ممکنہ گرفتاری سے بچاؤیا نظربندی؟مولانا عبدالعزیز کا مسلسل تیسرے جمعہ ٹیلیفونک ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار فروری

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-01
تاریخ اشاعت: 2015-02-01
تاریخ اشاعت: 2015-02-01
تاریخ اشاعت: 2015-02-01
تاریخ اشاعت: 2015-02-01
تاریخ اشاعت: 2015-02-01
تاریخ اشاعت: 2015-02-01
تاریخ اشاعت: 2015-02-01
تاریخ اشاعت: 2015-02-01
تاریخ اشاعت: 2015-02-01
تاریخ اشاعت: 2015-02-01
-

اسلام آباد

تلاش کیجئے

ممکنہ گرفتاری سے بچاؤیا نظربندی؟مولانا عبدالعزیز کا مسلسل تیسرے جمعہ ٹیلیفونک خطبہ، سیکورٹی واپس لیے جانے کے خلاف احتجاجاً جامعہ حفصہ سے باہر نہ نکلنے کا فیصلہ کیا ،پولیس

اسلام آباد( اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔1فروری۔2015ء ) وفاقی دارالحکومت میں قائم لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز نے مسلسل تیسرے جمعہ کو ٹیلیفونک خطبہ دیا۔گزشتہ تین ہفتوں کے دوران مولانا عبدالعزیز لال مسجد نہیں آئے، جس کے باعث ان کی نظر بندی کی افواہیں گردش کرنے لگیں، تاہم پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ انھوں نے حکومت کی جانب سے سیکورٹی واپس لیے جانے کے خلاف احتجاجاً جامعہ حفصہ سے باہر نہ نکلنے کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ مولانا عبد العزیز کو گزشتہ تین برسوں سے سرکاری سیکورٹی فراہم کی جارہی تھی اور 2011 سے تقریباً تین پولیس کمانڈوز ان کی حفاظت پر تعینات تھے۔تاہم 21 دسمبر 2014 کو وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اس بات کا اعلان کیا تھا کہ مولانا عبدالعزیز کی سیکورٹی ہٹا دی گئی ہے۔چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ مولانا عبدالعزیز لال مسجد کے خطیب نہیں ہیں کیوں کہ ان کے بھتیجے مولانا عامر صدیقی کو سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں لال مسجد کا خطیب مقرر کردیا گیا تھا۔

لال مسجد کے ایک عہدیدار تحسین اللہ کا کہنا ہے کہ مولانا عبدالعزیز گزشتہ تین ہفتوں سے مسجد نہیں آئے اور وہ جمعہ کا خطبہ ٹیلیفون پر دے رہے ہیں۔تحسین اللہ کا مزید کہنا تھا کہ سیکورٹی کی صورتحال کے باعث مولانا نے اپنی سرگرمیاں محدود کردی ہیں، جبکہ پولیس کی جانب سے بھی انھیں خبردار کیا گیا ہے کہ ان کی زندگی کو خطرہ ہے۔ ایس ایس پی آپریشنز میر واعظ نیاز نے کہا کہ مولانا اپنے گھر پر نظر بند نہیں ہیں،وہ شہر میں کہیں بھی جا سکتے ہیں اور یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ جمعے کا خطبہ مسجد میں جا کر دیں یا ٹیلیفون پر'۔

یاد رہے کہ 2007 میں لال مسجد میں فوجی آپریشن کے بعد سے مولانا عزیز ایک متنازعہ شخصیت بن کر ابھرے ہیں، تاہم فوجی صدر پرویز مشرف کے رخصت ہونے کے بعد مولانا عزیز نے اپنی ساکھ کچھ حد تک بحال کی لیکن حال ہی میں انہوں نے سانحہ پشاور پر ایک انتہائی متنازعہ بیان دیا۔ان کا کہنا تھا کہ آرمی پبلک سکول پر شدت پسندوں کا حملہ فوجی آپریشن کا 'ایک ردعمل' تھا۔اس بیان کے بعد سول سوسائٹی نے دو دن تک لال مسجد کے باہر مظاہرہ کیا اور مولانا عزیز کی جانب سے مظاہرین کو مبینہ دھمکیاں دینے کے بعد پولیس نے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی۔سول سوسائٹی کی تحریک جاری رہنے پر ایک عدالت نے مولانا عزیز کے گرفتاری وارنٹ جاری کیے، لیکن مولانا نے ضمانت قبل از گرفتاری کرانے یا گرفتاری دینے سے بھی انکار کر دیا ۔

01-02-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان