کائنات کیسے بنی؟ تخلیق کے پہلے سیکنڈ کے شواہد ’غلط نکلے‘، یہ سگنل یا نشان دراصل ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار فروری

مزید بین الاقوامی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-01
تاریخ اشاعت: 2015-02-01
تاریخ اشاعت: 2015-02-01
تاریخ اشاعت: 2015-02-01
تاریخ اشاعت: 2015-02-01
تاریخ اشاعت: 2015-02-01
تاریخ اشاعت: 2015-02-01
-

تلاش کیجئے

کائنات کیسے بنی؟ تخلیق کے پہلے سیکنڈ کے شواہد ’غلط نکلے‘، یہ سگنل یا نشان دراصل میں ہمارے نظام شمسی میں دھول کے باعث پھیلا تھا،نئی تحقیق

لندن (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔1فروری۔2015ء )جن سائنسدانوں نے پچھلے سال یہ دعویٰ کیا تھا کہ انھیں کائنات کی تخلیق کے بارے میں ’بگ بینگ تھیوری‘ کے حق میں نئے غیرمعمولی ثبوت ملے ہیں ان سے غلطی ہوئی تھی۔پچھلے سال محققین کے مطابق انھیں آسمان میں خلا کے انتہائی تیزی سے پھیلاوٴ کا ایک سگنل یا نشان ملا تھا جو لازماً کائنات کی تخلیق کے لمحے میں ہی وجود میں آیا ہوگا۔تاہم نئی تحقیق کے مطابق یہ سگنل یا نشان دراصل میں ہمارے نظام شمسی میں دھول کے باعث پھیلا تھا۔

اس حوالے سے نئی رپورٹ فیزیکل ریویو لیٹرز کو دی گئی ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس رپورٹ کا خلاصہ تھوڑی مدت کے لیے ویب سائٹ پر شائع کیا گیا تھا لیکن بعد میں ہٹا لیا گیا۔یہ نئی رپورٹ اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ رپورٹ ’حریف‘ سائنسدانوں نے لکھی ہے جو پلینک کنسورشیئم کے تحقیق دان ہیں۔ یہ سائنسدان یورپی خلائی ایجنسی کے لیے اسی پراجیکٹ پر کام کر رہے تھے۔یاد رہے کہ پچھلے سال مارچ میں سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ انھیں کائنات کی تخلیق کے بارے میں ’بگ بینگ تھیوری‘ کے حق میں نئے غیرمعمولی ثبوت ملے ہیں۔

یہ نئی رپورٹ اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ رپورٹ ’حریف‘ سائنسدانوں نے لکھی ہے جو پلینک کنسورشیئم کے تحقیق دان ہیں۔ یہ سائنسدان یورپی خلائی ایجنسی کے لیے اسی پراجیکٹ پر کام کر رہے تھے۔محققین کے مطابق انھیں آسمان میں خلا کے انتہائی تیزی سے پھیلاوٴ کا ایک سگنل یا نشان ملا ہے جو لازماً کائنات کی تخلیق کے لمحے میں ہی وجود میں آیا ہوگا۔یہ سگنل دوربینوں کی مدد سے دیکھی جانے والے قدیم ترین روشنی میں دکھائی دیا ہے۔

جان ہاپکنز یونیورسٹی کے پروفیسر مارک کامیونکوسکی نے کہا تھا کہ ’یہ شاندار چیز ہے۔‘ برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’میں نے یہ تحقیق دیکھی ہے۔ دلائل موثر ہیں اور اس تحقیق میں شامل سائنسدان سب سے زیادہ محتاط اور قدامت پسند افراد میں سے ہیں۔‘اس دریافت کا اعلان بائسیپ 2 (BICEP2) نامی منصوبے پر کام کرنے والی امریکی محققین کی ٹیم نے کیا۔ اس منصوبے کے تحت قطب جنوبی پر نصب ایک دوربین کی مدد سے آسمان کے ایک خاص حصے پر تحقیق کی جا رہی ہے۔



اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

01-02-2015 :تاریخ اشاعت