حکومت کا وفاقی اور پنجاب حکومت میں تحریک انصاف ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ، ابتدائی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار فروری

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-01
تاریخ اشاعت: 2015-02-01
تاریخ اشاعت: 2015-02-01
تاریخ اشاعت: 2015-02-01
تاریخ اشاعت: 2015-02-01
تاریخ اشاعت: 2015-02-01
تاریخ اشاعت: 2015-02-01
تاریخ اشاعت: 2015-02-01
پچھلی خبریں -

فیصل آباد

تلاش کیجئے

حکومت کا وفاقی اور پنجاب حکومت میں تحریک انصاف ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ، ابتدائی طور پر پنجاب کے مختلف اضلاع میں تحریک انصاف کے کارکنوں اور ان کی قیادت کیخلاف درج مقدمات میں عہدیداروں کو گرفتار کیا جائیگا

فیصل آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔1فروری۔2015ء) حکومت نے وفاقی اور پنجاب حکومت میں تحریک انصاف کے مرکزی اور صوبائی قیادت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کرلیا ہے اس سلسلے میں ابتدائی طور پر پنجاب کے مختلف اضلاع میں تحریک انصاف کے کارکنوں اور ان کی قیادت کیخلاف درج مقدمات میں عہدیداروں کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ تحریک انصاف مرکزی اور صوبائی قیادت کسی قسم کی حکومت کیخلاف کوئی تحریر دوبارہ شروع نہ کرسکے ۔

خبر رساں ادارے کو معلوم ہوا ہے کہ آٹھ دسمبر کو سانحہ فیصل آباد میں تحریک انصاف کے کارکن حق نواز کے قتل کا مقدمہ جو پولیس نے مقتول حق نواز جو تحریک انصاف کا سرگرم کارکن تھا اس کے بھائی کی درخواست پر سابق صوبائی وزیر رانا ثناء اللہ ان کے داماد رانا شہریار ، ڈی سی او فیصل آباد نور الامین مینگل ، وزیر مملکت پانی و بجلی عابد شیر علی ، ممبر صوبائی اسمبلی طاہر جمیل اور دیگر تین سو کے لگ بھگ افراد کیخلاف انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت ملزم نامزد کئے گئے تھے گزشتہ دنوں پولیس نے اس مقدمے میں سابق صوبائی وزیر رانا ثناء اللہ ، ان کے داماد رانا شہریار ، نور الاامین مینگل ، عابد شیر علی اور طاہر جمیل کو مقدمے سے بے گناہ قرار دے دیا تھا اب پولیس نے اس واقعہ کے بارے میں سابق صوبائی وزیر رانا ثناء اللہ کی درخواست پر جو مقدمہ تحریک انصاف کی مرکزی اور صوبائی قیادت علاوہ مقامی قیادت کیخلاف درج کرایا تھا اس کی سمن آباد پولیس نے سربمہر ایف آئی آر کو منظر عام پر کردیا ہے جس میں اس واقعہ میں تحریک انصاف کے کارکنوں کے قتل کا ذمہ دار بھی تحریک انصاف کو ٹھہرا دیا گیا ہے اور اس مقدمہ میں قتل اور انسداد دہشتگردی کی دفعات بھی لگائی گئی ہیں اور مقدمہ کا نمبر 829بتایا گیا ہے اور اس مقدمہ میں جو رانا ثناء اللہ نے درخواست دی اس میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ، وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی ، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید ، ممبر قومی اسمبلی اسد عمر کے علاوہ رانا ثناء اللہ کیخلاف کٹنے والی ایف آئی آر کے گواہ راسم یعقوب ،یونس جٹ ، تحریک انصاف یوتھ ونگ کے مرکزی صدر میاں فرخ حبیب ، میاں وارث ، میاں عتیق ، شہاب الدین انصاری ، انور رامے ، جاوید نیاز منج ، عامر جٹ ، شیخ شاہد جاوید ، منور منج ، طفیل انصاری ، یونس کومبو، میاں حاجی ریاض اور دیگر تین چار سو کے لگ بھگ تحریک انصاف کے کارکنوں کا ذکر کیا گیا ہے پولیس نے ان سرکردہ تحریک انصاف کے کارکنوں کی گرفتاری کا اعلیٰ حکام کی ہدایت پر اس مقدمہ میں نامزد ملزمان کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ انسداد دہشتگردی فیصل آباد کی خصوصی عدالت کے جج راجہ پرویز اختر نے سانحہ ناولٹی پل میں جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کو مقدمہ کے ریکارڈ سمیت دو فروری کو عدالت میں طلب کیا ہے ۔

خبر رساں ادارے کو معلوم ہوا ہے کہ عدالت نے یہ حکم ناولٹی پل فائرنگ کیس کے مرکزی ملزمان جو مسلم لیگ نواز کے کارکنوں کے علاوہ سابق صوبائی وزیر رانا ثناء اللہ کے دست راست ہیں پرویز جٹ ، عثمان عرف چھینی ، حافظ عمران اور امتیاز وغیرہ نے عدالت میں اپنی ضمانت کرانے کیلئے درخواست کی تھی جبکہ حق نواز قتل کے مدعی اس کے بھائی عطا محمد خان نے عدالت کو بتایا کہ پولیس نے رات گئے اس مقدمے کی پیروی کرنے کیلئے اسے اطلاع دی گئی ہے جس پر فاضل عدالت کے جج نے دو فروری سوموار کو جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کو مکمل ریکارڈ کے ساتھ ساتھ ملزمان اور مدعی کے وکیل کو عدالت میں طلب کرلیا ہے ۔

صوبائی حکومت نے اعلیٰ سطحی اجلا س میں فیصلہ کیا ہے کہ تحریک انصاف کے صوبائی مرکزی اور ضلعی سطح پر قیادت کیخلاف اسلام آباد دھرنوں ، پی ٹی وی ،قومی اسمبلی کے ساتھ ساتھ دیگر شہروں میں جو ہنگامہ آرائی اور دیگر الزامات کے مقدمات درج ہوئے ہیں اس میں تحریک انصاف کے رہنما کو عدالتوں سے وارنٹ حاصل کرکے گرفتار کیا جائے تاکہ آئندہ تحریک انصا ف طرف سے کوئی بھی احتجاجی تحریک کامیاب نہ ہوسکے

01-02-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان