اسلام آباد ہائیکورٹ کا پارلیمنٹ لاجز کے 120 رہائشی سوئٹس کیلئے دئیے گئے سنگل ٹینڈر ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ جنوری

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-31
تاریخ اشاعت: 2015-01-31
تاریخ اشاعت: 2015-01-31
تاریخ اشاعت: 2015-01-31
تاریخ اشاعت: 2015-01-31
تاریخ اشاعت: 2015-01-31
تاریخ اشاعت: 2015-01-31
تاریخ اشاعت: 2015-01-31
تاریخ اشاعت: 2015-01-31
پچھلی خبریں -

اسلام آباد

تلاش کیجئے

اسلام آباد ہائیکورٹ کا پارلیمنٹ لاجز کے 120 رہائشی سوئٹس کیلئے دئیے گئے سنگل ٹینڈر منسوخ کرنے کا حکم،جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا چیئرمین سی ڈی اے پر اظہار برہمی ، آپ سی ڈی اے کے اختیارات سنبھال نہیں سکتے تو عہدے سے مستعفی ہوجائیں،جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے ریما رکس

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔31جنوری۔2015ء) اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف سے پارلیمنٹ لاجز کے 120 رہائشی سوئٹس کیلئے بغیر اوپن ٹینڈر فرنیچر اوپن ٹینڈر فرنیچر خریداری کیلئے دئیے گئے سنگل ٹینڈر کو منسوخ کرنے کا حکم‘ عدالت نے فرنیچر کی خریداری کیلئے رقم روکنے کا حکم‘ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے چیئرمین سی ڈی اے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ چیئرمین سی ڈی اے کے آدھے اختیارات ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی‘ اراکین پارلیمنٹ اور سی ڈی اے یونین کے سیکرٹری جنرل چوہدری یاسین چلا رہے ہیں‘ آپ سی ڈی اے کے اختیارات سنبھال نہیں سکتے تو عہدے سے مستعفی ہوجائیں‘ پورے اسلام آباد میں شور مچا ہوا ہے کہ چیئرمین سی ڈی اے کے اختیارات ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی چلا رہے ہیں‘ عدالت ایک فقرہ ڈپٹی سپیکر اور دیگر اراکین پارلیمنٹ کیلئے تحریر کردے تو پوری زندگی کیلئے نااہل ہوجائیں‘ عدالت کی طرف سے سی ڈی اے میں کرپشن اور کرپٹ افسران کیخلاف وزیراعظم پاکستان سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ‘ وزیراعظم سی ڈی اے کے معاملات پر فوری نوٹس لیں اور خدارا! سے ڈی اے کو تباہی سے بچائیں۔

جمعہ کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ میں پارلیمنٹ لاجز کیلئے بغیر اوپن ٹینڈر فرنیچر خریداری کیلئے دئیے گئے سنگل ٹینڈر کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر مشتمل سنگل بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ درخواست گھار برہان خان کے وکیل سید گوہر علی زیدی جبکہ چیئرمین سی ڈی اے معروف افضل‘ ڈائریکٹر فنانس‘ ڈائریکٹر پارلیمنٹ لاجز‘ ڈی جی سروسز‘ ممبر انجینئرنگ اور سی ڈی اے کے لوگل کونسل عدالت میں پیش ہوئے۔

ابتدائی سماعت کے دوران عدالت کو درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ پارلیمنٹ لاجز کے 120 رہائشی مکانوں کیلئے فرنیچر کی خریداری کیلئے سی ڈی اے نے پیپرا رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بغیر اوپن ٹینڈر کے سنگل ٹینڈر ایک من پسند فرم کو جاری کیا ہے۔ سید گوہر علی زیدی نے عدالت کو بتایا کہ پارلیمنٹ لاجز کی خریداری کیلئے فرنیچر کی کل رقم تقریباً 65 ملین ہے‘ ٹینڈر جاری کیا گیا ہے جوکہ خلاف قانون ہے۔

ابتدائی سماعت کے دوران عدالت نے چیئرمین سی ڈی اے سے استفسار کیا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ ٹینڈر کیسے جاری ہوا ہے۔ کیا آپ کے نوٹس میں ہے۔ چیئرمین سی ڈی اے نے عدالت کو بتایا کہ پارلیمنٹ لاجز کیلئے فرنیچر خریداری کیلئے اوپر سے دباؤ تھا اسلئے ایمرجنسی کے تحت سنگل ٹینڈر دیا گیا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے استفسار کیا کہ کیا ایمرجنسی تھی‘ کیا فرنیچر کی خریداری میں ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کا ذاتی فائدہ ہورہا ہے۔

اگر آپ پر دباؤ ہے تو یہ عہدہ چھوڑ دیں۔ عدالت نے چیئرمین سی ڈی اے پر سخت برہمی کا اظہار کیا کہ آپ چیئرمین سی ڈی اے آدھے اختیارات ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی‘ اراکین پارلینمٹ اور آدھے اختیارات سی دی اے یونین سیکرٹری جنرل چوہدری یاسین چلا رہے ہیں۔ آپ کے ہوتے ہوئے یہ کیا ہورہا ہے۔ عدالت نے پوچھا کہ سنگل ٹینڈر کس نے جاری کیا۔ 65 ملین کی بجائے پارلیمنٹ لاجز کا فرنیچر 30 ملین میں خریدا جاسکتا ہے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے چیئرمین سی ڈی اے و دیگر افسران پر سخت برہمی کا اظہار کیا کہ پورے اسلام آباد میں شور مچا ہوا ہے کہ چیئرمین سی ڈی اے کے اختیارات ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی چلا رہے ہیں۔ خدا کا خوف کریں۔ کیا پارلیمنٹ لاجز کے فرنیچر کی خریداری کیلئے آسمان سر پر گر رہا تھا۔ ایمرجنسی میں سنگل ٹینڈر دیا گیا ہے۔ کیا ڈپٹی سپیکر اور اراکین پارلیمنٹ فرش پر سو رہے ہیں جو فرنیچر خریدا جارہا ہے۔

عدالت نے کہا کہ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

31-01-2015 :تاریخ اشاعت