نئے سعودی حکمران کے سامنے طوفانی حالات کھڑے ہیں، جرمن میڈیا، اندرونی سطح پر اصلاحات ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار جنوری

مزید بین الاقوامی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-25
تاریخ اشاعت: 2015-01-25
تاریخ اشاعت: 2015-01-25
تاریخ اشاعت: 2015-01-25
تاریخ اشاعت: 2015-01-25
تاریخ اشاعت: 2015-01-25
تاریخ اشاعت: 2015-01-25
تاریخ اشاعت: 2015-01-25
-

تلاش کیجئے

نئے سعودی حکمران کے سامنے طوفانی حالات کھڑے ہیں، جرمن میڈیا، اندرونی سطح پر اصلاحات میں تعطل اور خارجہ پالیسیوں میں ناکامی سے ’وہابی بادشاہت‘ کے مستقبل کو خطرہ لاحق ہے، سعودی قیادت کو اندرونی مسائل اور بیرونی تنازعات کا سامنا ہے،شاہی خاندان میں ایک حقیقی نسل کی تبدیلی ابھی آئے گی اور اس میں ابھی چند سال لگ سکتے ہیں، تبصرہ

برلن (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔25جنوری۔2015ء ) غیر ملکی میڈیا نے شاہ عبداللہ کی وفات کے بعد سعودی عرب کی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے حکمران کے سامنے طوفانی حالات کھڑے ہیں، اندرونی سطح پر اصلاحات میں تعطل اور خارجہ پالیسیوں میں ناکامی سے ’وہابی بادشاہت‘ کے مستقبل کو خطرہ لاحق ہے۔ جرمن میڈٰیا کے ایک سینئر تبصرہ نگار کا کہنا ہے کہ شاہ عبداللہ کی وفات کے بعد ان کے جانشین کا نام سامنے آنے میں ذرہ بھی دیر نہیں لگائی گئی اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ شاہ عبداللہ ایک عرصے سے علیل تھے اور سعودی شاہی خاندان کے پاس ان کا جانشین مقرر کرنے کے لیے کافی وقت تھا۔

تاہم اقتدار کی ہموار منتقلی اس حقیقت کو نہیں چھپا سکتی کہ سعودی قیادت کو اور شاہ سلمان کو اندرونی مسائل اور بیرونی تنازعات کا سامنا ہے۔شاہ سلمان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ڈیمینشیا یا پارکنسنز کی بیماری کے شکار ہیں اور اپنے پیشرو کی طرح آزاد خیال اصلاحات پسند‘ ہیں۔ ان کی عمر تقریبا 79 برس ہے اور اسی وجہ سے انہیں ’بہترین عبوری بادشاہ‘ کہا جا سکتا ہے۔ سعودی شاہی خاندان میں ایک حقیقی نسل کی تبدیلی ابھی آئے گی اور اس میں ابھی چند سال لگ سکتے ہیں۔

آلِ سعود کے خاندان کے سابق بادشاہوں کے برعکس نئی قیادت مخمصے کی شکار ہے۔ سیکولر اشرافیہ سماجی اور شہری اصلاحات نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ قدامت پرست معاشرے پر کنٹرول اور خالص وہابی نظریات کا تسلسل چاہتی ہے۔ ایسے میں ظاہر ہے کہ حکومت کے پاس چیزوں میں ردو بدل کے لیے بہت کم گنجائش رہ جاتی ہے۔وہابی بنیاد پرستی اقتدار کے ڈھانچے کا ایک مرکزی حصہ ہیں لیکن شاہی خاندان کے لیے صرف وہابیت ہی مرکزی چیز نہیں ہے۔

اصل میں شاہی خاندان کے لیے یہ ایک ریاستی نظریہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شاہی خاندان کی اپنی زندگیوں

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

25-01-2015 :تاریخ اشاعت