محمد عامر کو انٹرنیشنل کرکٹ میں لانے کیلئے کوئی درخواست نہیں کی، شہریار خان، محمد ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل فروری

لاہور

تلاش کیجئے

محمد عامر کو انٹرنیشنل کرکٹ میں لانے کیلئے کوئی درخواست نہیں کی، شہریار خان، محمد عامر نے آئی سی سی کے تمام تقاضے پورے کئے اس لئے اسے رعایت ملی،عامر نے اپنی سزا کا دورانیہ تقریباً پورا کرلیا ہے ، ٹی میں جگہ بنانے کیلئے اسے خود کو منوانا ہوگا ، آئی سی سی نے پاکستانی کھلاڑیوں کے نظم وضبط کی تعریف کی ہے ، امید ہے پانچ سال میں انٹرنیشنل ٹیمیں پاکستان میں آنا شروع ہوجائینگی ،بھارتی کرکٹ بورڈ نے کہا ہے سیریز سے پہلے حکومت سے اجازت لینا ہوگی ، بنگلہ دیش پاکستان آنے پرآ مادہ نہیں ہے ، گورنر سندھ نے انٹرنیشنل ٹیموں کی سکیورٹی کی یقین دہانی کرائی ہے ، میڈیا سے گفتگو

لاہور( اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔3فروری۔2015ء) پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے کہا ہے کہ محمد عامر نے آئی سی سی کے تمام تقاضے پورے کئے اس لئے اسے رعایت ملی، عامر نے اپنی سزا کا دورانیہ تقریباً پورا کرلیا ہے ، ٹی میں جگہ بنانے کیلئے اسے خود کو منوانا ہوگا ، آئی سی سی نے پاکستانی کھلاڑیوں کے نظم وضبط کی تعریف کی ہے ، امید ہے پانچ سال میں انٹرنیشنل ٹیمیں پاکستان میں آنا شروع ہوجائینگی ،بھارتی کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ سیریز سے پہلے حکومت سے اجازت لینا ہوگی ، بنگلہ دیش پاکستان آنے پر مادہ نہیں ہے ، گورنر سندھ نے انٹرنیشنل ٹیموں کی سکیورٹی کی یقین دہانی کرائی ہے ۔

میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ سپاٹ فکسنگ کیس میں سزا پانے والے پاکستانی باؤلر محمد عامر نے اپنی سزا مکمل کر لی ہے۔ محمد عامر نے پی سی بی اور آئی سی سی کے ساتھ بھرپور تعاون کیا اور اس کا رویہ بہتر رہا۔ محمد عامر نے آئی سی سی کے تمام تقاضے پورے کئے اس لئے اسے رعایت ملی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی سی بی نے محمد عامر کو انٹرنیشنل کرکٹ میں لانے کیلئے کوئی درخواست نہیں کی۔ ایک سوال کا جواب دیتے چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ اس سال کچھ غیر ملکی ٹیمیں پاکستان کا دورہ کریں گی۔

خواہش ہے کہ نیپال اور نیدر لینڈ کی ٹیمیں پاکستان میں آکر کھیلیں جبکہ بھارت نے ایم او یو کے تحت دوبارہ کھیلنے کی یقین دہانی کر وا دی ہے۔ اْمید ہے کہ اگلے 5 سال میں تمام غیر ملکی ٹیمیں پاکستان میں آنا شروع ہو جائیں گی۔ چیئرمین شہریار خان نے کہا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کے سربراہ سری نواسن اور دیگر حکام سے فیوچر ٹور پروگرام پر بات کی تھی۔کیوں کہ کچھ عرصے سے پاک بھارت سیریز کے انعقاد کے حوالے سے چہ مگوئیاں ہورہی تھیں۔

ہم نے انہیں ایم او یو کے بارے میں یاددہانی کرائی۔بھارتی بورڈ کے حکام کا کہنا تھا کہ جب ہم نے ایم او یو پر دستخط کئے تھے اس وقت کانگریس کی حکومت تھی۔اب

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

03-02-2015 :تاریخ اشاعت