سینٹ میں قومی سلامتی پالیسی پر بحث،قومی سلامتی پالیسی کی تشکیل حکومت کی کامیابی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل فروری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
تاریخ اشاعت: 2015-02-03
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

سینٹ میں قومی سلامتی پالیسی پر بحث،قومی سلامتی پالیسی کی تشکیل حکومت کی کامیابی ہے ،مدارس کورجسٹرڈکرنے کیلئے صوبائی حکومتوں کوہدایات جاری کی ہیں،بلیغ الرحمان،سیکورٹی پالیسی کوزیربحث نہ لاکرحکومت پرشکوک وشبہات بڑھ گئے ہیں ،فرحت اللہ بابر،حکومت دوہری پالیسی ختم کرے تب ملک بچے گا،عبدالحسیب،پوراملک دھماکوں کی زدمیں تھا،نوازشریف نے حالات سدھارے ہیں ،جعفر اقبال،فوج لڑرہی ہے کریڈٹ حکومت لے رہی ہے ، تمام ایم اویوفراڈثابت ہوئے ،کامل آغا،مدرسہ کی بات کرتے ہیں غیرملکی تنظیموں کی بات نہیں کرتے ،حاجی غلام علی

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔3فروری۔2015ء)وزیرمملکت برائے داخلہ بلیغ الرحمن نے سینٹ میں قومی سلامتی پالیسی پربحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ قومی سلامتی پالیسی کی تشکیل حکومت کی کامیابی ہے ،ماضی کی حکومتیں ناکام ہوئیں یہ پہلی داخلہ سلامتی پالیسی ہے جومفصل ہے اور اس میں تمام چیزوں کااحاطہ کیاگیاہے ،امن وامان صوبائی معاملہ ہے تاہم یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے ،ہر کوئی اپنی ذمہ داری پوری کرے ،پالیسی کے تحت مذاکرات کواولین ترجیح ہے ،اگرناکام ہوئے توطاقت کااستعمال ہوگا،اس پالیسی کے تحت دہشتگردی کے خاتمے کیلئے آپریشن ضرب عضب شروع کیا،وزیرمملکت نے کہاکہ اس پالیسی کے تحت نٹی انسداد دہشتگردفورس کاقیام کیا گیاہے ،40انٹی دہشتگردگاڑیاں صوبوں کودی گئی ہیں ،اہم ائیرپورٹس پرجدیدتکنیکی آلات نصب کردیئے گئے ہیں ،سائبرکرائم کی روک تھام کیلئے اقدامات کئے گئے ہیں ،سائبرکرائم بل قومی اسمبلی میں پیش کیاجائیگا،تحفظ پاکستان آرڈیننس انٹی منی لانڈرنگ بل قومی سلامتی بارے داخلہ پالیسی کے تحت منظورہوئے ہیں ۔

مشرف دورمیں مدارس کورجسٹرڈکرنے کی کوشش ہوئی تھی لیکن کامیاب نہیں ہوئے ،حکومت مدارس کی قیادت سے بات چیت کررہی ہے اورمدارس کورجسٹرڈکرنے کیلئے صوبائی حکومتوں کوہدایات جاری کی ہیں اوراس پرکام تیزی سے جاری ہے ۔قبل ازیں پیپلزپارٹی کے سینیٹرفرحت اللہ بابرنے داخلی سلامتی پالیسی کوایوان میں زیربحث لانے کی قراردادپیش کی اور کہا کہ دس ماہ ہوچکے ہیں جب یہ پالیسی منظورہوئی ہے ،وزیرداخلہ ایوان میں نہیں آئے ،حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ وہ دہشتگردوں کے خلاف ایکشن لے رہی ہے ،ایوان میں سیکورٹی پالیسی کوزیربحث نہ لاکرحکومت پرشکوک وشبہات بڑھ گئے ہیں ،اس پالیسی کے تحت مدرسہ اصلاحات لانی تھیں ،انٹیلی جنس اداروں کوایک آرگنائزیشن کے تحت لاناتھا،10ماہ گزرنے کے باوجودحکومت نے وعدہ پورانہیں کیا،33ایجنسیوں کوایک پلیٹ فارم پرنہیں لایاجاسکااس مقصدکیلئے حکومت نے کوئی اقدام نہیں اٹھایا،حکومت نے آئی ایس آئی کوسویلین کنٹرول میں لانے کاوعدہ کیالیکن ابھی تک عمل نہیں کیا ۔

فرحت اللہ بابرنے کہاکہ اس پالیسی کے تحت آئی ایس آئی کی ذمہ داری بھی وضع کی گئی ہے کہ قانون نافذکرنے والے اداروں کاکرداربھی قانون میں وضع کیاگیاہے ۔آئی ایس آئی قانون نافذکرنے والاادارہ نہیں ،اس کی ذمہ داری خفیہ معلومات اکٹھی کرناہے ،تمام سیاسی جماعتوں نے اکٹھے ہوکرقومی ایکشن پلان منظورکیاہے یہ کڑواگھونٹ ہے جوجماعتوں نے پیاہے ،سیاسی ونگ موجودہے ،لیکن حکومت وعدوں پرعمل نہیں کررہی اورحکومت کے ویژن پراوردہشتگردی کے خلاف حکومتی اقدامات پرسوالات اٹھ رہے ہیں ،انتہاء پسندگروپوں کوحوصلہ افزائی ہوئی ہے ،جس کے نتیجے میں انہوں نے ریاست کوچیلنج کیاہے ،اب بھی ریاست مخالف عناصرکی تشہیر جاری ہے ۔

فرحت اللہ بابرنے

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

03-02-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان