ایوان زیریں میں سانحہ شکار پورکیخلاف قر ارداد اتفاق رائے سے منظو ر ،دہشتگردی کیخلاف ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل فروری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

ایوان زیریں میں سانحہ شکار پورکیخلاف قر ارداد اتفاق رائے سے منظو ر ،دہشتگردی کیخلاف قومی ا یکشن پلان پر عملدرآمد تیز کرنے کا مطالبہ،سانحہ شکار پور انتہائی المناک اس کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے،صاحبزادہ طارق اللہ ، دہشتگردی ملک کا سب سے بڑا اور اولین مسئلہ ہے جب تک اس معاملے پر اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ نہیں کرینگے ملک آگے نہیں بڑھ سکتا ،آفتاب شیر پاؤ ،ہمیں اس المناک حادثہ سے سبق سیکھنا ہوگا ملک کے اندر اور باہر سے سازشیں ہورہی ہیں،چوہدری اشرف فرانس میں گستاخانہ خاکے شائع کرنے والے جریدے پر حملہ کرنے والوں کو خراج تحسین پیش اور ایک لاکھ ڈالر دینے کا اعلان کرتے ہیں،حضور کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کرسکتے ،غلام بلور ، اجلاس آج صبح گیارہ بجے تک ملتوی

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔3فروری۔2015ء)ایوان زیریں میں سانحہ شکار پور کیخلاف قرارداد کو اتفاق رائے سے منظو ر کرلیا گیا اور حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ دہشتگردی کیخلاف قومی ا یکشن پلان پر عملدرآمد تیز کیا جائے، حکومت کو اب تیزی دکھانا ہوگی اور اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے دہشتگردی کے خاتمہ کرنا ہوگا،انٹیلی جنس شیئرنگ او روفاقی و صوبائی اداروں میں رابطوں کو بہتر بنانا ہوگا۔پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں سانحہ شکار پور پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے جماعت اسلامی کے پارلیمانی سربراہ صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا ہے کہ سانحہ شکار پور انتہائی المناک سانحہ ہے افسوس سولہ دسمبر والے سانحہ پر جس طرح کا اتحاد کا مظاہرہ کیا گیا اس طرح کا اتحاد اس المناک سانحہ پر نظر نہیں آیا ،ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سانحہ شکار پور کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے اور اس میں ملوث افراد کو نہ صرف کیفر کردار تک پہنچایا جائے بلکہ ان کے قاتلوں اور سہولت کاروں کو قوم کے سامنے لا کر حقائق سے آگاہ کیا جائے ۔

قومی وطن پارٹی کے پارلیمانی سربراہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ سانحہ پشاور کے بعد سانحہ شکار پور دہشتگردی کا بڑا واقعہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی ملک کا سب سے بڑا اور اولین مسئلہ ہے جب تک اس معاملے پر اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ نہیں کرینگے ملک آگے نہیں بڑھ سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کی کوئی سرحد نہیں ہے یہ پورے ملک میں پھیل چکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اب یہ اپنے عمل سے دکھانا ہوگا کہ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے سنجیدہ ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اس معاملے کی جوڈیشل انکوائرای کرائے اگر انٹیلی جنس معلومات تھیں تو کیوں ان پر عملدرآمد نہیں کیا گیا اور سانحہ کے بعد ایمبولینس موقع پر نہیں پہنچی ہیں اس کی بھی تحقیقات ہونی چاہیں تحقیقاتی عمل میں بھی فقدان ہے ان نقائص کو دور کرنا ہوگا اگر تحقیقاتی عمل اور پراسکیوشن درست ہوتا تو آج فوجی عدالتوں کی ضرورت پیش نہ آتی ۔ انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس شیئرنگ کا فقدان ہے اس کو بہتر بنانا ہوگا او روفاقی و صوبائی اداروں میں رابطوں کو بہتر بنانا ہوگا ۔

پیپلز پارٹی کے رکن اعجاز جاکھرانی نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ شکار پور سندھ کا امن پسند ضلع تھا ۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ شکار پور صوبائی مسئلہ نہیں پاکستان کا مسئلہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قومی ایکشن پلان کی بہت باتیں کی جاتی ہیں مگر افسوس آج تک اس حوالے سے سے کچھ نہیں بتایا گیا کیا سانحہ شکار پور انٹیلی جنس کا فقدان نہیں ہے ؟ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کی جنگ کو عوام کے ساتھ مل کر جیتنا ہو گا شکار پور سانحہ ہوا مگر کوئی وفاقی وزیر شکار پور نہیں کیا گیا جبکہ اس کے برعکس سانحہ پشاور پر سب گئے وفاقی وزراء کو توفیق تک نہیں ہوئی کہ وہ کوئی بیان ہی دیتے ہم تاریخ سے سبق کیوں نہیں سیکھتے کیا بنگلہ دیش کی طرح اب ہم سندھ اور بلوچستان کو دھکیل دینگے وفاقی حکومت کو سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے جس پر سب علاقوں کو یکساں اہمیت دینا ہوگی انہوں نے کہا کہ سانحہ شکار پور کے بعد وصبائی حکومت کی طرح وفاقی حکومت کو بھی زخمیوں اور جاں بحق افراد کی داد رسی کے لیے اعلان کرنا چاہیے انہوں نے کہا کہ ایجنسیوں کو اب فون ٹیپ سے آگے بڑھ کر ملک کیخلاف ہونے والی سازشوں کو ختم کرنا ہوگا دہشتگردی کیخلاف جنگ ایک رات میں نہیں جیتی جاسکتی اس کے لئے مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہے اور حکومت وضاحت کرکے اس معاملے کو سنجیدہ کیوں نہیں لیا گیا مسلم لیگ (ن) کے رکن چوہدری اشرف کے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ سانحہ شکار پور اور افسوسناک سانحہ لیکن افسوس صوبائی حکومت اور انٹیلی جنس اداروں کی کوتاہی کی وج سے یہ المناک حادثہ رونما ہوا ۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اس المناک حادثہ سے سبق سیکھنا ہوگا ملک کے اندر اور باہر سے سازشیں ہورہی ہیں ۔ پختونخواہ میپ کے رکن قومی اسمبلی عیسی نوری نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ سانحہ شکار پور انتہائی اندوہناک واقعہ ہے انہوں نے کہا کہ میں اب تمام صوبوں کے ساتھ یکساں سلوک کرنا ہوگا سانحہ پشاور پر سب ایک جگہ جمع ہوگئے مگر شکار پور کے واقعہ پر کوئی بیان تک نہیں آیا بلوچستان میں ایک جگہ سے 169 لاشیں برآمد ہوئیں اس پر خاص توجہ دی جائے میں سب کے ساتھ یکساں سلوک کرنا ہوگا ۔

ایم کیو ایم کے رکن ساجد احمد نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ سانحہ شکار پور انتہائی افسوسناک ہے لیکن افسوس تھا ایک جانب دہشتگردی کا شکار تو دوسری طرف سیاسی جماعتیں معاملے پر تفریق کا شکار ہیں ایک جانب فوجی عدالتوں کی حمایت کی جاتی ہے مگر کچھ سیاسی جماعتیں اس کی مخالفت کرتی ہیں اس تفریق کا نقصان حکومت کو ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ سب مل کر دہشتگردی کے خلاف لڑیں اور متحد ہوں اور جو بھی دہشتگردوں کی حمایت کرے ان جماعتوں پر پابندی لگائی جائے ۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک دہشتگردی کا شکار ہے مگر افسوس یہاں قیادت تفریق کا شکار ہے امریکہ میں نائن الیون ہوتا ہے تو پورا ملک جاگ جاتا ہے مگر پاکستان میں واقعات پر واقعات ہورہے ہیں مگر صرف مذمتی بیانات تک محدود نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے علماء منتشر ہیں جبکہ کچھ سیاستدانوں کی ذہنیت بھی طالبانائزیشن والی ہے انہی لوگوں نے اسلام اور پاکستان کو بدنام کیا ہے ہمیں ایسے اینٹی اسلام لوگوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہوگا ۔

وفاقی وزیر سیفران جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ نے سانحہ شکار پور پر کہا کہ سانحہ شکار پور متوقع واقع تھا کیوں کہ دہشتگردوں کیخلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع ہوچکی ہے اور مزید واقعات رونما ہوسکتے ہیں لیکن قوم دہشتگردی کیخلاف مسلم لیگ (ن) حکومت کی قیادت میں متحد ہوچکی ہیں ضرب عضب نے دہشتگردوں کو منتشر کردیا ہے ہمیں سانحہ شکار پور کے مظلوموں کے ضرور آنسو پونجھنے چاہیں مگر دوسری جانب وصبائی و وفاقی حکومتوں کو تمام سہولیات فراہم کی جارہی ہیں وزیراعظم اور آرمی چیف چپے چپے کا دورہ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

03-02-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان