف انتخابات کے حق میں ہوگا اور شفاف الیکن کے لیے خود مختار الیکشن کمیشن کا معرض وجود میں آنا اور انتخابی اصلاحات ہوناضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف اپنی تحریک میں اس حد تک تو کامیاب ہو چکی ہے کہ انتخابی اصلاحات پرقومی اتفاق رائے ہو چکا ہے اور ایک کمیٹی تشکیل پا چکی ہے جو موجودہ قوانین کو دیکھ کر اس میں اصلاحات تجویز کررہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ایک جوڈیشل کمیشن بھی بن جائے جو کہ بااختیار ہوجو کہ مقررہ وقت میں قوم کو بتائے کہ 2013ء کے الیکشن میں کیا ہوا ہم اس کے نتائج قبول کر لیں گے چاہے وہ ہماری توقعات کے برعکس ہوں اور اس تحقیقات کی بنیاد پر آنے والے الیکشن ہوں شفاف الیکشن اور انتخابی اصلاحات میں کسی کا کوئی نقصان نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت باختیار جوڈیشل کمیشن مقرر کرنے پر ہچکچاہٹ کا شکار ہے حکومت چاہتی ہے کہ جوڈیشل کمیشن باختیار نہ ہو ایسا کمیشن

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

06-02-2015 :تاریخ اشاعت