بھارت سے مذاکرات مسئلہ کشمیر کو ایجنڈے میں شامل کئے بغیر نہ ہوں گے‘سرتاج عزیز، ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات فروری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-05
تاریخ اشاعت: 2015-02-05
تاریخ اشاعت: 2015-02-05
تاریخ اشاعت: 2015-02-05
تاریخ اشاعت: 2015-02-05
تاریخ اشاعت: 2015-02-05
تاریخ اشاعت: 2015-02-05
تاریخ اشاعت: 2015-02-05
تاریخ اشاعت: 2015-02-05
تاریخ اشاعت: 2015-02-05
تاریخ اشاعت: 2015-02-05
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:36 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:38 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:39 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 10:35:10 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 اسلام آباد کی مزید خبریں

تلاش کیجئے

بھارت سے مذاکرات مسئلہ کشمیر کو ایجنڈے میں شامل کئے بغیر نہ ہوں گے‘سرتاج عزیز، ہندوستان کیساتھ برابری کی سطح پر مذاکرات کے خواہاں ہیں‘ چھوٹے سے معاملے پر واویلا کرکے بھارت نے خود مذاکرات ختم کئے‘ اوباما بھی بھارت پر دباؤ بڑھاچکے ہیں کہ مذاکرات شروع کرے‘ 31 دسمبر تک افغان مہاجرین پاکستان میں رہ سکتے ہیں‘ سعودی عرب میں مختلف جرائم میں 1492 پاکستانی قید ہیں ،قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات، اب جی ایس پی پلس بارے خدشات دور ہونے چاہئیں‘ بھارت سے 138 اشیاء واہگہ بارڈر کے ذریعے ٹرکوں پر درآمدکی جاتی ہیں‘ خرم دستگیر، 19 کمیونٹی اتاشی بیرون ملک تعینات ہیں ،سعودی عرب اور یو اے ای میں دو دو اتاشی تعینات ہیں تاکہ والی لیبر کے حقوق کا تحفظ کیا جاسکے،ریاض پیرزادہ،اقدامات کر رہے ہیں، ٹیکسٹائل انڈسٹری میں توانائی بحران نہیں آئے گا،عباس آفریدی

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔5فروری۔2015ء) وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور و قومی سلامتی سرتاج عزیز نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ بھارت کیساتھ مذاکرات مسئلہ کشمیر کو ایجنڈے میں شامل کئے بغیر شروع نہیں ہوں گے‘ ہندوستان کیساتھ برابری کی سطح پر مذاکرات کے خواہاں ہیں‘ ایک چھوٹے سے معاملے پر واویلا کرتے ہوئے بھارت نے خود مذاکرات ختم کئے‘ امریکی صدر باراک اوباما بھی بھارت پر دباؤ بڑھاچکے ہیں کہ مذاکرات شروع کرے‘ افغانستان کیساتھ تعلقات بہتر ہورہے ہیں‘ 31 دسمبر 2015ء تک افغان مہاجرین پاکستان میں رہ سکتے ہیں‘ مہاجرین کی واپسی کیلئے اقوام متحدہ سے بھی رابطے میں ہیں امید ہے دسمبر تک افغان مہاجرین کی بڑی تعداد وطن واپس لوٹ جائے گی‘ سعودی عرب میں مختلف جرائم میں 1492 پاکستانی قید ہیں جن میں 40 فیصد سنگین جرائم میں ملوث ہیں‘ وزیر تجارت خرم دستگیر نے بتایا کہ یورپی منڈیوں تک رسائی وفاقی حکومت کا اہم اقدام ہے‘ دس ماہ میں 1.08 ارب ڈالر برآمدات کا حجم بڑھنا ہے اب جی ایس پی پلس بارے خدشات دور ہونے چاہئیں‘ بھارت سے 138 اشیاء واہگہ بارڈر کے ذریعے ٹرکوں پر درآمدکی جاتی ہیں‘ توازن کی پالیسی کے تحت زرعی اجناس ہندوستان سے درآمد کرتے ہیں‘ زرعی اور تجارتی شعبے کا تحفظ ہر صورت میں ممکن بنائیں گے جبکہ وزیر بین الصوبائی رابطہ کے وزیر ریاض حسین پیرزادہ نے بتایا کہ 19 کمیونٹی اتاشی بیرون ملک تعینات ہیں جبکہ سعودی عرب اور یو اے ای میں دو دو اتاشی تعینات ہیں تاکہ وہاں بڑی تعداد میں کام کرنے والی لیبر کے حقوق کا تحفظ کیا جاسکے۔

