اسلام آباد، سینٹ کی تین قائمہ کمیٹیوں کا پٹرول بحران کا جائزہ لینے اور ذمہ داروں ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-24
تاریخ اشاعت: 2015-01-24
تاریخ اشاعت: 2015-01-24
تاریخ اشاعت: 2015-01-24
تاریخ اشاعت: 2015-01-24
تاریخ اشاعت: 2015-01-24
تاریخ اشاعت: 2015-01-24
تاریخ اشاعت: 2015-01-24
تاریخ اشاعت: 2015-01-24
تاریخ اشاعت: 2015-01-24
تاریخ اشاعت: 2015-01-24
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

اسلام آباد، سینٹ کی تین قائمہ کمیٹیوں کا پٹرول بحران کا جائزہ لینے اور ذمہ داروں کے تعین کیلئے اہم اجلاس ،بحران کی ذمہ دار اوگرا نہیں ہے ،چیئرمین اوگرا، بحران پٹرول کی طلب میں اضافہ سے پیدا ہوا ہے ،شاہد خاقان عباسی،پٹرول بحران سے غریبوں کو لوٹا گیا ہے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے اپنے نقصانات کا ازالہ کرنے کے لیے بحران پیدا کیا ۔ پارلیمانی کمیٹیوں کا موقف،ممبران کی تجاویز کی روشنی میں سفارشات چیئرمین سینٹ اور ایوان میں پیش کی جائینگی ،کمیٹیوں کے اجلاس میں فیصلہ

اسلام آباد( اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔24جنوری۔2015ء ) سینٹ کی تین قائمہ کمیٹیوں نے پٹرول بحران کا جائزہ لینے اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے اہم اجلاس جمعہ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا ۔ اجلاس میں اوگرا چیئرمین نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ بحران کی ذمہ دار اوگرا نہیں ہے ۔ وفاقی وزیر پٹرولیم نے کہا کہ بحران پٹرول کی طلب میں اضافہ سے پیدا ہوا ہے پی ایس او کو پٹرول درآمد کرنے میں مالی مشکلات درپیش نہیں ہیں پارلیمانی کمیٹیوں نے متفقہ طور پر اس موقف کا اعادہ کیا کہ پٹرول بحران سے غریبوں کو لوٹا گیا ہے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے اپنے نقصانات کا ازالہ کرنے کے لیے بحران پیدا کیا ۔

کمیٹیوں کے اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ ممبران کی تجاویز کی روشنی میں سفارشات چیئرمین سینٹ اور ایوان میں پیش کی جائینگی ۔ اجلاس کی صدارت سینیٹرنسرین جلیل ، سینیٹرمحمد یوسف اور سینیٹر زاہد خان نے کی ۔ اجلاس میں وفاقی وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی، سیکرٹری پٹرولیم، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری پانی و بجلی نے بریفنگ دی ۔ سینیٹرصغریٰ امام ،سید خدا بخش چانڈیو، سینیٹر کلثوم پروین ، سینیٹر محسن لغاری ، سینیٹر سیف مگسی ، سینیٹر سلیم مانڈوی والا ، روبینہ خالد ، ایم حمزہ وغیرہ نے شرکت کی ۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پٹرول بحران پر کمیٹیوں کا اجلاس ایک مثبت اقدام ہے کسی بھی بحران کی ذمہ داری کابینہ پرعائد ہوتی ہے لیکن اپوزیشن نے ان کے موقف کومسترد کردیا اور کہا کہ کمیٹیوں میں ہر وزیر اپنی وزارت کا جواب دہ ہوتا ہے ۔ شاہد خاقان عباسی نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پٹرول بحران کی وجہ طلب میں غیرمعمولی اضافہ ہے طلب میں اضافہ گزشتہ ماہ پچیس فیصد سے زیادہ ہوا جو کہ غیر معمولی ہے اوگرا آرڈیننس کے تحت 20دن کا ذخیرہ رکھنا ہوتا ہے کمپنیاں نہ رکھیں تو ایکشن لیا جاسکتا ہے جنوری میں پٹرول سیل چالیس ہزار میٹرک ٹن تک پہنچ گئی ہے پارکو ریفائنری کے خراب ہونے سے بھی سپلائی میں تعطل پیدا ہوا بنیادی طورپر پہلے دس دنوں میں پٹرول کی طلب روزانہ سترہ ہزار میٹرک ٹن ہے 54فیصد حصہ غیر حکومتی پٹرول کمپنیاں سپلائی کرتی ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ پی ایس او سے وزارت پانی و بجلی زیادہ تیل خریدتا ہے سرکلرڈیٹ کی وجہ سے پی ایس او مالی میں مسائل پیدا ہوئے ہیں پی ایس او سالانہ 1600 ارب کا کاروبار کرتا ہے سرکلرڈیٹ نے پی ایس او پر برے اثرات ڈالے ہیں لیکن بحران سرکلر ڈیٹ کی وجہ سے نہیں پیدا ہوا، 2008ء میں 1.4ملین ٹن پٹرول کی کھپت تھی آج بڑھ کر 5ملین ٹن سالانہ کی کھپت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کی غلط رپورٹنگ کے باعث ملک میں پٹرول بحران نے جنم لیا میڈیا بھی ذمہ داری کا احساس کرے ۔

انہوں نے کہا کہ اس سیکٹر کوڈی ریگولیٹ کرنا پڑے گا اگلے مہینے پٹرول کی قیمت فی لیٹر سی این جی سے ایک کلو سے کم ہوجائے گی ۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ صابر بلوچ نے کہا کہ پی ایس او پر بینک اعتماد نہیں کررہے اور پی ایس او کی ایل سی نہیں کھل رہی جس پر وزیر پٹرولیم نے کہا کہ یہ سب افواہ ہے تمام بینک پی ایس او کی ایل سی کھول رہے ہیں پی ایس او 84 ارب کا مقروض نہیں ہے ۔ سیکرٹری پانی و بجلی یونس دھارا نے کہا کہ بجلی چوری اور لائن لاسز کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے ہیں پاور سیکٹر نے پی ایس او کو 170ارب روپے ادا کرنے ہیں 40 ارب ایک دو دن میں ادا کردینگے پٹرول بحران مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے نہیں نومبر میں فرنس آئل کی کھپت میں کمی کی گئی ہے مستقبل میں لوڈ شیڈنگ کی کمی ہوگی ۔

سیکرٹری خزانہ وقار مسعود نے کہا کہ حکومت دو سے اڑھائی روپے کی سبسڈی فی یونٹ دے رہی ہے 48 ارب سرکلرڈیٹ ادا کیا گیا ہے اس سال 238ارب کی مجموعی سبسڈی دی گئی 18ماہ میں حکومت نے 967 ارب روپے کی سبسڈی دی ہے تاکہ عوام پر بوجھ کم ہو ۔ جہانگیر بدر نے کہا کہ وزیر پٹرولیم کی بریفنگ ناقص ہے حقائق چھپائے گئے ہیں بتایا جائے کہ پاکستان نے ایران کو کب پٹرول برآمد کیا ہے 2004ء ،2007ء کے دوران ایران کو پٹرول برآمد کیا ہے یہ پٹرول پارکو ریفائنری سے دیا گیا ۔

سردار فتح حسنی نے کہا کہ حکومت اوگرا کے دو ممبران کو تعینات کیوں نہیں کررہی ۔ سینیٹرصابر بلوچ نے کہا کہ وزیر ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں ۔ پٹرولیم منسٹر نے کہا کہ جنوری میں چار جہاز پٹرول لے کر آئینگے ایل سی کھل گئی ہے پٹرول بحران کی ذمہ دار وزارت پانی و بجلی کے بقایا جات نہیں ہیں ۔ سینیٹر سیف مگسی نے کہا کہ جب قیمتیں کم کی گئیں تو وزراء کو طلب میں اضافہ کا تخمینہ لگانا چاہیے تھا جبکہ وزارت خزانہ اس پورے بحران کی ذمہ دار لگتی ہے اوگرا کی ذمہ داری ہے کہ کمپنیاں بیس دن کا سٹاک رکھیں ۔

وزیر پٹرولیم نے کہا کہ مالی معاملات کی وجہ سے پٹرول بحران پیدا نہیں ہوا ۔ سینیٹرعثمان سیف اللہ نے پوچھا کہ جن افسران کو معطل کیا گیا تو ان پر کیا الزامات ہیں اس بحران میں اوگرا کا کیا کردار ہے اور ڈی ریگولیٹ کیا قومی مفادات میں ہیں۔ وزیر پٹرولیم نے کہا کہ پٹرولیم وزارت کے افسران کو پٹرول بحران پر معطل کئے گئے ہیں ان کیخلاف انکوائری جاری ہے وجوہات بالکل سامنے آجائینگی ۔ وزیر پٹرولیم نے ایک سوال کے جواب میں کہا ایک لاکھ ٹن سے زائد پٹرول ذخیرہ دسمبر کے آخری دن تک تھا۔

سینیٹر خدا بخش چانڈیو نے کہا کہ تمام وزارتیں وزارت خزانہ کو بچانے میں لگی ہوئی ہیں اگر بحران نہیں تو وزراء قوم سے معافی کیوں مانگ رہے ہیں اگر افسران کو چارج شیٹ کے بغیر معطل کیا گیا تو وزراء کو معطل کیوں نہیں کیا گیا ۔ وزیر پٹرولیم نے کہا کہ جب بحران پر قابو پایا گیا سیکرٹری پانی و بجلی نے کہا کہ واپڈا کی چار کمپنیاں فرنس آئل پی ایس او سے لیتی ہیں باقی نجی شعبے سے خریدتے ہیں سیدہ صغریٰ امام نے پوچھا کہ اس بحران سے فائدہ کس مافیا نے اٹھایا ہے ۔

وزارت پٹرولیم اور مافیا کے مابین قریبی تعلق ہے اور کیا حکومت نے پی ایس او آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کیخلاف کیا ایکشن لیا ہے اس بحران سے مافیا نے اربوں روپے کا فائدہ اٹھایا ۔ سیکرٹری پٹرولیم نے کہا کہ ابتدائی سطح پر بحران پر کسی کو ذمہ دار قرار دینا مشکل ہے سیکرٹری پٹرولیم نے کہا کہ بوتل میں جن کے مترادف ہے جس پر صابر بلوچ نے کہا کہ بوتل میں صرف وسکی شراب آتی ہے سینیٹر صغریٰ امام نے کہا کہ بوتل والا دن کہنا غریبوں سے مذاق ہے ۔

تیل بحران سے ملک سے بھیک مانگنے والے کم ہوئے کیوں کہ انہوں نے پٹرول بحران سے بھکاری امیر ہوئے بھیک مانگنے والوں نے پٹرول پمپوں سے بوتل میں تیل خریدا اور بلیک میں فروخت کیا ۔ چیئرمین اوگرا نے کہا کہ اوگرا کو کمپنیوں کو لائسنس جاری کرنے کا اختیار ہے بیس دن تیل سٹوریج رکھنے کو یقینی بنانا اوگرا کا اختیار نہیں ہے ہم نے صرف سہولیات کی نگرانی کرنی ہوتی ہے اوگرا چیئرمین نے تسلیم کیا کہ پٹرول بحران میں بلیک میں تین سو روپے فی لیٹر فروخت ہوا ہے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو جرمانے کئے اور بحران سے فائدہ اٹھانے والے پٹرول پمپ کے خلاف ایکشن لیا جائے گا سینیٹر سیف اللہ مگسی نے کہا کہ بحران کی ذمہ داری قرار دینے کیلئے ایک آزادانہ انکوائری ہونی چاہیے سیکرٹری خزانہ نے پارلیمانی کمیٹی کو عزت نہیں دی اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے ۔

24-01-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان