سپریم کورٹ نے اسلام آباد کے رہائشی علاقوں سے سکیورٹی کے نام پر تجاوزات اور رکاوٹوں ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات فروری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-05
تاریخ اشاعت: 2015-02-05
تاریخ اشاعت: 2015-02-05
تاریخ اشاعت: 2015-02-05
تاریخ اشاعت: 2015-02-05
تاریخ اشاعت: 2015-02-05
تاریخ اشاعت: 2015-02-05
تاریخ اشاعت: 2015-02-05
تاریخ اشاعت: 2015-02-05
تاریخ اشاعت: 2015-02-05
تاریخ اشاعت: 2015-02-05
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

سپریم کورٹ نے اسلام آباد کے رہائشی علاقوں سے سکیورٹی کے نام پر تجاوزات اور رکاوٹوں کو ہٹانے کیلئے ٹائم فریم ما نگ لیا ،غیر ملکی سفارتخانوں کو رکاوٹیں ہٹانے کیلئے نوٹس جاری کرنے کا حکم، چیئرمین سی ڈی اے عدالت میں پیش ،سی ڈی اے کیٹگری وائز علاقوں کے کمرشل استعمال بارے رپورٹ بھی عدالت میں پیش کرے،سپریم کورٹ، قوانین کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دے سکتے کیا پاکستانی سفارتخانے بھی دوسرے ممالک میں اس طرح کی رکاوٹیں کھڑی کرسکتے ہیں، اگر سی ڈی اے تجاوزات ختم نہ کراسکی تو پھر عدالت خود حکم جاری کرے گی،جسٹس جواد ایس خواجہ کے ریمارکس

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔5فروری۔2015ء)سپریم کورٹ نے اسلام آباد کے رہائشی علاقوں سے سکیورٹی کے نام پر تجاوزات اور رکاوٹوں کو ہٹانے کیلئے ٹائم فریم مانگتے ہوئے غیر ملکی سفارتخانوں کو رکاوٹیں ہٹانے کیلئے نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا ہے ۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ سی ڈی اے غیر ملکی سفارتخانوں کو رکاوٹیں ہٹانے کا نوٹس جاری کرے بصورت دیگر مہلت ختم ہونے پر رکاوٹیں بلڈوزر کے ذریعے ہٹا دی جائیں ۔

یہ حکم جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں میں دو رکنی بینچ نے بدھ کے روز جاری کیا ہے ۔ عدالت نے سی ڈی اے کو رکاوٹیں ہٹانے کیلئے مزید وقت دینے سے انکار کردیا ہے ۔ چیئرمین سی ڈی اے عدالت میں پیش سی ڈی اے کیٹگری وائز علاقوں کے کمرشل استعمال بارے رپورٹ بھی عدالت میں پیش کرے ۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیا ہم اب بھی محکوم ہیں کہ غیر ملکی سفارتخانے سکیورٹی کی آڑ میں یا رکاوٹیں کھڑی کرکے لوگوں کیلئے مشکلات پیدا کررہے ہیں ان کو ڈپلومیٹک انکلیو جانے کیلئے کون کہے گا ۔

قوانین کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دے سکتے کیا بیرون ملک پاکستانی سفارتخانے بھی دوسرے ممالک میں اس طرح کی رکاوٹیں کھڑی کرسکتے ہیں سفارتخانوں کو نوٹس جاری کریں اور انہیں کہیں آپ ڈپلومیٹک انکلیو منتقل ہوجائیں اگر سی ڈی اے تجاوزات ختم نہ کراسکی تو پھر عدالت خود حکم جاری کرے گی ۔ آرٹیکل 190کے تحت تمام ادارے سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کے پابند ہیں جبکہ سرمد جلال عثمانی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ غیر ملکی سفارتخانوں کو رکاوٹیں ہٹانے کیلئے ایک ہفتے کا مہلت دیا جائے اگر وہ رکاوٹیں نہیں ہٹاتے تو سی ڈی اے ازخود وہ رکاوٹیں بلڈوز کرکے رکاوٹیں ہٹا دیں ۔

انہوں نے یہ ریمارکس گزشتہ روز دیئے ہیں ۔ سماعت شروع ہوئی تو چیئرمین سی ڈی اے معروف افضل اپنے وکیل ایس اے رحمان کے ذریعے پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ رہائشی علاقوں کے سفارتخانوں کو وزارت خارجہ کے ذریعے نوٹسز بھیج دیئے ہیں اور ان کو

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

05-02-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان