آئینی تر میم آئین کے الفاظ ہی شامل جمع کر دیئے جائیں تو مسئلہ حل ہو جا ئیگا،مولانا ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-23
تاریخ اشاعت: 2015-01-23
تاریخ اشاعت: 2015-01-23
تاریخ اشاعت: 2015-01-23
تاریخ اشاعت: 2015-01-23
تاریخ اشاعت: 2015-01-23
تاریخ اشاعت: 2015-01-23
تاریخ اشاعت: 2015-01-23
تاریخ اشاعت: 2015-01-23
پچھلی خبریں -

لاہور

تلاش کیجئے

آئینی تر میم آئین کے الفاظ ہی شامل جمع کر دیئے جائیں تو مسئلہ حل ہو جا ئیگا،مولانا فضل الرحمن،قوم ،علماء مدارس دہشت گر دی کی جنگ میں حکومت کے ساتھ ہیں، دین، وطن اور مدارس ومساجد کی بقاء کی جنگ لڑیں گے، آج وطن عزیز جن بحرانوں کا شکار ہے ہم ان بحرانوں سے نکالنے کیلئے آخری سانس تک جدو جہد کریں گے،سربراہ جے یو آئی

اسلام آباد/لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔23جنوری۔2015ء)جمعیت علماء اسلام کے سر براہ مو لا نا فضل الرحمن نے کہا کہ اگر آئینی تر میم آئین کے الفاظ ہی شامل جمع کر دیئے جائیں تو مسئلہ حل ہو جا ئے گا ،قوم ،علماء مدارس دہشت گر دی جنگ میں حکومت کے ساتھ ہیں دین وطن اور مدارس ومساجد کی بقاء کی جنگ لڑیں گے آج وطن عزیز جن بحرانوں کا شکار ہے ہم وطن کو ان بحرانوں سے نکالنے کیلئے آخری سانس تک جدو جہد کریں گے وہ لاہور میں منعقدہ قومی سیمینار سے صدارتی خطاب کررہے تھے سیمینار سے مو لا نا سمیع الحق،پرفیسر ساجد میر ، ،لیاقت بلوچ ،صاحبزادہ اویس احمد نوارنی ،مو لا نا عبد الغفور حیدری،،ڈاکٹر ابولخیر زبیر،مو لا نا عبد الشکور نقشبندی،علامہ محمد رمضان تو قیر ،مو لا نا عطاء المومن شاہ بخاری ،کامران مرتضی ،محمد اکرم خان درانی،مو لا نا محمد امجد خان ،مو لا نا سعید یوسف ، ، مو لا نا اللہ وسایا ،مو لا نا عبد المالک،سید سلمان گیلانی، مو لا نا شاکر محموداور دیگر نے خطاب کیا انہوں کہا کہ ہم میں اکا برین سامراج کے سامنے ڈٹنے کا پیغام دیا ہے انہوں نے کہا کہ دینی مدارس سے کوائف مانگ کر ہراساں کیا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت مدارس کے ساتھ اب تک ہو نے معاہدوں کی پابندی کرے اگر خلاف ورزی کی گئی تو ہم مدارس بند کر کے جیل بھروتحریک چلائیں گے انہوں نے کہا کہ سیکولر لابی ملا اور فوج کو لڑانے کی سازش کر رہی ہے لیکن ہم ایسی سازشوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں کسی کو وطن اور مدارس کے خلاف کامیاب نہیں ہونے دیا جا ئے گا ایک بار پھر ہماری استقامت کا امتحان ہے ہمیں مشکل فیصلوں پر مجبور نہ کیا جا ئے انہوں نے کہا کہ گستاخانہ خاکوں کے ذریعے مسلمانوں کے جذبات سے کھیلا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ خاکے چھاپنے والوں نے سب سے بڑی دہشت گردی کی ہے انہوں نے کہا کہ اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے انہوں نے کہا کہ دنیا کو نئی جغرافیا ئی کی طرف لے جا یا جارہا انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت مشکل دور سے گذر رہا ہے جذبات کے بجائے مغرب ایجنڈے کو سمجھا جائے انہوں نے کہا کہ ہمیشہ دینی قوتوں اور مدارس نے ہمیشہ مسلحہ جدو جہد کی مخالفت کی ہے اور اس کی مخالفت کرتے رہیں گے انہوں نے کہا کہ قوم شریعت مانگتی ہے شریعت لا نا بھی حکمرانوں کی آئینی ذمے داری ہے پا کستان میں حقیقی معاشی سیا سی انقلاب اسلام کے نفاذ سے ہی ممکن ہے انہوں نے کہا کہ آئین پا کستان قومی دستاویز ہے جب آئین پر عمل در آمد نہیں ہو گا تو افرا تفری ہو گی انہوں نے کہاکہ کل جہاد کے لیئے افغانستان میں لڑنے کے لیئے دنیا بھر سے لو گو ں کو وی آئی پی بنا کر لا یا گیا پا کستان میں کا لجوں یو نیورسٹیوں اور مدراس کے لڑکوں کو کس نے اس میدان میں دھکیلا تھا آج سکھانے والے محفوظ اور سیکھنے والے مجرم ہیں انہوں نے کہا کہ کلاشنکوف کلچر کس نے دیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ایران بھی افغان جہاد میں تھا لیکن وہاں سے کوئی تحریک نہیں اٹھی کیونکہ انہوں نے بیرونی ایجنڈے کو کنٹرول کیا ہے انہوں نے کہا کہ ملک افرا تفری پیدا کر نا عالمی ایجنڈا ہے مو لا نا فضل الرحمن نے کہا کہ پشاور اسکول میں قتل ہو نے والے طلباء ہمارے بچے تھے انھیں میں کئی بچے علماء اور کئی جے یو آئی کے لو گو ں کے تھے لیکن یہ سانحہ کھلی درندگی کی بد ترین مثال ہے انہوں نے کہا کہ دینی مدارس محبت کا پیغام دے رہے ہیں لیکن انکے کے خلاف یہ مہم قابل افسوس اور قابل مذمت ہے انہوں نے کہا کہ دہشت گر دی کے خلاف سب ایک ہیں قوم دینی قوتیں مساجدمدارس علماء سب دہشت گر دی کے خلاف متحد ہیں انہوں نے کہا کہ جے یو آئی مسلح جدو جہد پر یقین نہیں رکھتی بلکہ پار لیمانی اور آئینی جدو جہد کی حامی ہے ۔

جماعت اسلامی کے سیکر ٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا کہ مو لا نا فضل الرحمن نے ہمیشہ عوام کے دلوں کی تر جمانی کی انہوں نے کہا کہ مدارس مساجد غلبہ اسلام کا ذریعہ ہیں انہوں نے کہا کہ پشاور کا سانحہ قومی المیہ ہے دہشت گر دی کے خلاف مذہبی اور سیا سی جماعتیں ایک ہو گئیں تھیں لیکن بیرونی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

23-01-2015 :تاریخ اشاعت