بدھ کے روز تلاوت کلام پاک کے بعد وقفہ سوالات کے دوران وزیر ٹیکسٹائل عباس خان آفریدی نے ایوان کو بتایا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری میں توانائی بحران نہیں آئے گا اور اس سلسلے میں اقدامات کئے جارہے ہیں۔ عائشہ سید کے سوال کے جواب میں وزیر سرحدی علاقہ جات عبدالقادر بلوچ نے ایوان کو بتایا کہ مساجد کی تعمیرو مرمت کی ذمہ داری سرکار پر عائد ہوتی ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی ذمہ داری حکومت پر ہے۔ ایک ضمنی سوال کے جواب میں وفاقی وزیر سرحدی علاقہ جات نے ایوان کو بتایا کہ سرکاری سطح پر اگر مساجد تعمیر کرنے کی قانون سازی ہوجائے یا ایسا کوئی قانون بن جائے تو بطور وزارت ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

بیلم حسنین کے سوال کے جواب میں وزیر تجارت خرم دستگیر نے ایوان کو بتایا کہ پین ملائیشیاء اور سری لنکا کیساتھ بہتر تجارتی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ گڈز کے حوالے سے پاک چین ایف ٹی اے یکم جولائی 2007ء سے کام کررہا ہے اور سروسز کے حوالے سے معاہدہ 10 اکتوبر 2009ء سے کام کررہا ہے۔ ایف ٹی اے کا پہلا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے اور ایف ٹی اے کے دوسرے مرحلے کیلئے بات چیت جاری ہے۔ اب تک اس سلسلے میں تین اجلاس منعقد ہوچکے ہیں۔

مسرت رفیق مہیر کے سوال کے جواب میں ایوان کو بتایا کہ موجودہ حکومت کے دور کے بعد یورپی یونین کی منڈیوں تک رسائی حاصل ہوگئی ہے اور پاکستانی برآمدات میں اضافہ ہورہا ہے۔ ایم کیو ایم کے رکن آصف حسنین کے سوال کے جواب میں خرم دستگیر نے ایوان کو بتایا کہ فشرریز ہاربر کی حالت درست نہیں ہے جبکہ یہ میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ کے پاس ہے البتہ حکومت اس سلسلے میں بہتر اقدامات کررہی ہے۔ انہوں نے تحریری سوال کے جواب میں ایوان کو بتایا کہ سمندری غذا یورپین یونین کے کن ممالک کو برآمد کی جارہی ہے۔

جنوری تا ستمبر 2014ء کیلئے بی آئی اعدادو شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپی یونین کو 2.47 میں یو ایس ڈالر کی برآمد کی گئی اس سے 2013ء میں اسی عرصے کے دوران 2.12 ملین یو ایس ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ مزمل قریشی کے سوال کے جواب میں وزیر بین الصوبائی رابطہ ریاض فیض پیرزادہ نے کہا کہ اتاشی کی تعیناتی بارے نیا سوال دیا جائے اور اوورسیز پاکستانیز پر ووٹ کی پابندی قومی فیصلہ ہے۔ ایک ضمنی سوال پر ابوظہبی‘ دبئی‘ جدہ‘ جدہ ٹو‘ ریاض‘ نیویارک اور سیئول سمیت 19 ممالک میں کمیونٹی ویلفیئر اتاشی تعینات ہیں جبکہ سعودی عرب اور یو اے ای میں دو دو اتاسی اسی لئے تعینات ہیں کہ سب سے زیادہ پاکستانی لیبر بھی وہاں ہی کام کررہی ہے اسلئے ان ممالک میں دو دو اتاشی تعینات کئے گئے۔

مزمل قریشی کی سوال کے جواب میں ایوان کو بتایا گیا کہ گذشتہ پانچ سالوں کے دوران پاکستان نے انڈونیشیاء سے ترجیحی تجارتی معاہدے پر دستخط کئے گئے جوکہ ستمبر 2013ء سے فعال ہے۔ پی ٹی اے سے قبل بھی گذشتہ کئی سالوں تک انڈونیشیاء سے پاکستان کا تجارتی توازن منفی رہا۔ یہ رحجان مسلسل اسی طرح رہے گا کیونکہ انڈونیشیاء سے خصوصاً پام آئل کی درآمدات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کی تجارتی شعبے کے تحفظ کیلئے ہر قسم کی قانونی چارہ جوئی کرے گی تاکہ تجارت کو فروغ اور تحفظ دیا جاسکے۔



اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

05-02-2015 :تاریخ اشاعت