شکار پور ،امام بارگاہ کربلا معلی میں کربلا مچ گئی، خودکش دھماکہ سے بچوں سمیت56افراد ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-31
تاریخ اشاعت: 2015-01-31
تاریخ اشاعت: 2015-01-31
تاریخ اشاعت: 2015-01-31
تاریخ اشاعت: 2015-01-31
تاریخ اشاعت: 2015-01-31
پچھلی خبریں -

شکارپور

تلاش کیجئے

شکار پور ،امام بارگاہ کربلا معلی میں کربلا مچ گئی، خودکش دھماکہ سے بچوں سمیت56افراد جاں بحق ، 60 سے زائد زخمی، بعض کی حالت انتہائی تشویشناک، صوبے بھر کے ہسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ کر دی گئی،امام بار گاہ کی چھت زمین بوس ہوگئی،کئی افراد ملبے تلے دب گئے،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ، پاک فوج اور ایدھی سمیت دیگر اداروں کی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئی،شیعہ علماء کونسل، جعفریہ الائنس، وحدت مسلمین کا 3روزہ ،سندھ حکومت نے ایک روزہ سوگ کا اعلان کردیا، شیعہ علماء کونسل کا اتوار کو ملک گیر احتجاج کا بھی اعلان ،وزیراعظم میاں نوازشریف نے افسوسناک واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی،وزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے شہداء کے لواحقین کیلئے 5لاکھ فی کس امداد کا بھی اعلان کردیا، آصف زرداری، عمران خان، علامہ ساجد نقوی، فضل الرحمن، سراج الحق، میاں شہبازشریف، علامہ ناصر عباس، سمیع الحق سمیت قومی قیادت کا افسوس کا اظہار، ملک سے دہشتگردی ، انتہا پسندی کو ختم کرینگے، دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائیگا،نوازشریف

شکار پور/کراچی/اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔31جنوری۔2015ء)شکار پور میں امام بارگاہ کربلا معلی میں کربلا مچ گئی، خودکش دھماکہ سے بچوں سمیت56افراد جاں بحق ، 60 سے زائد زخمی ہوگئے، بعض کی حالت انتہائی تشویشناک، صوبے بھر کے ہسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ کر دی گئی،امام بار گاہ کی چھت زمین بوس ہوگئی،کئی افراد ملبے تلے دب گئے،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ، پاک فوج اور ایدھی سمیت دیگر اداروں کی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئی،شیعہ علماء کونسل، جعفریہ الائنس اور وحدت مسلمین کا 3روزہ ،سندھ حکومت نے ایک روزہ سوگ کا اعلان کردیا، شیعہ علماء کونسل نے اتوار کو ملک گیر احتجاج کا بھی اعلان کردیا، وزیراعظم میاں نوازشریف نے افسوسناک واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی،وزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے شہداء کے لواحقین کیلئے 5لاکھ فی کس امداد کا بھی اعلان کردیا، آصف زرداری، عمران خان، علامہ ساجد نقوی، فضل الرحمن، سراج الحق، میاں شہبازشریف، علامہ ناصر عباس، سمیع الحق سمیت قومی قیادت کا افسوس کا اظہار، وزیراعظم میاں نوازشریف نے کہاہے کہ ہم نے ملک سے دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کا عزم کر رکھا ہے، دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائیگا۔

تفصیلات کے مطابق جمعہ کے روز شکار پور کے علاقے لکھی در میں کربلا معلی امام بارگاہ میں ایک خود کش بمبار اس وقت داخل ہوا جب خطبہ جمعہ دیا جارہا تھا ، حملہ آور نے داخل ہوتے ہی خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں56 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ 60 سے زائد افراد زخمی ہوگئے ۔واقعہ کے فوراً بعد ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جہاں پر متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

ریسکیو ٹیموں کو علاقے کی تنگ گلیوں کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا رہا،واقعہ کے بعد امام بار گاہ کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے جبکہ رینجرز اور پولیس نے علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق شکار پور دھماکے میں زخمیوں کو ہسپتال لے جانے کیلئے پاک فوج کی 4ایمبولینسز فوراً شکار پور پہنچ گئیں جبکہ پنوں عاقل گیریڑن سے پاک فوج کے ڈاکٹروں کی ٹیمیں اور پیرا میڈیکل سٹاف بھی دھماکے کے زخمیوں کے علاج کیلئے شکار پورپہنچ گیا ۔

ادھر واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ایدھی، چھیپا سمیت دیگر امدادی ادارے بھی موقع پر پہنچ گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کی آواز اس قدر تھی کہ دور دورتک سنی جبکہ قریبی عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے اور علاقے میں کہرام مچ گیا۔ حکام کے مطابق مرنیوالوں میں بچے اور بزرگ بھی شامل ہیں۔ایس ایس پی ثاقب اسماعیل کا کہنا ہے کہ دھماکانماز جمعہ کے خطبہ کے دوران ہوا۔ امام بارگاہ کے متولی اور عینی شاہدین کے مطابق خطبے کے دوران ایک شخص امام بارگاہ کے اندر داخل ہوا اور اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

تاہم ایس ایس پی شکارپور کا کہنا ہے کہ دھماکا خودکش تھا یا نصب شدہ بارود سے کیا گیا اس بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔بم ڈسپوزل سکواڈ کے مطابق دھماکہ میں 7 کلو بارودی مواد استعمال کیاگیا ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکہ ریموٹ کنٹرول کیاگیا تھا ۔ ادھر سندھ حکومت نے بھی سانحہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ایک روزہ سوگ کا اعلان کردیا ہے جبکہ وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ نے جاں بحق افراد کے لواحقین کیلئے پانچ پانچ لاکھ فی کس امداد کا بھی اعلان کیاہے۔

ادھر دھماکہ کے فوری بعد پولیس اور امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر لاشوں اور زخمیوں کو سول اسپتال شکار منتقل کیا۔پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکھٹے کرنا شروع کردئیے ہیں، تاہم فوری طور پر دھماکے کی نوعیت معلوم نہیں ہوسکی۔لکھی در کے علاقے میں بہت سی مساجد اور دیگر عبادت گاہیں ہیں۔ دھماکے کے زخمیوں کو سول اسپتال شکارپور ، چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ اور سکھر کے نجی اسپتالوں میں منتقل کیاگیاہے۔

ہسپتال ذرائع کے مطابق دھماکے میں 35افراد کی شہادت کی تصدیق ہوچکی جبکہ آزاد ذرائع کے مطابق اب تک جاں بحق ہونیوالے افراد کی تعداد 56 سے بھی تجاوز کرچکی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

31-01-2015 :تاریخ اشاعت