بیرون ملک تعلیم کا جذبہ، طالبات میں شادی کا نیا رجحان،سعودی حکام نے مضمرات کا ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار فروری

مزید بین الاقوامی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-02-01
تاریخ اشاعت: 2015-02-01
تاریخ اشاعت: 2015-02-01
تاریخ اشاعت: 2015-02-01
تاریخ اشاعت: 2015-02-01
تاریخ اشاعت: 2015-02-01
تاریخ اشاعت: 2015-02-01
-

تلاش کیجئے

بیرون ملک تعلیم کا جذبہ، طالبات میں شادی کا نیا رجحان،سعودی حکام نے مضمرات کا جائزہ لینا شروع کر دیا

ریاض ( اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔1فروری۔2015ء )بیرون ملک اعلیٰ تعیلم کے لیے سرکاری سکالر شپ کا حصول یقینی بنانے کے لیے سعودی طالبات نے پہلے شادی کرنے کو حکمت عملی کے طور پر اختیار کرنا شروع کر دیا ہے۔سعودی حکام کے مطابق ایسی طالبات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو بیرون ملک تعلیم کا ارادہ رکھتی ہیں اور اپنی شادی اس مقصد کے لیے جلد کرنے کا رجحان رکھتی ہیں۔سعودی حکام نے اس رجحان کے دیگر مضمرات کا بھی جائزہ لینا شروع کر دیا ہے کیونکہ ایسی طالبات جلد بازی میں بیرون ملک شادیوں کو بھی ترجیحاً دیکھ رہی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق خادم الحرمین الشریفین کی طرف سے سعودی طلبہ و طالبات کے بیرون ملک اعلیٰ تعلیم پانے کے لیے جس غیر معمولی حوصلہ افزائی کا اہتمام بڑے پیمانے پر سکالر شپس کے اجرا سے کیا گیا تھا۔ اس سے اب تک ہزاروں طلبہ طالبات فائدہ اٹھا چکے ہیں۔اعلیٰ تعیلم پانے کی حوصلہ افزائی کے لیے یہ بندو بست بھی کیا گیا تھا کہ بیرون ملک تعلیم کی خواہش مند سعودی طالبات کے ساتھ شرعی تقاضے کے مطابق کسی محرم کا بیرون ملک جانا یا موجود ہونا بھی لازم ہو گا۔

سعودی فرمانروا نے طالبات کے متعلقہ محرم رشتوں کے بھی بیرون ملک ہوتے ہوئے ان کے تمام اخراجات برداشت کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس سہولت سے اب تک ہزاروں طالبات فائدہ اٹھا چکی ہیں۔لیکن اب ایک نیا رجحان یہ سامنے آیا ہے کہ جن طالبات کے خاندان میں کوئی محرم بھائی یا باپ کی صورت میں موجود نہیں ہوتا یا بیرون ملک جانے کے لیے دستیاب نہیں ہوتا وہ طالبات بھی ان تعلیمی سکالر شپس کو اپنے لیے یقینی بنانے کی خاطر اپنی فوری شادی کا اہتمام کرنا شروع ہوگئی ہیں۔

اس رجحان میں اضافے کی عکاسی کرنے والی ایک رپورٹ کے مطابق ان خواتین کی ترجیح ایسا شوہر ہوتا ہے جو کنوارا ہو اور پہلے سے بیرون ملک تعلیم کے لیے موجود ہو۔دوسری جانب سعودی عرب میں رشتے کرانے کے شعبے سے وابستہ شخصیات کا خیال ہے کہ اس انداز سے رشتوں کی تلاش اور شادیاں رچانا درست نہیں ہے۔سب سے بڑا خطرہ جس کا سعودی معاشرے کو سامنا ہوسکتا ہے وہ یہ ہے کہ اس طرح شادی کے بندھن میں بندھنے والے جوڑے غیر ملکی کلچر کے نمائندہ بن کر واپس آئیں گے۔

رشتے کرانے کے شعبہ میں سالہا سال سے کام کرنے والی ام فارس کا اس کہنا ہے کہ بہت ساری خواتین کو ان بنیادوں پر شادی کے بعد پیدا ہونے والے مسائل کا اندازہ نہیں ہے۔ایسی شادیوں کے نتیجے میں نہ صرف ثقافتی مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے بلکہ دہشت گردی کے رجحانات رکھنے والے عناصر بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ام فارس نے خبردار کیا کہ اس طرح کی شادی کرنے کی خواہش مند بعض خواتین نے شائع کرائے گئے اشتہارات میں غلط اطلاعات فراہم کیں اور اپنی مالی حیثیت کے حوالے سے مبالغہ کیا، جوکہ درست نہیں ہے۔

01-02-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان