امریکی صدر نے کانگریس سے 51 ارب ڈالر کا ’وار فنڈ‘ مانگ لیا، داعش سمیت مختلف ملکوں ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ فروری

مزید بین الاقوامی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-04
تاریخ اشاعت: 2015-02-04
تاریخ اشاعت: 2015-02-04
تاریخ اشاعت: 2015-02-04
تاریخ اشاعت: 2015-02-04
تاریخ اشاعت: 2015-02-04
تاریخ اشاعت: 2015-02-04
-

تلاش کیجئے

امریکی صدر نے کانگریس سے 51 ارب ڈالر کا ’وار فنڈ‘ مانگ لیا، داعش سمیت مختلف ملکوں میں پْرتشدد انتہا پسندی او انسداد دہشت گردی کے لیے بھی کثیر رقوم مختص ،’وار فنڈز‘ میں کٹوتی امریکا کی عسکری قوت پر اثر انداز ہو سکتی ہے،اوباما انتظا میہ

واشنگٹن ( اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔ 5فروری۔2015ء ) مشرق وسطی اور یوکرین میں نئے سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنے والی امریکی انتظامیہ نے سال 2016ء کے لئے 534 بلین ڈالر پینٹاگان بیس میزانیے کی مد میں تجویز کئے ہیں۔یہ میزانیہ تجویز کرتے وقت کانگریس سے 51 ارب ڈالرز مالیت کے 'وار فنڈز' کی منظوری کی بھی درخواست کرتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ اس مد میں کٹوتی امریکا کی عسکری قوت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔پینٹاگان بیس بجٹ اور وار فنڈنگ کے علاوہ امریکی انتظامیہ نے بجٹ 2016ء میں دیگر ایجنسیوں کے لئے 27 ارب ڈالر مالیت کے دفاعی اخراجات کی بھی کانگریس سے منظوری چاہی ہے۔

یہ اخراجات امریکا کے توانائی ڈیپارٹمنٹ میں ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کی مد میں درکار ہیں۔تفصیلات کے مطابق مالی سال 2016ء کے لیے مجوزہ امریکی بجٹ میں پاکستان کے اعانتی فنڈ کے لیے 80 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی رقوم مانگی گئی ہیں، جِن میں 53 کروڑ اور 40 لاکھ ڈالر سویلین مد میں، جب کہ 27 کروڑ سلامتی کی مد میں تجویز کیے گئے ہیں۔اِن رقوم کی نشاندہی معاون وزیر برائے انتظامی اور وسائل کے امور، ہیتھر ہجنباٹم اور ’یو ایڈ‘ کے منتظم، راجیو شاہ نے ایک مشترکہ اخباری بریفینگ کے دوران کی۔

اس سے قبل، نئے مالی سال کی بجٹ تجاویز کا تفصیلی خاکہ، صدر براک اوباما نے پیش کیا۔درایں اثنا مجوزہ نئے بجٹ میں افغانستان کے لیے اعانتی فنڈ کی مالیت 1.5 ارب ڈالر رکھی گئی ہے، جس میں سے 12 لاکھ ڈالر سکیورٹی، جبکہ باقی ماندہ رقم سویلین امداد کی مد میں ہو گی۔ علاوہ ازیں، افغانستان کے ہی حوالے سے، ایک ارب ڈالر امریکی آپریشنز کے لیے مختص کیے جانے کی درخواست کی گئی ہے۔محکمہ خارجہ میں منعقدہ اس مشترکہ نیوز بریفنگ میں اْن کے پوچھا گیا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے لیے، سال 2016ء کے نئے بجٹ میں اعانتی فنڈ کے ضمن میں کیا رقوم تجویز کی گئی ہیں۔

ایک ضمنی سوال پر، ترجمان نے بتایا کہ مالی مشکلات کے باعث، گذشتہ سال کے مقابلے میں، اس برس پاکستان کے لیے 10 فی صد کم رقوم تجویز کی گئی ہیں، جو درخواست کم استعدادی ضروریات کو مدنظر رکھ کر کی گئی ہے۔بجٹ تجاویز کو ریپبلیکن نمائندگان کی اکثریت والے کانگریس سے منظوری درکار ہو گی۔اِسی طرح، ترجمان نے کہا کہ داعش، اور مختلف ملکوں میں پْرتشدد انتہا پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے کثیر رقوم رکھی گئی ہیں۔

ساتھ ہی، ترجمان نے بتایا کہ اس کے بعد، سکیورٹی کے اعتبار سے،امریکا ایشیا بحرالکاہل کے علاقے کو ’کافی اہمیت دیتا ہے‘، جس کی کلیدی ضروریات کو پورا کیا جائے گا۔ادھر، داعش سے نبردآزما ہونے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں، جس سلسلے میں، نئے بجٹ میں تقریباً 3.5 ارب ڈالر کی رقوم تجویز کی گئی ہیں اس میں شام میں نقل مکانی کا بحران اور پناہ گزینوں کی لبنان اور اردن بھاگ نکلنے کے معاملوں کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے، جس سنگین صورت حال سے نمٹنے کے لیے ’کثیر رقوم درکار ہوں گی‘۔نئے مالی سال میں مصر کی معاشی امداد کا فنڈ 15 کروڑ ڈالر تجویز کیا گیا ہے؛ جب کہ 2015ء کے مالی اعداد و شمار کی حتمی منظوری باقی ہے، جبکہ سال 2014ء میں اس مد میں 20 کروڑ ڈالر رکھے گئے تھے۔

04-02-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان