ممتاز قادری کی اپیل پر سماعت جمعہ تک ملتوی،گستاخ رسول کی توہین پر کوئی دلائل ہو ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات فروری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-05
تاریخ اشاعت: 2015-02-05
تاریخ اشاعت: 2015-02-05
تاریخ اشاعت: 2015-02-05
تاریخ اشاعت: 2015-02-05
تاریخ اشاعت: 2015-02-05
تاریخ اشاعت: 2015-02-05
تاریخ اشاعت: 2015-02-05
تاریخ اشاعت: 2015-02-05
تاریخ اشاعت: 2015-02-05
تاریخ اشاعت: 2015-02-05
پچھلی خبریں -

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:14 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:15 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:18 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:19 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:54 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:56 اسلام آباد کی مزید خبریں

تلاش کیجئے

ممتاز قادری کی اپیل پر سماعت جمعہ تک ملتوی،گستاخ رسول کی توہین پر کوئی دلائل ہو ہی نہیں سکتے کیونکہ شان رسالت میں توہین کی گنجائش ہی نہیں ہے، خواجہ محمد شریف کے دلائل

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔5فروری۔2015ء) اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق گورنر پنجاب سلیمان تاثیر قتل کیس میں سزایافتہ ممتاز قادری کی اپیل کی سماعت درخواست گزار کے وکلاء کے دلائل مکمل نہ ہونے پر جمعہ کے روز تک ملتوی کردی۔ ابتدائی سماعت کے دوران درخواست گزار ممتاز قادری کے وکیل سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ خواجہ محمد شریف‘ جسٹس (ر) میاں نذیر اختر اور فاروق کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل میاں عبدالرؤف عدالت میں پیش ہوئے۔

جسٹس نور الحق این قریشی اور جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر مشتمل دویژن بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ ابتدائی سماعت کے دوران خواجہ محمد شریف نے عدالت میں اپنے موکل کے حق میں دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ سابق گورنر پنجاب سلیمان تاثیر قتل کیس کا موقع پر موجود کوئی گواہ نہیں ہے۔ پولیس کی جانب سے ممتاز قادری پر دفعہ سیکشن 6/ATA کی لگائی گئی دفعات آئینی طور پر نہیں لگ سکتیں۔ پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہوا ہے۔

قانون کے مطابق فیصلے ہونے چاہئیں۔ سابق گورنر توہین رسالت قانون کے مرتکب ہوئے جس کی بناء پر انہیں سرکاری محافظ نے ذاتی حیثیت میں قتل کیا۔ سابق گورنر شراب نوشی وغیرہ بھی کرتے تھے اور سکھ عورت سے شادی کر رکھی تھی۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے خواجہ محمد سریف سے استفسار کیاکہ سابق گورنر پر لگائے گئے الزامات کے ثبوت کیا ہیں۔ خواجہ محمد شریف نے عدالت کو بتایا کہ سابق گورنر پنجاب کے توہین رسالت کے قانون کے متعلق کہے گئے الفاظ اور شراب نوشی اور سور جیسی حرام چیزیں کھانے کی رپورٹس اخبارات میں شائع ہوئی ہیں۔

عدالت نے کہا اخبارات کی رپورٹس پر یقین نہیں کیا جاسکتا‘ خواجہ محمد شریف نے الیکٹرانک و یونٹ میڈیا کی خبروں کا حوالہ دیا جس پر جسٹس نور الحق این قریشی نے کہاکہ اخباری رپورٹس پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ۔ خواجہ محمد شریف نے کہا کہ عدالت قرآن و سنت کے مطابق بنائے گئے قانون پر عمل کرے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا گستاخ رسول کی توہین پر کوئی دلائل ہو ہی نہیں سکتے کیونکہ شان رسالت میں توہین کی گنجائش ہی نہیں ہے۔

خواجہ محمد شریف نے اپنے موکل کے حق میں مزید دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ ملزم ممتاز قادری نے جو پولیس اور مجسٹریٹ کو اپنا بیان ریکارڈ کرایا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ممتاز قادری نے تسلیم کیا ہے کہ ایک دفعہ اس نے دعوت اسلامی جس کے سربراہ مولانا الیاس عطار قادری میں وہاں پرموجود ایک بڑے عالم مفتی محمد حنیف قریشی نے تقریر کے دوران غازی علم الدین شہید اور حضرت بلال کی شہادت

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

05-02-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان