پاکستان سے آئے شہری کسی بھی حیثیت سے جموں و کشمیر کے مستقل شہری نہیں بن سکتے‘ حریت ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-29
تاریخ اشاعت: 2015-01-29
تاریخ اشاعت: 2015-01-29
تاریخ اشاعت: 2015-01-29
تاریخ اشاعت: 2015-01-29
تاریخ اشاعت: 2015-01-29
تاریخ اشاعت: 2015-01-29
تاریخ اشاعت: 2015-01-29
تاریخ اشاعت: 2015-01-29
تاریخ اشاعت: 2015-01-29
تاریخ اشاعت: 2015-01-29
- مزید خبریں

تلاش کیجئے

پاکستان سے آئے شہری کسی بھی حیثیت سے جموں و کشمیر کے مستقل شہری نہیں بن سکتے‘ حریت کانفرنس (گ) گروپ

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔29جنوری۔2015ء) حریت کانفرنس (گ) گروپ نے کہا ہے کہ پاکستان سے آئے شہری کسی بھی حیثیت سے جموں و کشمیر کے مستقل شہری نہیں بن سکتے۔ حریت کانفرنس (گ) کی مجلس شوریٰ کا ایک اجلاس جنرل سیکرٹری غلام نبی سمجھی کی زیر صدارت حیدرپورہ میں منعقد ہوا جس میں حریت سے وابستہ اکائیوں کے سربراہان اور ان کے نمائندوں نے شرکت کی۔ میٹنگ میں مغربی پاکستان کے مہاجرین کو اسٹیٹ سبجیکٹ اور ووٹ کا حق دینے سے متعلق سفارشات‘ ان کے مضمرات و اثرات پر روشنی ڈالی گئی۔

حریت جنرل سیکرٹری غلام نبی سمجھی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ پاکستان سے آئے شہری کسی بھی حیثیت سے جموں و کشمیر کے مستقل شہری نہیں بنائے جاسکتے اور دہلی حکومت کی اصولی اور اخلاقی طور پر یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ انہیں پنجاب‘ ہریانہ‘ گجرات یا راجستھان میں بسائے۔ انہوں نے کہا کہ ایک تو جموں و کشمیر کا آئین کسی بھی غیر ریاستی باشندے کو یہاں کی مستقل شہریت دینے کی اجازت نہیں دیتا اور دوسرے یہ کہ ریاست بین الاقوام سطح کا ایک تسلیم شدہ متنازعہ خطہ ہے اور اس کی حیثیت اور سٹیٹس کو کسی بھی صورت میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔

غلام نبی سمجھی نے کہاکہ دہلی میں برسراقتدار آنے والی نئی حکومت فرقہ پرستانہ اور بیمار ذہنیت کی حامل ہے اور جموں و کشمیر بارے اس کے منصوبے اور عزائم انتہائی خطرناک اور بھیانک ہیں۔ وہ نہ صرف اس کی ریاست کی ڈیموگرافی کو تبدیل کرانا چاہتی ہے بلکہ وہ یہاں کے لوگوں کی مسلم شناخت کو تباہ و برباد کرنے میں بھی بہت زیادہ جلد بازی سے کام لینا چاہتی ہے۔ انہوں نے البتہ دہلی کے پالیسی سازوں سے کہا کہ وہ آگ کیساتھ کھیل رہے ہیں اور ان کی اس پالیسی سے ریاست کے حالات کسی بھی وقت دھماکہ خیز رخ اختیار کرسکتے ہیں اور یہاں کی غیر یقینی اور عدم استحکام والی سیاسی صورتحال میں بے پناہ اضافہ ہوجائے گا۔

29-01-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان