سپریم کورٹ میں شہری حدود میں رکاوٹوں اور تجاوزات کے مقدمے کی سماعت سی ڈی اے کی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل جنوری

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-27
تاریخ اشاعت: 2015-01-27
تاریخ اشاعت: 2015-01-27
تاریخ اشاعت: 2015-01-27
تاریخ اشاعت: 2015-01-27
تاریخ اشاعت: 2015-01-27
تاریخ اشاعت: 2015-01-27
تاریخ اشاعت: 2015-01-27
تاریخ اشاعت: 2015-01-27
تاریخ اشاعت: 2015-01-27
تاریخ اشاعت: 2015-01-27
پچھلی خبریں -

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:36 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:38 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:39 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 10:35:10 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 اسلام آباد کی مزید خبریں

تلاش کیجئے

سپریم کورٹ میں شہری حدود میں رکاوٹوں اور تجاوزات کے مقدمے کی سماعت سی ڈی اے کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کا جائزہ لینے کیلئے 3 فروری تک ملتوی، سفارتخانوں اور پولیس کو تجاوزات کے معاملات میں کوئی نوٹس جاری نہیں کئے گئے‘ یہ معاملات حکومت کے دائرہ کار میں آتے ہیں سی ڈی اے کے نہیں،سی ڈی اے رپورٹ،کیا سفارتخانے اور پولیس والے قانون کے پابند نہیں‘ سارے کام ہم نے نہیں کرنے ‘ انصاف کی فراہمی جلد ہوسکتی ہے اگر ادارے اپنا کام کریں‘ کسی کو بھی شہری حدود میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے‘ قانون سے کوئی بالاتر نہیں‘ سی ڈی اے کی رپورٹ کا جائزہ لیں گے‘ یہ ڈاکے چوری چکاری تو تہذیب یافتہ ممالک میں بھی ختم نہیں ہوسکے یہاں کیا ختم ہوں گے ،جسٹس جواد ایس خواجہ کے ریمارکس ، سفارتخانوں کے حوالے سے اگر سکیورٹی اداروں کو اتنے ہی تحفظات ہیں تو پھر انہیں ڈپلومیٹک انکلیو میں کیوں منتقل نہیں کردیا جاتا‘ ان رکاوٹوں نے عام آدمی کا جینا دوبھر کردیا ہے‘ اس طرح کے معاملات کی اجازت نہیں دے سکتے،جسٹس سرمد جلال عثمانی

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔27جنوری۔2015ء) سپریم کورٹ نے شہری حدود میں رکاوٹوں اور تجاوزات کے مقدمے میں سی ڈی اے کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کا جائزہ لینے کیلئے سماعت 3 فروری تک ملتوی کردی‘ سی ڈی اے نے رپورٹ میں بتایا ہے کہ سفارتخانوں اور پولیس کو تجاوزات کے معاملات میں کوئی نوٹس جاری نہیں کئے گئے‘ یہ معاملات حکومت کے دائرہ کار میں آتے ہیں سی ڈی اے کے نہیں، جس میں تمامتر معاملات سکیورٹی ایجنسیاں سرانجام دیتی ہیں جبکہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا سفارتخانے اور پولیس والے قانون کے پابند نہیں‘ سارے کام ہم نے نہیں کرنے‘ ہمارا کام آئین اور قانون کی تشریح کرنا ہے‘ اس ملک میں غریب تو غریب امیر کا بھی کوئی پرسان حال نہیں‘ سی ڈی اے اگر ان معاملات کو حل نہیں کرسکتی تو سب کو ایک لیٹر کیوں نہیں جاری کردیتی کہ ہم ان کو سکیورٹی نہیں دے سکتے‘فوری انصاف کا یہ حال ہے کہ دعویٰ دائر ہونے کے 25‘ 25 سال گزر جاتے ہیں مگر انصاف نہیں ملتا‘ انصاف کی فراہمی جلد ہوسکتی ہے اگر ادارے اپنا کام کریں‘ کسی کو بھی شہری حدود میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے‘ قانون سے کوئی بالاتر نہیں‘ سی ڈی اے کی رپورٹ کا جائزہ لیں گے‘ یہ ڈاکے چوری چکاری تو تہذیب یافتہ ممالک میں بھی ختم نہیں ہوسکے یہاں کیا ختم ہوں گے جبکہ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے ریمارکس دئیے کہ سفارتخانوں کے حوالے سے اگر سکیورٹی اداروں کو اتنے ہی تحفظات ہیں تو پھر انہیں ڈپلومیٹک انکلیوں میں کیوں منتقل نہیں کردیا جاتا‘ ان رکاوٹوں نے عام آدمی کا جینا دوبھر کردیا ہے‘ اس طرح کے معاملات کی اجازت نہیں دے سکتے۔

انہوں نے یہ ریمارکس پیر کے روز دئیے جبکہ جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت شروع کی تو اس دوران سی ڈی اے کے وکیل ایس اے رحمن پیش ہوئے اور انہوں نے عدالت میں رپورٹ پیش کی اور عدالت کو بتایا کہ سی ڈی اے نے تمام اداروں کو سکیورٹی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

27-01-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان