گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور اپنے عہدے سے مستعفی، شریف برا درا ن سے کو ئی اختلا ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-30
تاریخ اشاعت: 2015-01-30
تاریخ اشاعت: 2015-01-30
تاریخ اشاعت: 2015-01-30
تاریخ اشاعت: 2015-01-30
تاریخ اشاعت: 2015-01-30
پچھلی خبریں -

لاہور

تلاش کیجئے

گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور اپنے عہدے سے مستعفی، شریف برا درا ن سے کو ئی اختلا ف ہے نہ ہی استعفی کے لئے دبا و ڈا لا گیا ،کہ ملک پر قبضہ مافیا کا راج ہے اور مافیا کے لوگ گورنر کے عہدے سے زیادہ طاقت ور ہیں،ملک میں ایک ہی طبقے کو حکمرا نی کا حق حا صل نہیں ہو نا چا ہیے ،قوم سے معافی مانگتا ہوں کہ ان کے دکھوں کا مداوا نہیں کرسکا، برطانوی شہریت چھوڑ کر پاکستان آیا تھا کہ پاکستان کے عوام کیلئے کچھ کرسکوں لیکن جو ظلم اور ناانصافیاں میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور ان کے خاتمے کیلئے میں نا کا می کے بعد مجھے اس عہدے سے چمٹے رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں،قوم سے وعدہ کرتا ہوں عوام کے حقوق کے تحفظ کیلئے ذاتی حیثیت میں جدوجہد جاری رکھوں گا، اپنے اہلخانہ اور دوست احباب سے مشاورت کے بعد اپنے مستقبل کے بارے میں اہم اعلان کرونگا، چوہدری محمد سرور کا لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب

لاہور( اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔30جنوری۔2015ء )گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے معاشرتی ناہمواریوں اور ناانصافیوں سے مایوس ہوکر اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ میں قوم سے معافی مانگتا ہوں کہ ان کے دکھوں کا مداوا نہیں کرسکا میں یہ سوچ کر برطانوی شہریت چھوڑ کر پاکستان آیا تھا کہ پاکستان کے عوام کیلئے کچھ کرسکوں لیکن جو ظلم اور ناانصافیاں میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور ان کے خاتمے کیلئے میں کچھ نہ کرسکا اس کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے اس عہدے سے چمٹے رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے لیکن میں قوم سے وعدہ کرتا ہوں عوام کے حقوق کے تحفظ کیلئے ذاتی حیثیت میں جدوجہد جاری رکھوں گا اور اپنے بے بس اور لاچار پاکستانی بہن بھائیوں کو مہنگائی ، بدامنی ، دہشتگردی ، ظلم او ر ناانصافی کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑونگا اور چند روز میں اپنے اہلخانہ اور دوست احباب سے مشاورت کے بعد اپنے مستقبل کے بارے میں اہم اعلان کرونگا ۔

۔ وزیر اعظم نواز شریف سمیت کسی نے بھی استعفے دینے کے لئے مجبور نہیں کیا بلکہ استعفے اپنی مرضی سے دیا ہے ،کہ ملک پر قبضہ مافیا کا قبضہ ہے اور مافیا کے لوگ گورنر کے عہدے سے زیادہ طاقت ور ہیں۔ملک میں ایک ہی طبقے کو حکمرا نی کا حق حا صل نہیں ہو نا چا ہیے ۔گزشتہ روز لاہور میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ سب میرے بیک گراؤنڈ سے اچھی طرح واقف ہیں میں پاکستان میں پیدا ہوا اور ایک بہتر مستقبل کی امید لئے میں برطانیہ چلا گیا اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ مجھے میری محنت کا صلہ دیا اور اللہ کے فضل سے برطانیہ کی تاریخ میں میں پہلا مسلمان اور پاکستانی ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوا ۔

لیکن میرے دل میں ہمیشہ پاکستان اور اس ملک کے عوام کیلئے یہ خواہش اور تڑپ موجود رہی کہ میرے تجربات اور زندگی کے نچوڑ سے یہاں کے عوام بھرپوراستفادہ کریں اور میں اپنے ملک اور عوام کی ترقی کیلئے کچھ نہ کچھ ضرور کروں ۔ اس لگن اور جوش کے ساتھ میں برطانیہ کی نیشلنٹی اور کاروبار چھوڑ کر پاکستان آیا تاکہ میں پاکستان کے پسے ہوئے محروم طبقات کیلئے اپنی ذاتی مشاہدے کی روشنی میں موثرکردار ادا کروں اور میرے عظیم وطن کے لوگوں کی زندگی میں مثبت تبدیلیاں آسکیں اور ہم بحثیت قوم خوشحالی کی راہ پر پر تیزی سے گامزن ہوسکیں ۔

میں بہت سے خواب اور ارادے لیکر پاکستان آیا تھا مگر مجھے آج بہت دکھ اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ میں اپنے خوابوں کو شرمندہ تعبیر نہ کرسکا ۔ میں نے ظلم اور ناانصافیاں اپنی آنکھوں سے ہوتی دیکھیں میں آج دکھی دل کے ساتھ آپ سے شرمندہ بھی ہوں اور ہاتھ باندھ کر معافی کا طلبگار بھی ہوں کیونکہ میں آپ کو محرومیوں سے نجات نہیں دلا سکا اور آج اپنے عہدے سے استعفی دے رہا ہوں میں نے غربت زدہ عوام اور سمندر پار پاکستانیوں کیلئے بہت کچھ کرنے کی جستجو کی مگر افسوس کہ میں نہ کرسکا ۔

مگر مشکل اور نامساعد حالات کے باوجود کچھ مثبت کام بھی کئے ہیں جیسا کہ عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی ، جی ایس پی پلس کے ذریعے یورپی منڈیو ں تک پاکستانی اشیاء کی فراہمی اور پاکستان کے تعلیمی اداروں کے لئے غیر ملکی امداد کی منظوری وغیرہ شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں ایک سیلف میڈ آدمی ہوں اور ہمیشہ محنت اور اللہ کے فضل وکرم پر یقین رکھا ۔ محنت کے بل بوتے پر ہی ایک ایسے معاشرے نے مجھے عزت دی جہاں پر غریب اور امیر کیلئے انصاف اور ترقی کے مواقع یکساں طور پر موجود ہیں ۔

اس معاشرے میں کسی کو رنگ و نسل کی بنیاد پر فوقیت نہیں دی جاتی یہی خواہش مجھے پاکستان لائی تھی کہ ہم ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کرینگے جہاں انصاف کا بول بالا ہوگا اور تعلیم وترقی سب کیلئے برابر ہوگی ۔ میں اسی لئے پاکستان آیا تھا کہ محرومیوں کا شکار طبقات کی آواز بن سکوں مگر معذرت کے ساتھ میں تسلیم کرتا ہوں کہ میں اس کوشش میں کامیاب نہیں ہوسکا ۔ محل نما رہائش اور وی آئی پی پروٹوکول کے قافلے کبھی بھی میری خواہش اور کمزوری نہیں رہے میں استعفیٰ دینے کے بعد سیدھا

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

30-01-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان