جب نظربند ججوں کی رہائی کا حکم جاری کیا تو مسلم لیگ والوں نے کہا کہ آپ نے اعتماد ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل فروری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
پچھلی خبریں - مزید خبریں

ملتان

ملتان شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 15/01/2017 - 18:50:08 وقت اشاعت: 15/01/2017 - 18:50:09 وقت اشاعت: 15/01/2017 - 18:50:10 وقت اشاعت: 15/01/2017 - 20:00:18 وقت اشاعت: 15/01/2017 - 20:00:19 وقت اشاعت: 15/01/2017 - 20:00:20 ملتان کی مزید خبریں

تلاش کیجئے

جب نظربند ججوں کی رہائی کا حکم جاری کیا تو مسلم لیگ والوں نے کہا کہ آپ نے اعتماد میں نہیں لیامیں نے کہا اعتماد میں لیتے تو یہ کریڈٹ بھی آپ لے جاتے، گیلانی کا انکشاف،اسٹیبلشمنٹ اور نواز شریف کو پتہ تھا ہم ایگزیکٹو آرڈر سے ججوں کو بحال کردیں گے،نواز شریف نے ججوں کی بحالی کیلئے جو لانگ مارچ کیا تھا وہ ہمیں بند گلی میں دھکیلنا چاہتے تھے، میرے ایم ایس نے مجھے چٹ دی کہ اب آپ وزیراعظم نہیں وہ چٹ میں نے صدر آصف زرداری کو دے دی اور بغیر جھنڈے کے وزیراعظم ہاؤس آیا،سرائیکی صوبہ بن کر رہے گا، مسلم لیگ(ن) اگر این ایف سی ایوارڈ کے مطابق بھی جنوبی پنجاب کو حصہ دیدے تو یہاں خوشحالی آسکتی ہے، وہ سیاستدان تبدیلی لاسکتے ہیں جو وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کو ٹکٹ نہ دیں،سابق وزیراعظم کا ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان میں وکلاء سے خطاب

ملتان(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔3فروری۔2015ء) پیپلزپارٹی کے مرکزی سینئر وائس چیئرمین اور سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے انکشاف کیاہے کہ جب نظربند ججوں کی رہائی کا حکم جاری کیا تو مسلم لیگ والوں نے کہا کہ آپ نے اعتماد میں نہیں لیامیں نے کہا اعتماد میں لیتے تو یہ کریڈٹ بھی آپ لے جاتے،اسٹیبلشمنٹ اور نواز شریف کو پتہ تھا ہم ایگزیکٹو آرڈر کے تحت ججوں کو بحال کردیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے ججوں کی بحالی کیلئے جو لانگ مارچ کیا تھا وہ ہمیں بند گلی میں دھکیلنا چاہتے تھے۔

میرے ایم ایس نے مجھے چٹ دی کہ اب آپ فیصلے کے مطابق وزیراعظم نہیں وہ چٹ میں نے صدر آصف زرداری کو دے دی اور پھر بغیر جھنڈے کے وزیراعظم ہاؤس آیا۔سرائیکی صوبہ بن کر رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) اگر این ایف سی ایوارڈ کے مطابق بھی جنوبی پنجاب کو حصہ دیدے تو یہاں خوشحالی آسکتی ہے۔ملک میں وہ سیاسی پارٹیاں اور وہ سیاستدان تبدیلی لاسکتے ہیں جو وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کو ٹکٹ نہ دیں‘ اس ملک کو نقصان صرف پارٹی بدلنے والوں نے پہنچایا ہے اور عمران خان کے پاس بھی وہی لوگ جارہے ہیں جنہوں نے اپنی اپنی پارٹیوں سے وفاداریاں تبدیل کرتے ہوئے بے وفائی کی ہے۔

یہ بات انہوں نے پیر کے روز ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کی تاریخ کا پہلا وزیراعظم ہوں جسے اتفاق رائے سے منتخب کیا گیا اور میں سب جماعتوں کو ساتھ لے کر چلا اور میں سب زیادہ وقت رہنے والا وزیراعظم بنا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں کسی بھی پارٹی نے آئینی مدت پوری نہیں کی مگر ہم نے پہلی مرتبہ اپنی آئینی مدت پوری کی اور پرامن انتقال اقتدار کیا۔

انہوں نے کہا کہ عوام نے مجھے منتخب کیا تھا۔ میں نے جو عوام کیلئے کیا اور میں نے وکلاء کیلئے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ جب ہم اپوزیشن میں تھے تو جیلوں میں تھے اور باہر نکلے تو وکلاء تحریک میں شامل ہوئے۔ عدلیہ کی آزادی کیلئے ماریں کھائیں۔ جیل گئے اور دہشت گردی کے مقدمات بنوائے۔ بے نظیر بھٹو نے میڈیا اور عدلیہ کی آزادی کیلئے لانگ مارچ کا فیصلہ کیا لیکن انہیں نظربند کردیا گیا اور پھر مجھے ہی اس کی قیادت کرنی پڑی میں اور میں بھی جیل گیا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم بننے کے بعد میں نے پہلا حکم نظر بند ججوں کو رہا کرنے کا جاری کیا جس پر مسلم لیگ والوں نے کہا کہ آپ نے ہمیں اعتماد میں نہیں لیا تو میں نے کہا کہ اگر میں آپ کو اعتماد میں لے لیتا تو یہ کریڈٹ بھی آپ لے جاتے۔ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ جنرل کیانی نے حکومت سے کہا کہ آپ نے ججوں کو بحال کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل کیانی یہ کام مشرف کے دور میں بھی کرسکتے تھے۔ میرے پاس جنرل کیانی آئے اور کہا کہ آپ ججوں کو بحال کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اقبال ٹکا کیس کے بعد آپ ججوں کو ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے بحال نہیں کرسکتے۔ میں نے کہا کہ ہم بحال کردیں گے۔ اس کی تشریح خود ججوں نے کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ اور نواز شریف کو پتہ تھا ہم ایگزیکٹو آرڈر کے تحت ججوں کو بحال کردیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے ججوں کی بحالی کیلئے جو لانگ مارچ کیا تھا وہ ہمیں بند گلی میں دھکیلنا چاہتے تھے۔ میں نے کہا کہ صدر اور وزیراعظم ہمارا ہے‘ سپیکر‘ چیئرمین سینٹ ہمارا ہے۔

سندھ میں ہماری حکومت ہے‘ پنجاب میں ہماری مخلوط حکومت ہے تو ہم کیوں نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف زرداری نے جنرل کیانی کو بلایا اور میں نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ عدلیہ کو بحال کردیا جائے تو انہوں نے دو گھنٹے مانگے۔ مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے کن کن لوگوں سے رابطہ کیا مگر وہ ایک گھنٹے بعد واپس آئے۔ اس رات ساری قوم جاگتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اس دن

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

03-02-2015 :تاریخ اشاعت