سینٹ اجلاس میں حکومت کو کورم پورا نہ ہونے پر شکست کا سامنا ، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-31
تاریخ اشاعت: 2015-01-31
تاریخ اشاعت: 2015-01-31
تاریخ اشاعت: 2015-01-31
تاریخ اشاعت: 2015-01-31
تاریخ اشاعت: 2015-01-31
تاریخ اشاعت: 2015-01-31
تاریخ اشاعت: 2015-01-31
تاریخ اشاعت: 2015-01-31
تاریخ اشاعت: 2015-01-31
تاریخ اشاعت: 2015-01-31
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

سینٹ اجلاس میں حکومت کو کورم پورا نہ ہونے پر شکست کا سامنا ، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کی ایوان سے غیر حاضری پر سینٹ میں ہنگامہ‘ اپوزیشن اراکین نے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کو اشتہاری اور مفرور قرار دے دیا‘ نیشنل ایکشن پلان پر بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا،ایوان نہیں چلنے دینگے ، حاجی عدیل

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔31جنوری۔2015ء) سینٹ کے اجلاس میں حکومت کو کورم پورا نہ ہونے پر شکست کا سامنا کرنا پڑا‘ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کی ایوان سے غیر حاضری پر سینٹ میں ہنگامہ کھڑا ہو گیا‘ اپوزیشن اراکین نے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کو اشتہاری اور مفرور قرار دے دیا‘ نیشنل ایکشن پلان پر بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ جمعہ کے روز سینیٹ کا اجلاس 55 منٹ تاخیر سے شروع ہوا تو وقفہ سوالات میں پی پی کے پارلیمانی لیڈر رضا ربانی نے پوائنٹ آف آرڈر پر کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر یہاں بحث ہونی ہے اور وفاقی وزیر داخلہ موجود ہی نہیں حکومت پنجاب کہہ رہی ہے کہ مدارس کو غیر ملکی فنڈ نہیں مل رہا جبکہ پورے ملک میں مدارس اور نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے ایوان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا جس کے بعد حاجی عدیل نے کہا کہ ہم ایوان نہیں چلنے دینگے جس کے بعد ایوان میں نو ‘ نو اور گو گو کے نعرے شروع ہو گئے سینیٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق‘ وفاقی وزراء خواجہ سعد رفیق اور شیخ آفتاب احمد کی جانب سے تمام دلائل کے بعد اپوزیشن نے ایوان سے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔

قبل ازیں رضا ربانی نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان سے متعلق اہم سوالات کے وفاقی وزیر داخلہ نے جواب دینے تھے نہ بڑا وزیر حاضر ہے نہ چھوٹا وزیر انہون نے کہا کہ ہم حالت جنگ میں ہیں اور ہمیں ایک لیٹر لکھ کر بتایا گیا کہ وفاقی وزیر داخلہ کراچی میں ہیں ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کراچی گئے ہیں یا نہیں جس پر ڈپٹی چیئرمین سینٹ نے کہا کہ ہمیں خط موصول ہوا ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ وہ گلگت بلتستان کے حوالے سے اہم میٹنگ میں مصروف ہیں۔

رضا ربانی نے کہا کہ پارلیمنٹ سب سے مقدس ادارہ ہے یہاں کراچی اور گلگت بلتستان نہیں بلکہ پارلیمنٹ اہم ہے قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے کہا کہ اب اپوزیشن کو احتجاج نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہان پر وفاقی وزراء اچھی خاصی تعداد میں موجود ہیں جس پر پی پی پی کے پارلیمانی لیڈر رضا ربانی نے کہا کہ یہ خوش آئند بات ہے کہ وفاقی وزراء آ رہے ہیں لیکن وفاقی وزیر داخلہ ایوان میں کیوں نہیں ہیں انہوں نے کہا کہ مدارس کو فارن فنڈنگ ہو رہی ہے یا نہیں ہو رہی ہمیں اس حوالے سے وفاقی وزیر سے جواب چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے ساتھ بھی اگر کوئی اہم نشست ہونی ہے تو اس سے بھی اہم پارلیمنٹ کا اجلاس ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ یہاں پر آ کر ایوان کے سوالوں کا جواب دیں جس پر وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ہم وزیر مملکت برائے داخلہ بلیغ الرحمان کو یہاں بلا لیتے ہیں وہ یہاں پر ہونے والی چاروں صوبوں ایجوکیشن وزراء کی میٹنگ کے حوالے سے ایک اہم نشست میں مصروف ہیں۔ جس پر رضا ربانی مشتعل ہو گئے اور کہا کہ و فاقی وزارت سے ایجوکیشن کا محکمہ ختم کر دیا گیا ہے ۔

رضا ربانی نے کہا کہ یہ غیر آئینی میٹنگ ہے وفاقی وزیر تعلیم کو ختم کر دیا گیا ہے اور یہ معاملہ صوبوں کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ جس کے بعد ایوان میں حکومت کے خلاف نعرے بازی شروع ہو گئی اور اے این پی کے سینیٹر زاہد خان نے کورم کی نشاندہی کر دی جس پر ڈپٹی چیئرمین سینٹ صابر بلوچ نے گھنٹیان بجانے کا عمل شروع کیا اور یہ عمل 5 منٹ تک جاری رہا اس کے بعد گنتی کا عمل شروع کیا یا تو حکومت کو ایوان چلانے کے لئے مطلوبہ اراکین کی تعداد حاصل نہیں تھی۔ جس کے بعد ڈپٹی چیئرمین سینٹ صابر بلوچ نے اجلاس بیس منٹ تک ملتوی کر دیا۔

31-01-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان