حکمران جماعت کو ٹف ٹائم دیتے دیتے خود تحریک انصاف بھنور میں پھنسنے لگی، پارٹی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-29
تاریخ اشاعت: 2015-01-29
تاریخ اشاعت: 2015-01-29
تاریخ اشاعت: 2015-01-29
تاریخ اشاعت: 2015-01-29
تاریخ اشاعت: 2015-01-29
تاریخ اشاعت: 2015-01-29
تاریخ اشاعت: 2015-01-29
تاریخ اشاعت: 2015-01-29
تاریخ اشاعت: 2015-01-29
تاریخ اشاعت: 2015-01-29
- مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:36 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:38 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:39 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 10:35:10 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 اسلام آباد کی مزید خبریں

تلاش کیجئے

حکمران جماعت کو ٹف ٹائم دیتے دیتے خود تحریک انصاف بھنور میں پھنسنے لگی، پارٹی کے اندر کئی بحران جنم لینا شروع ہوگئے ”باغی گروپ“ نے اتوار کو اجلاس طلب کرلیا ،مرکزی رہنما اعجاز چوہدری کی کوئی اجلاس بلانے کی تردید، دھاندلی کیخلاف تحریک چلانے پر اندرونی معاملات پر توجہ نہ دے سکے ، کوئی بحران نہیں ، اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ، تمام معاملات کنٹرول میں ہیں،خصوصی بات چیت

اسلام آباد( اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔29جنوری۔2015ء ) حکمران جماعت کو ٹف ٹائم دیتے دیتے خود تحریک انصاف بھنور میں پھنسنے کے قریب پہنچ گئی اور پارٹی کے اندر کئی بحران جنم لینا شروع ہوگئے ہیں اور ”باغی گروپ“ نے اتوار کو اجلاس طلب کرلیا ہے تاہم مرکزی رہنما اعجاز چوہدری نے اس اجلاس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھاندلی کیخلاف تحریک چلانے پر اندرونی معاملات پر توجہ نہ دے سکے ، کوئی بحران نہیں ، اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ، تمام معاملات کنٹرول میں ہیں ۔

باوثوق ذرائع نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ملک گیر انٹرا پارٹی انتخابات اس وقت منعقد کرائے جب عام انتخابات عین سر پر تھے جس پرچیئرمین عمران خان کو پارٹی کے اندر اور باہر سے شدید دباؤ کا سامنا تھا مگر اس کے باوجود انہوں نے جمہوری عمل کو مکمل کرنے پر زور دیا جس کا بہرحال عام انتخابات پر بھی اثر ہوا لیکن 2014ء میں انٹرا پارٹی الیکشن کی روشنی میں نیشنل کونسل اور سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی تشکیل دی جاتی تھی مگر 2013ء کے عام انتخابات نے چیئرمین تحریک انصاف کو دلبرداشتہ کردیا اور انہوں نے تمام اندرونی معاملات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انتخابی دھاندلیوں پر توجہ دے ڈالی اور اس سلسلے میں پہلے مرحلے پر وائٹ پیپر شائع کیا گیا بعد ازاں سابق چیف جسٹس ، موجودہ وزیراعظم سمیت دیگر کو مورد الزام ٹھہرایا اور پورا سال اس وضاحت میں گزار

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

29-01-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان