فوجی عدالتوں پر سب کا اتفاق رائے ہے تو ہم بھی اختلاف نہیں کریں گے،مولانا فضل الرحمن ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-25
تاریخ اشاعت: 2015-01-25
تاریخ اشاعت: 2015-01-25
تاریخ اشاعت: 2015-01-25
تاریخ اشاعت: 2015-01-25
تاریخ اشاعت: 2015-01-25
تاریخ اشاعت: 2015-01-25
تاریخ اشاعت: 2015-01-25
تاریخ اشاعت: 2015-01-25
تاریخ اشاعت: 2015-01-25
تاریخ اشاعت: 2015-01-25
- مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

فوجی عدالتوں پر سب کا اتفاق رائے ہے تو ہم بھی اختلاف نہیں کریں گے،مولانا فضل الرحمن ،اگر ایکشن پلان مدارس کیخلاف ہوا تو ہمیں اعتراض ہوگا،مدارس کی رجسٹریشن پر قانون بن چکا آپریشن کا کوئی جواز نہیں ہوگا،اسلحہ کی سیاست کو پسند نہیں کرتا، دہشتگردی کو ایک مسلک سے وابستہ کرنا امتیازی قانون ہے، نجی ٹی وی پروگرام میں اظہار خیال

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔25جنوری۔2015ء) جمعیت علماء اسلا م (ف )کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ فوجی عدالتوں پر سب کا اتفاق رائے ہے تو ہم بھی اختلاف نہیں کریں گے،اگر ایکشن پلان مدارس کیخلاف ہوا تو ہمیں اعتراض ہوگا،مدارس کی رجسٹریشن پر قانون بن چکا آپریشن کا کوئی جواز نہیں ہوگا۔نجی ٹی وی پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں کے قیام پر کوئی دھرنا نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کسی ایک مدرسے میں دہشتگردی کی تربیت نہیں دی جارہی ہے،جن کو پھانسیاں دی گئی ہیں،ان میں کوئی مدرسے والا شامل نہیں ہیں۔مدارس کی رجسٹریشن پر قانون بن چکا،آپریشن کا کوئی جواز نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اسلحہ کی سیاست کو پسند نہیں کرتا،افغانستان میں بھی پسند نہیں کرتا،افغانستان کو اپنا وطن سمجھتا ہوں،میرے دادا افغانستان سے ہی آئے تھے۔افغانستان میں امن چاہتے ہیں،ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان میں سیاسی مفاہمت آجائے،مسلک کا انکار کوئی نہیں کرسکتا،ایک مسلک سے تعلق رکھنے والا دوسرے مسلک سے تعلق رکھنے والوں کے مدرسے میں تعلیم حاصل کرسکتا ہے،تعصب پر مبنی تمام کتابوں کی اشاعت پر پابندی لگائی جائے اور قانون سازی بھی ہونی چاہئے۔

پاکستان میں مسلح جنگ کو جائز نہیں سمجھتا،دہشتگردوں کا کوئی مذہب نہیں ہے،لیکن آنکھیں بند کرکے حکومت کی ہر بات نہیں مان سکتے،جہاں اختلاف رائے ہوگا اختلاف کریں گے ہم حکومت میں ہیں حکومت سے نہیں نکلنا چاہتے،ہم اپنی بات میاں نوازشریف کو سمجھائیں گے،آصف علی زرداری سے ذاتی طور پر دوستی گہری ہے،میاں صاحب کے ساتھ سیاسی تعلقات ہیں۔عمران خان کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا،عمران کے کلچر سے نفرت کرتا ہوں،عمران خان سے ذاتی تعلقات اچھے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انسانوں کی لاشوں پر سیاست کرنے سے نفرت ہے،سانحہ پشاور نے حالات میں تبدیلی پیدا کی عوام نے حکمرانوں سے کس بات کا تقاضا کیا،دہشتگردی کو ایک مسلک سے وابستہ کرنا امتیازی قانون ہے۔

25-01-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان