بااثر دہشت گردکی سزائے موت پر وفاقی حکومت دباؤ کا شکار ، نواز شریف حکومت نے اس ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات جنوری

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-29
تاریخ اشاعت: 2015-01-29
تاریخ اشاعت: 2015-01-29
تاریخ اشاعت: 2015-01-29
تاریخ اشاعت: 2015-01-29
تاریخ اشاعت: 2015-01-29
تاریخ اشاعت: 2015-01-29
تاریخ اشاعت: 2015-01-29
تاریخ اشاعت: 2015-01-29
تاریخ اشاعت: 2015-01-29
تاریخ اشاعت: 2015-01-29
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

بااثر دہشت گردکی سزائے موت پر وفاقی حکومت دباؤ کا شکار ، نواز شریف حکومت نے اس بااثر دہشت گرد کی پھانسی کی سزا کو روکوانے کے دباؤ کے آگے شکست تسلیم کر لی،قانون کے تحت صدر اگر ایک مرتبہ معافی کی اپیل مسترد کر دیں تو سات دن کے اندر پھانسی کی سزا دینا ہوتی ہے ۔رحم کی اپیل مسترد کئے جانے کے بعد سزاے موت پر عملدرآمد کو روکنا قانون کی خلاف ورزی ہے اور یہ حکومت کی دہشت گردوں کو پھانسی دینے کی اپنی ہی پالیسی سے انحراف ہے، رپو رٹ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔29جنوری۔2015ء)ایک بااثر دہشت گردکی سزائے موت پر وفاقی حکومت دباؤ کا شکار ہے ۔اور اس ننے وفاقی حکومت کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ بلا امتیاز دہشت گردوں کو پھانسی دینے کی پالیسی پر گھٹنے ٹیک دے ۔قانون اور پالیسی کی خلاف ورزی اور امتیاز کے معاملے میں نواز شریف حکومت نے اس بااثر دہشت گرد کی پھانسی کی سزا کو روکوانے کے دباؤ کے آگے شکست تسلیم کر لیا ہے حالانکہ صدر ممنون حسین نے اس مجرم کی معافی کی اپیل مسترد کر دی تھی ۔

لگتا ہے کہ وفاقی حکومت اپنی دی گئی ہدایت سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔31 دسمبر 2014 کو جاری کئے جانے والے ہنگامی پیغام میں متعلقہ صوبے کے سیکرٹری داخلہ کو آگاہ کیا گیا کہ صدر نے مذکورہ قیدی کی معافی کی اپیل مسترد کر دی ہے ۔سیکرٹری داخلہ کو یہ بھی آگاہ کیا کہ اس دہشت گرد کو صدرمملکت کے فیصلے سے آگاہ کیا جائے لیکن صرف دو دن بعد ہی یعنی2 جنوری کو وفاقی وزارت داخلہ اسی صوبائی سیکرٹری داخلہ کو فوری خط بھیجا جس میں صوبے کو ہدایت دی گئی کہ تھی تاحکم ثانی مذکورہ دہشت گرد کی پھانسی کی سزا کو روکا جائے ۔

سیکرٹری داخلہ کو یہ بھی بتایا گیا کہ صوبائی حکومت ایک مرتبہ پھر اس بات کا تعین کر لے کہ آیا یہ کیس اس دائرے میں آتا ہے جو حکومت نے طے کر رکھا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نے کچھ ہی دنوں میں وفاقی حکومت کو آگاہ کیا کہ مذکورہ دہشت گرد کا معاملہ وفاقی حکومت کی طے کردہ پالیسی کے تحت شمار ہوتا ہے ۔یہ جواب ملتے ہی وفاقی حکومت مشکل میں پھنس گئی کیونکہ اپنی ہی وضع کردہ پالیسی کے تحت اسے دہشت گردوں کی پھانسی دینا ہے لیکن وہ ایسا نہیں

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

29-01-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان