این اے 122 کے الیکشن ٹربیونل کو 15 دن کے اندر فیصلہ کرنے کی ہدایت کی جائے‘ عمران خان ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل فروری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

این اے 122 کے الیکشن ٹربیونل کو 15 دن کے اندر فیصلہ کرنے کی ہدایت کی جائے‘ عمران خان نے پٹیشن دائر کر دی،سپیکر ایاز صادق نے کسی نہ کسی بہانے الیکشن پٹیشن کے فیصلے کو دو سال تک لٹکایا ہے

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔3فروری۔2015ء)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے آئین کے سیکشن 57 کے تحت ایک پٹیشن بنام الیکشن ٹربیونل دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ الیکشن کمشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی نمائندگی ایکٹ 1976ء کے تحت الیکشن ٹربیونلز قائم کرے۔ مذکورہ ایکٹ کے سیکشن 67 کے تحت انتخابات کا فیصلہ کرنے کے لئے درکار وقت 120 دن ہوتے ہیں۔ پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ ایکٹ کے تحت کسی بھی ریٹرن امیدوار کا معاملہ ٹربیونل کمشنر کے حوالے کریگا اور یہ کہ ایسا امیدوار کمیشن کے ذریعے نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔

پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ مئی 2013ء کے انتخابات کے نتازعے کی روشنی میں فیصلہ کا مقررہ وقت طویل عرصے سے ختم ہو چکا ہے این اے 122 لاہور میں ریٹرن امیدوار‘ سپیکٹر قومی اسمبلی نے کامیابی سے فیصلے میں طویل تاخیر کر دی ہے جو دو سال کے قریب پہنچ رہی ہے یہ کمیشن کی اولین ڈیوٹی ہے کہ وہ قانون کے مطابق آزادانہ‘ منصفانہ اور اور شفاف انتخابات کا انعقاد کرے۔ اس میں انتخابی تنازعات کا بروقت فیصلہ بھی شامل ہے۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اس پٹیشن کو منظور کیا جائے اور این اے 122 لاہور کے الیکشن ٹربیونل کو ہدایت جاری کی جائے کہ وہ الیکشن پٹیشن کا فیصلہ 15 دن کے اندر صادر فرمائیں اور انتخابی تنازعات کی سماعت روازنہ کی بنیاد پر کی جائے اور کمیشن کو مزید ہدایت جاری کی جائے کہ وہ فوری طور پر ضمنی معاملات کا فیصلہ کرے۔ پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ سپیکر ایاز صادق نے الیکشن پٹیشن کا فیصلہ 2 سالوں کے لئے کسی نہ کسی بہانے سے موخر کیا ہے۔ پٹیشن میں این اے 122 کے حلقے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے کہ ایاز صادق کو کیسے فاتح قرار دیا گیا۔ الیکشن پٹیشن کا فیصلہ آنے تک ریٹرن امیدوار کو کام کرنے سے روکا جائے جب تک کہ الیکشن پٹیشن کی سماعت مکمل نہیں ہو جاتی۔

03-02-2015 :تاریخ اشاعت