سپریم کورٹ کا سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی دستخط کردہ ایک اہم دفتری دستاویز ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-23
تاریخ اشاعت: 2015-01-23
تاریخ اشاعت: 2015-01-23
تاریخ اشاعت: 2015-01-23
تاریخ اشاعت: 2015-01-23
تاریخ اشاعت: 2015-01-23
تاریخ اشاعت: 2015-01-23
تاریخ اشاعت: 2015-01-23
تاریخ اشاعت: 2015-01-23
تاریخ اشاعت: 2015-01-23
تاریخ اشاعت: 2015-01-23
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

تلاش کیجئے

سپریم کورٹ کا سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی دستخط کردہ ایک اہم دفتری دستاویز کا معاملہ کھلی عدالت میں پیش کرنے کا حکم

اسلام آباد( اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔23جنوری۔2015ء )سپریم کورٹ نے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی دستخط کردہ ایک ا ہم دفتری دستاویز کا معاملہ کھلی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیدیا ۔ مذکورہ دستاویز میں جسٹس چوہدری نے ان تمام افراد کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کا حکم دیا تھا جو ان کے فرزند ڈاکٹر ارسلان کے بارے میں اہم معلومات منظر عام پر لائے ۔ یاد رہے کہ سابق چیف جسٹس اپنے فرزند اور ملک ریاض حسین کے مابین مالی تنازعے کی سماعت سے الگ ہوگئے تھے اور بعد ازاں مذکورہ مقدمہ جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسن نے سنا تھا لیکن بظاہر علیحدگی کے باوجود سابق چیف جسٹس نے مورخہ چھبیس جولائی 2012ء کو ڈاکٹر ارسلان کے مبینہ تحفظ کیلئے توہین عدالت کا ایک نیا مقدمہ رجسٹر کرنے کا حکم دیا اور اصرار کیا کہ یہ مقدمہ عین اسی روز مذکورہ بالا دورکنی بینچ کے روبرو لگایا جائے جو ان دنوں ملک ریاض اور ارسلان افتخار کی دائر کردہ نظر ثانی کی درخواستوں کی سماعت میں مصروف تھا تین صفحات پر مشتمل عدالت کی ایڈمن برانچ کی دستاویز پچیس جولائی کو تیار کی گئی اور اگلے روز سابق چیف جسٹس نے تمام ذمہ داروں کیخلاف فوری کارروائی کا حکم جاری کردیا ۔

بعدازاں نومبر 2012ء میں مذکورہ دستاویز کی مصدقہ نقل کے حصول کیلئے ایک آئینی درخواست دائر کی گئی جس پر رجسٹرار نے اعتراضات لگا دیئے کوئی شخص کسی آفس نوٹ کی مصدقہ نقل طلب نہیں کرسکتا اور نہ ہی دستاویز کسی قانون طریقے سے حاصل کی گئی ہے واضح رہے کہ آئینی درخواست آرٹیکل 19A میں دیئے گئے معلومات تک رسائی کے بنیادی حق کے حصول کیلئے دائر کی گئی تھی البتہ سابق چیف جسٹس کے باعث عدالت کے دفتر نے اعتراضات کیخلاف اپیل کو رجسٹر کرنے سے انکار کردیا اور اپیل کنندہ کے جوابات کو سکینڈل قرار دیا اس ماہ کے اوائل میں سپریم کورٹ نے رجسٹرار کے اعتراضات یکسر مسترد کردیا چیمبر میں سماعت کے دوران جسٹس انور ظہیر جمالی نے اپیل کنندہ کو وہ نکات پڑھنے کی ہدایت کی جنہیں سکینڈل سے تشبیہ دی گئی اپیل کنندہ نے وہ جملے بھی پڑھے جس میں چیف جسٹس کے بیٹے کا ایک فریق مقدمہ سے بھاری رقم بٹورنے کا ذکر تھا اور جسے تحفظ دینے کیلئے موصوف نے توہین عدالت کا اضافی مقدمہ دائر کرنے کا حکم جاری کیا

23-01-2015 :تاریخ اشاعت