دہشت گردی کے واقعات میں پندرہ سے زائد خواتین بھی مطلوب، انتہائی خطرناک دہشت گردوں ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ جنوری

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-31
تاریخ اشاعت: 2015-01-31
تاریخ اشاعت: 2015-01-31
تاریخ اشاعت: 2015-01-31
تاریخ اشاعت: 2015-01-31
تاریخ اشاعت: 2015-01-31
تاریخ اشاعت: 2015-01-31
تاریخ اشاعت: 2015-01-31
تاریخ اشاعت: 2015-01-31
تاریخ اشاعت: 2015-01-31
تاریخ اشاعت: 2015-01-31
- مزید خبریں

پشاور

تلاش کیجئے

دہشت گردی کے واقعات میں پندرہ سے زائد خواتین بھی مطلوب، انتہائی خطرناک دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر دیا گیا

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔31جنوری۔2015ء) خیبر پختونخوا پولیس کو دہشت گردی کے واقعات میں پندرہ سے زائد خواتین بھی مطلوب ہیں جنہیں بھی انتہائی خطرناک دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے خیبر پختونخوا پولیس کے ذرائع کے مطابق دو سال قبل رمضان المبارک کے دوران تھانہ کوتوالی کے حدود میں کم سن خود کش حملہ آور نے پولیس گاڑی پر حملہ کیا تھا اور اس خود کش حملے میں سات پولیس اہلکار شہید ہو ئے تھے اس سے قبل الیکشن کمیشن کے آفس کے قریب کینٹ ایریا کے حدود میں بھی خود کش حملہ آور خاتون نے خود کش حملہ کیا تھا سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد مرحوم پر بھی مہمند ایجنسی میں خاتون خود کش حملہ آور نے حملہ کیا تھا کیا جبکہ باجوڑ ایجنسی میں بھی خاتون خود کش حملہ آور نے ریلیف سنٹر میں حملہ کیا تھا ۔

دہشت گردی کے اہم ترین واقعات میں مطلوب دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ پندرہ خواتین دہشت گردوں کے نام بھی شامل کئے گئے ہیں جن کے سروں کی قیمت بھی مقرر کرنے کی سفارشات کی گئی ہے ۔ ان خواتین شدت پسندوں کے خلاف مقدمات بھی درج کئے جا چکے ہیں ان میں زیادہ تر ایسے خواتین بھی شامل ہیں جن کے شوہروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور وہ ملک سے فرار ہو چکی جس میں مالاکنڈ ایجنسی اور قبائلی علاقہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں ۔

31-01-2015 :تاریخ اشاعت