آئینی و قانونی ترامیم کو ویب سائٹ پر ڈالنے اور تراجم کیس ، سپریم کورٹ نے وفاق اور ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات جنوری

مزید قومی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-22
تاریخ اشاعت: 2015-01-22
تاریخ اشاعت: 2015-01-22
تاریخ اشاعت: 2015-01-22
تاریخ اشاعت: 2015-01-22
تاریخ اشاعت: 2015-01-22
تاریخ اشاعت: 2015-01-22
تاریخ اشاعت: 2015-01-22
پچھلی خبریں -

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:05 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:06 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:09 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:16 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:11:11 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:11:13 اسلام آباد کی مزید خبریں

تلاش کیجئے

آئینی و قانونی ترامیم کو ویب سائٹ پر ڈالنے اور تراجم کیس ، سپریم کورٹ نے وفاق اور صوبوں سے جواب طلب کر لیا،جسٹس جواد ایس خواجہ نے سیکرٹری قانون کو سخت ڈانٹ پلادی، وزارت قانون ترامیم کو ویب سائٹس پر نہیں ڈال سکتی تو کیوں نہ اسے بند کر دیا جائے،جسٹس جواد،حکومتی معاملات تشویش ناک ہیں، کسی کو عدالت کا مذاق اڑانے کی اجازت نہیں دیں عوام کی فلاح کے کسی معاملہ پر سمجھوتہ نہیں کر سکتے،ریمارکس

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔22جنوری۔2015ء)سپریم کورٹ میں آئین و قانون میں ہونے والی ترامیم کو ویب سائٹ پر ڈالنے اور مقامی زبانوں میں تراجم کرنے کے مقدمے میں وفاق اور صوبوں سے آج (جمعرات کو) جواب طلب کیا ہے جبکہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے وفاقی سیکرٹری قانون جسٹس (ر) محمد رضا خان کو سخت ترین ڈانٹ پلاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وفاقی وزارت قانون عام لوگوں کی آگاہی کے لئے کی گئی ترامیم کو ویب سائٹس پر نہیں ڈال سکتی تو کیوں نہ اس کو بند کر دیا جائے۔

حکومت اپنے کام کیوں نہیں کرتی۔ حکومتی معاملات تشویش ناک ہیں سیکرٹری قانون کی ناک کے نیچے یہ سب کچھ ہو رہا ہے اس طرح سے کسی کو عدالت کا مذاق اڑانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انتہائی اہم اور سنجیدہ مقدمہ ہے جس کو حل طلب نہیں چھوڑ سکتے۔ عوام الناس کی فلاح و بہبود کے کسی بھی معاملہ پر سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔ بتایا جائے وزارت قانون کا بجٹ کتنا ہے۔ قانون سے نابلد ہونے کا تذکرہ تو سب کرتے ہیں مگر وفاق سمیت صوبو ں کو یہ تک معلوم نہیں ہے کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟۔

انہوں نے یہ ریمارکس بدھ کے روز دیئے ہیں جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل خان اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

22-01-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان