سینٹ کابینہ سیکرٹریٹ کمیٹی نے چین،کیوبا او ردوسرے ملکوں سے میڈیکل کی تعلیم حاصل ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات فروری

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-05
تاریخ اشاعت: 2015-02-05
تاریخ اشاعت: 2015-02-05
تاریخ اشاعت: 2015-02-05
تاریخ اشاعت: 2015-02-05
تاریخ اشاعت: 2015-02-05
تاریخ اشاعت: 2015-02-05
تاریخ اشاعت: 2015-02-05
پچھلی خبریں -

اسلام آباد

تلاش کیجئے

سینٹ کابینہ سیکرٹریٹ کمیٹی نے چین،کیوبا او ردوسرے ملکوں سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنیوالے ہزاروں طلبہ کا مستقبل تاریک کرنے کا ذمہ دار پی ایم ڈی سی کو قراردیدیا، وزیراعظم سے ملاقات کرکے کارروائی کرانے کافیصلہ،وزارت قانون ، وزارت ، پی ایم ڈی سی کا ون پوائنٹ ایجنڈا اجلاس منعقدکرنے پر اتفاق،چیئرپرسن کمیٹی نے این ٹی ایس کو دھاندلی قراردیدیا،ادارہ کا آڈٹ نہ ہونے پر اعتراض

اسلام آباد( اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔5فروری۔2015ء )سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے اجلاس میں چین ، کیوبا اوردوسرے ممالک سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والے ہزاروں طلبہ کو پی ایم ڈی سی کی طرف سے رجسٹرڈ نہ کرنے پر کمیٹی نے ہزاروں طلبہ کے مستقبل کوتاریک بنانے کا ذمہ دار پی ایم ڈی سی کو قرار دیتے ہوئے فیصلہ کیا کہ کمیٹی وزیراعظم سے ملاقات کر کے پی ایم ڈی سی کے لا محدود اختیارات کے حوالے سے آگاہ کرنے کے علاوہ ادارہ کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کرے گی، چیئرپرسن سینیٹر کلثوم پروین نے این ٹی ایس ٹیسٹ کو دھاندلی قرار دیا اور کہا کہ کروڑوں روپے جمع کرنیوالے ادارے کا کوئی سرکاری آڈٹ نہیں ہوتا ۔

اجلاس میں متفقہ فیصلہ کیا گیا بیرون ملک سے ڈگری حاصل کرنے والے ڈاکٹروں کا معاملہ حل کرنے کے لئے وزارت قانون ، وزارت صحت ، پی ایم ڈی سی کا ون پوائنٹ ایجنڈا اجلاس منعقد کیا جائے گا۔کمیٹی کا اجلاس بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹر کلثوم پروین کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں چین کیوبا ، ملائیشیا اور دوسرے ممالک سے پانچ سال کی میڈیکل تعلیم مکمل کرنے والے طلبہ و طالبات بھی موجود تھے جنہیں پی ایم ڈی سی کے 2012 کے حکم نامے کے تحت سرکاری ہسپتالوں میں ہاؤس جاب کرنے سے روک دیا گیا ہے۔

چیئرپرسن سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ پی ایم ڈی سی سربراہ کے بغیر چل رہا ہے ۔سیکرٹری وزارت صحت پی ایم ڈی سی کی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتے جس کی وجہ سے والدین کے لاکھوں روپے خرچ کر کے بیرون ملک سے ڈگری لینے والے طلبہ کا مستقبل تاریک بنا دیا گیا ہے اور کہا کہ کسی بھی مہذب معاشرے کو کوئی بھی شخص اپنے بچوں کے مستقبل کا تباہ کرنے کا سو چ بھی نہیں سکتا لیکن پی ایم ڈی سی نے دوہرا معیار قائم کر رکھا ہے ایک طرف طلبہ کی ڈگری منظور کی جارہی ہے اور دوسری طرف پی ایم ڈی سی سے ہی این او سی لے کر بیرون ملک سے تعلیم مکمل کرنے والے ڈاکٹروں کی ڈگریاں نہیں مانی جا رہی ہیں۔

پی ایم ڈی سی کے لیگل افسر نے کہا کہ پی ایم ڈی سی کے 2012 کے حکم نامے اور عدالتی فیصلے کے بعد ڈگریاں تسلیم نہیں کی جارہیں، وزارت قانون کے مشیر حاکم خان نے آگاہ کیا کہ قانون کے مطابق پہلے سے دی گئی سہولت کو دوسرے حکم کے تحت ختم نہیں کیا جاسکتا 2012 کا حکم نامہ بیرون ملک سے تعلیم حاصل کرنے والوں پر لاگونہیں ہوتا ،وزارت قانون نے بھی طلبہ کے حق میں رائے دی ہے۔ سینیٹر باز محمد نے کہا کہ وزات صحت پی ایم ڈی سی درمیانی راستہ نکال کر طلبہ کے مستقبل کے بارے میں اچھا فیصلہ کرے وزارت صحت وزارت قانون پی ایم ڈی سی کا مشترکہ اجلاس بلا کر مسئلہ حل کیا جائے ۔

سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد سپریم کورٹ نے طلبہ کے حق میں فیصلہ دیا پی ایم ڈی سی ظلم سے باز رہ کر طلبہ کو رجسٹرڈ کرے۔ سینیٹر سعیدہ اقبال نے کہا کہ پی ایم ڈی سی مقدس گائے نہیں طلبہ کے مستقبل کو تباہ کرنیوالے ادارے کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے ۔سینیٹر ہمایوں مندوخیل نے کہا کہ طلبہ قوم کی خدمت کرنے کے خواہشمند ہیں مسئلہ حل کیا جائے۔ کمیٹی اراکین نے رائے دی کہ سینیٹر باز محمد کی تجویز پر عمل کر کے طلبہ سے خصوصی امتحان لے لیا جائے جس کی کمیٹی میں موجود طلبہ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

05-02-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان