مخالفین کی گردن اڑانا خلاف اسلام ہے مصر کی افتاء کونسل نے فتویٰ دے دیا ،’داعش ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل فروری

مزید بین الاقوامی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
-

تلاش کیجئے

مخالفین کی گردن اڑانا خلاف اسلام ہے مصر کی افتاء کونسل نے فتویٰ دے دیا ،’داعش خوارج اور تاتاریوں کے نقش قدم پر چل رہی ہے‘،داعش کا مخالفین کو ظالمانہ طریقے سے ذبح کرنا غیر انسانی اور غیر اسلامی ہے ۔مصر ی افتاء کونسل

قاہرہ ( اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔3فروری۔2015ء ) مصر کی افتاء کونسل نے دولت اسلامیہ "داعش" کی جانب سے مخالفین کو "ظالمانہ طریقے سے ذبح کرنے کو غیر انسانی اور غیر اسلامی" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خوارج کا طریقہ واردات ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصری افتاء کونسل کی جانب سے جاری ایک مفصل رپورٹ میں دولت اسلامیہ "داعش" کے ہاتھوں مخالفین کے قتل اور یرغمال بنائے گئے شہریوں کو ذبح کیے جانے کی شرعی حیثیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

رپورٹ میں وضاحت کے ساتھ کہا گیا ہے کہ شریعت مطہرہ میں حالت جنگ یا عام حالات میں مخالفین کو یرغمال بنانے کے بعد انہیں ذبح کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ قرآن پاک اور احادیث نبویہ میں ایسی کوئی قطعی نص موجود نہیں جسے اس ظالمانہ طریقے کو جواز فراہم کیا جا سکے۔ البتہ یہ طریقہ اسلام کے ابتدائی دور میں خوارج فرقے نے اختیار کیا تھا۔ وہ اپنے ہر مخالف کی گردن اڑاتے جاتے اور اس کے لیے وہ ایک حدیث کو اس کے سیاق سباق سے کاٹ کر پیش کرتے ہوئے ان الفاظ کو پیش کرتے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ "مجھے ذبح کرنے کے لیے مبعوث کیا گیا ہے۔

"رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حدیث مذکورہ کی صحت کے بارے میں بھی بہت سے اعتراضات موجود ہیں اور ثقہ علماء نے اسے قبول نہیں کیا ہے۔ یہ حدیث خوارج اپنے عقائد کو دوسروں تک پھیلانے کے لیے بہ طور جواز پیش کرتے اور مخالفین کی گردنیں اڑاتے جاتے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قرون اولیٰ میں خوارج نے صحابی رسول حضرت حباب بن الارت کو یرغمال بنانے کے بعد ان سے حضرت ابو بکر، عمر، عثمان اور علی رضوان اللہ علھیم اجعمین کے بارے میں رائے پوچھی۔

انہوں نے چاروں کبار صحابہ کی تعریف کی تو خوارج نے انہیں شہید کر دیا۔لوگوں کی گردنیں اڑانے کا ایک طریقہ قبل از اسلام بھی عربوں میں رائج تھا لیکن ظہور اسلام کے بعد اس کا وجود ختم ہو گیا تھا کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے غیر انسانی قرار دے اس پر عمل درآمد سے روک دیا تھا۔ آپ نے جنگ کے جو اصول ومبادی پیش کیے ان میں اجناس، فصلوں، باغات، درختوں اور جانوروں تک کو

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

03-02-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان