بھارتی فوجیوں کی طرف سے خواتین کی بے حرمتی کے واقعات میں فوجی عدالتیں انصاف فراہم ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر فروری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-02
تاریخ اشاعت: 2015-02-02
تاریخ اشاعت: 2015-02-02
تاریخ اشاعت: 2015-02-02
تاریخ اشاعت: 2015-02-02
تاریخ اشاعت: 2015-02-02
تاریخ اشاعت: 2015-02-02
تاریخ اشاعت: 2015-02-02
تاریخ اشاعت: 2015-02-02
تاریخ اشاعت: 2015-02-02
تاریخ اشاعت: 2015-02-02
- مزید خبریں

تلاش کیجئے

بھارتی فوجیوں کی طرف سے خواتین کی بے حرمتی کے واقعات میں فوجی عدالتیں انصاف فراہم نہیں کر سکتیں۔۔۔جسٹس کے کنان

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔2فروری۔2015ء)مقبوضہ کشمیرمیں ایک بھارتی جج نے کہا ہے کہ بھارتی فوجیوں کی طرف سے خواتین کی بے حرمتی کے واقعات میں فوجی عدالتیں انصاف فراہم نہیں کر سکتیں جس کی سب سے بڑی مثال کنن پوشپورہ اجتماعی آبروریزی کا مقدمہ ہے۔ جسٹس کے کنان نے ایک مقامی این جی او کے زیر اہتمام ” خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم“ کے زیر عنوان جموں میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فوج اور دیگر فورسز کے اہلکاروں کے ہاتھوں خواتین کی بے حرمتی کے واقعات کی تحقیقات کے لیے ایک شفاف طریقہ کار کی ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں کہا کہ فوجی عدالتیں چار دیواری تک محدودہوتی ہیں اور ان کی کارروائی میں اور کوئی مخل نہیں ہو سکتالہذا آبروریزی کا شکار خواتین کوفوجی عدالتوں کے ذریعے انصاف نہیں مل سکتا۔ جسٹس کے کنان نے کہا کہ1991میں مقبوضہ کشمیر کے کنن پوشپورہ علاقے میں اجتماعی آبروریزی کا شکار خواتین کو بھی انصاف نہیں مل سکا۔ جسٹس کنان نے بعد میں ایک روزنامے کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ انہیں نیوزرپورٹس اور اس وقت کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کپواڑہ کی طرف سے دیے جانے والے انٹرویو سے جو معلومات مل سکیں ، ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبروریزی کے اس واقعے کو مناسب طریقے سے ڈیل نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور جب ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو دھمکیوں کے بل پر خاموش کرایا جائے تو حقائق کس طرح سے سامنے آسکتے ہیں۔ جسٹس نے کہا کہ یہ انتہائی افسوس ناک ہے کہ جب کوئی سیکورٹی فورسز کے حوالے سے زبان کھولتا ہے تواس کی شہریت پر سوال اٹھائے جاتے ہیں اور اسے بے جا باتوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورٹ مارشل کی کارروائیوں کے دوران عام شہریوں کو اس کی کارروائی کے حوالے سے کچھ پتہ نہیں چل پاتا اور یہ کارروائی شفاف نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خواتین کے وکلا کو بھی ان عدالتوں میں اپنے دلائل دینے کا حق حاصل ہونا چاہیے اور کارروائی شفاف اور واضح ہونی چاہیے۔

02-02-2015 :تاریخ اشاعت