وکلاء تنظیموں نے فوجی عدالتوں کے قیام کیخلاف یوم سیاہ منایا،بارز روم پر سیا ہ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ جنوری

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-30
تاریخ اشاعت: 2015-01-30
تاریخ اشاعت: 2015-01-30
تاریخ اشاعت: 2015-01-30
تاریخ اشاعت: 2015-01-30
تاریخ اشاعت: 2015-01-30
تاریخ اشاعت: 2015-01-30
تاریخ اشاعت: 2015-01-30
تاریخ اشاعت: 2015-01-30
تاریخ اشاعت: 2015-01-30
تاریخ اشاعت: 2015-01-30
-

لاہور

تلاش کیجئے

وکلاء تنظیموں نے فوجی عدالتوں کے قیام کیخلاف یوم سیاہ منایا،بارز روم پر سیا ہ پرچم لہرائے ، وکلاء اپنے بازووں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر عدالتوں میں پیش ہوئے

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔30جنوری۔2015ء)پاکستان بار کونسل کی اپیل پر وکلاء تنظیموں نے جمعرات کو ملک بھر میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف یوم سیاہ منایا،بارز روم پر سیا ہ پرچم لہرائے اور احتجاجی اجلاس منعقد کئے جس میں فوجی عدالتوں کے قیام کے لئے اکیسویں تر میم کو مسترد کرنے قراردیں منظور کی گئیں تاہم وکلاء نے سائلین کی مشکلات کے پیش نطر عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ نہیں کیا بلکہ وکلاء اپنے بازووں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر عدالتوں میں پیش ہوئے ۔

لاہور سمیت پنجاب بھر میں بھی نمائندہوکلاء تنظیموں نے یوم سیاہ منایا،بارز روم پر سیا ہ پرچم لہرائے اور احتجاجی اجلاس منعقد کئے جس میں فوجی عدالتوں کے قیام کو مسترد کرتے ہوئے اسے آئین سے متصادم قرار دیا۔لاہور ہائیکورٹ اور ماتحت عدالتوں میں وکلاء نے یوم سیاہ منایا تاہم عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ نہیں کیا اور اپنے بازووں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر عدالتوں میں پیش ہوئے ۔وکلاء بارز نے اپنے اجلاسوں میں ملک بھر میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے فوجی عدالتوں کے قیام کو مسترد کیا اور اسے آئین کے بنیادی ڈھانچے کو متاثر کرنے کے مترادف قرار دیا۔

وکلاء رہنماؤں عاصمہ جہانگیر، محمدرمضان چوہدری ، پیر مسعود چشتی ، آصف چیمہ اور میاں احمد چھپھر اعظم نذیر تارڑ، شفقت محمود چوہان ، اشتیاق اے خان نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ملک میں پہلے سے مر وجہ ضابطہ فوجداری، انسداد دہشت گردی اور کرائمنل جسٹس ایسے قوانین کی موجودگی میں فوجی عدالتوں کا قیام آئین کے متوازی نظام ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے نت نئے قوانین بنانے سے گریز کیا جائے ۔سیاسی جماعتوں نے منتخب جمہوری حکومت کی موجودگی میں فوجی عدالتوں کے قیام کے لئے 21 ویں ترمیم کر کے نہ صرف آئین کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کر دیا بلکہ قوم کو مایوس کیا ۔

30-01-2015 :تاریخ اشاعت