پی ایس او کا دیوالیہ نکالنے والے حکمران اب پاور سیکٹر کے پیچھے پڑ گئے،حکومت بجلی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-22
تاریخ اشاعت: 2015-01-22
تاریخ اشاعت: 2015-01-22
تاریخ اشاعت: 2015-01-22
تاریخ اشاعت: 2015-01-22
تاریخ اشاعت: 2015-01-22
تاریخ اشاعت: 2015-01-22
تاریخ اشاعت: 2015-01-22
تاریخ اشاعت: 2015-01-22
تاریخ اشاعت: 2015-01-22
تاریخ اشاعت: 2015-01-22
- مزید خبریں

لاہور

تلاش کیجئے

پی ایس او کا دیوالیہ نکالنے والے حکمران اب پاور سیکٹر کے پیچھے پڑ گئے،حکومت بجلی کے بند یونٹس کو سالانہ 1.2ارب ادا کر رہی ہے:عوامی تحریک کا انکشاف،صارفین بجلی سے اڑھائی روپے فی یونٹ اضافی وصول کیے جارہے ہیں،وزارت پانی و بجلی سے 5سوال،تکنیکی نقصانات کی مد میں خزانے کو سالانہ 380ارب کا نقصان پہنچایا جارہا ہے ”انکشاف رپورٹ“

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔22جنوری۔2015ء)پاکستان عوامی تحریک نے انکشاف کیا ہے کہ پیپکو اور وزارت پانی و بجلی کی ملی بھگت سے تکنیکی نقصانات، فرنس آئل کی خریداری اور ترسیل کی مد میں قومی خزانے کو سالانہ 380ارب روپے کا نقصان پہنچایا جارہا ہے اور بجلی پیدا کرنے والے ان یونٹس کو بھی سالانہ 1.2 ارب روپے کی ادائیگی ہو رہی ہے جنہوں نے آج تک ایک یونٹ بجلی بھی پیدا نہیں کی، پاکستان عوامی تحریک کے میڈیا سیل سے جاری ” انکشاف رپورٹ“ کے مطابق صارفین بجلی سے 2روپے 50 پیسے فی یونٹ اضافی رقم وصول کر کے بجلی کے بند یونٹس کے مالکان کو ادا کی جارہی ہے، مرکزی صدر ڈاکٹر رحیق احمد عباسی اور میڈیا ایڈوائزرپاکستان عوامی تحریک کی سربراہی میں جاری کی جانے والی رپورٹ میں وزارت پانی و بجلی سے 5سوالات کا جواب مانگا گیا ہے ۔

(1)بجلی کے بند یونٹس کو کس معاہدے کے تحت سالانہ 1.2 ارب روپے کی ادائیگیاں ہورہی ہیں، اس ضمن میں اگر کوئی معاہدہ ہے تو اس کی تفصیل سامنے لائی جائے (2)بجلی پیدا کرنے والے جو یونٹ بند پڑے ہیں ان کی تعداد کتنی ہے ؟ اور ان کے مالکان کون ہیں اور 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کے باوجود ان کے بند رکھنے کی وجوہات کیا ہیں؟ (3)فرنس آئل کی قیمتوں میں 50فیصد کمی کی وجہ سے بجلی کی فی یونٹ کی پیداواری لاگت 20روپے 30پیسے سے کم ہو کر 14روپے یونٹ ہو گئی ہے، اس کا شرح سے صارفین بجلی کو ریلیف کیوں نہیں ملا؟ (4)فرنس آئل کی قیمتوں میں 50فیصد کمی کے باوجود بجلی کے بند یونٹ کیوں نہیں چلائے جارہے؟عوام اور انڈسٹری

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

22-01-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان