پولیس تشدد اور انتقامی کارروا ئی کیس،سپریم کورٹ کا وفاق اور صوبوں سے پولیس اصلاحات ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-30
تاریخ اشاعت: 2015-01-30
تاریخ اشاعت: 2015-01-30
تاریخ اشاعت: 2015-01-30
تاریخ اشاعت: 2015-01-30
تاریخ اشاعت: 2015-01-30
تاریخ اشاعت: 2015-01-30
تاریخ اشاعت: 2015-01-30
تاریخ اشاعت: 2015-01-30
تاریخ اشاعت: 2015-01-30
تاریخ اشاعت: 2015-01-30
- مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:05 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:06 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:09 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:16 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:11:11 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:11:13 اسلام آباد کی مزید خبریں

تلاش کیجئے

پولیس تشدد اور انتقامی کارروا ئی کیس،سپریم کورٹ کا وفاق اور صوبوں سے پولیس اصلاحات کا ایک جامع منصوبہ طلب، عوام کو بنیادی حقوق کی پامالی حکومت کی ذمہ داری ہے عدالت کی نہیں،اگر حکومت ناکام ہوگئی ہے تو پھر ہم یہ ذمہ داری لینے کو تیار ہیں۔تھانہ کلچر کو درست کرنے کیلئے صرف کاغذی کارروائیاں کی گئی ہیں،اگر پولیس ٹھیک کام کرے تو جرم پنپ نہیں سکتا۔جسٹس جواد ایس خواجہ

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔30جنوری۔2015ء)سپریم کورٹ نے پولیس کی طرف سے عام لوگوں پر تشدد اور انتقامی کارروائیوں کے مقدمے میں وفاق اور صوبوں سے پولیس اصلاحات کا ایک جامع منصوبہ طلب کرلیا ہے اور جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دئیے ہیں کہ عوام کو بنیادی حقوق کی پامالی حکومت کی ذمہ داری ہے عدالت کی نہیں،اگر حکومت ناکام ہوگئی ہے تو پھر ہم یہ ذمہ داری لینے کو تیار ہیں۔تھانہ کلچر کو درست کرنے کیلئے صرف کاغذی کارروائیاں کی گئی ہیں،اگر پولیس ٹھیک کام کرے تو جرم پنپ نہیں سکتا۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے جمعرات کو حیدرعلی کیس کی سماعت کی ،جسے چکوال پولیس نے ایک مقدمے میں بری ہونے کے باوجود ہراساں کیا تھا،جس پر اس نے درخواست دی تھی۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صرف

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

30-01-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان