اسلامی نظریاتی کونسل نے طلاق ثلاثہ کوخلاف سنت، گناہ اور جرم قرارد دیدیا، جرم کامرتکب ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-22
تاریخ اشاعت: 2015-01-22
تاریخ اشاعت: 2015-01-22
تاریخ اشاعت: 2015-01-22
تاریخ اشاعت: 2015-01-22
تاریخ اشاعت: 2015-01-22
تاریخ اشاعت: 2015-01-22
تاریخ اشاعت: 2015-01-22
پچھلی خبریں -

اسلام آباد

تلاش کیجئے

اسلامی نظریاتی کونسل نے طلاق ثلاثہ کوخلاف سنت، گناہ اور جرم قرارد دیدیا، جرم کامرتکب سٹام فروش پربھی سزا کااطلاق،40سال سے زائد عمر خاتون جج حدود سمیت تمام مقدمات سن سکتی ہے حجاب ضروری قرار دیدیا، بچو ں کو جسمانی سزا دینے کے امتناع کا بل مسترد کرتے ہوئے کونسل کو نیا مسودہ تیار کرنے کی ہدایت، کونسل کا دوروزہ اجلاس، واضح کرنا ہوگا کہ غیر مسلم اور مسلمان پاکستانیوں کے حقوق یکساں ہیں؟قادیانی مرتد ہیں یا غیر مسلم؟کسی کلمہ گو کو کافر کہنے کی شرعی بنیاد کیاہے ؟ دہشت گردی اور جہاد میں فرق سمیت عوامل پر آئندہ اجلاس میں بات ہوگی، 27 رمضان کی بجائے14اگست کی چھٹی برقرار، مسیحی و ہندومیرج بلز درست قرا ر، فریقین میں سے اگر کوئی فریق کسی دوسرے مذہب کو اختیار کر ے تو اس پر قانون کا اطلاق نہیں ہوگا ، عالمی کنونشن آئین کے آرٹیکل 227 کی روشنی میں ہی قابل قبول ہونگے،چیئرمین مولانا محمدخان شیرانی کی بریفنگ

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔22جنوری۔2015ء)اسلامی نظریاتی کونسل نے طلاق ثلاثہ دینے کوخلاف سنت، گناہ اور جرم قراردیدیا، اکٹھے تین طلاق تحریر والے شٹام فروش و تحریری کرنیوالے بھی مجرم قرار دیدیئے، سزاؤں کا اختیار عدالت کو حاصل، 40سال سے زائد عمر خاتون جج حدود سمیت تمام مقدمات سن سکتی ہے حجاب ضروری قرار دیدیا، بچو ں کو جسمانی سزا دینے کے امتناع کا بل مسترد کرتے ہوئے کونسل کو نیا مسودہ تیار کرنے کی ہدایت، 27رمضان کی بجائے14اگست کی چھٹی برقرار، مسیحی و ہندومیرج بلز درست قرا ر، فریقین میں سے اگر کوئی فریق کسی دوسرے مذہب کو اختیار کر ے تو اس پر قانون کا اطلاق نہیں ہوگا ، چیئرمین مولانا محمدخان شیرانی نے کہاہے کہ عالمی کنونشن آئین کے آرٹیکل 227 کی روشنی میں ہی قابل قبول ہونگے، واضح کرنا ہوگا کہ غیر مسلم اور مسلمان پاکستانیوں کے حقوق یکساں ہیں؟قادیانی مرتد ہیں یا غیر مسلم؟کسی کلمہ گو کو کافر کہنے کی شرعی بنیاد کیاہے ؟ دہشت گردی اور جہاد میں فرق سمیت عوامل پر آئندہ اجلاس میں بات ہوگی۔

اسلامی نظریاتی کونسل کا دوروزہ 197واں اجلاس بدھ کو اختتام پذیر ہوگیا۔ اجلاس چیئرمین محمد خان شیرانی کی سربراہی میں شروع ہوا۔ اجلاس میں کونسل کے ممبران سمیت دیگر ذمہ داران نے شرکت کی۔ اجلاس میں 18نکاتی ایجنڈا زیر بحث آیا جس میں کونسل کے 196ویں اجلاس کی روداد، گزشتہ اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد رپورٹ، قانون انفساخ مسلم ازدواج، تین عائلی مسائل، طلاق ثلاثہ، طلاق دینے کے بعد شوہر کا اس سے انکار، یتیم پوتے کی وارثت ، حدود کے مقدمات میں خاتون جج کی تقرری، بچوں کو جسمانی سزا دینے کے امتناع کا بل 2014ء ، تعلیمی نصاب میں جنسی تعلیم سے متعلق مواد، فرقہ وارانہ تشدد کے خاتمہ کیلئے ضابطہ اخلاق کی تجویز ، دستوری ترمیمی بل 2014ء سمیت دیگر ایجنڈا نکات دوروزہ اجلاس میں زیر بحث آئے۔

اجلاس کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے مولانا محمد خان شیرانی نے کہاکہ قانون انفسا، مسلم ازدواج 1939ء کی دفعہ 2 کی ذیلی دفعہ 2 کے تحت دوسری شادی کی بنا پر فسخ نکاح کا اختیار دیاگیاہے جو کہ شرعی اعتبار سے درست نہیں ہیچونکہ شریعت نے ایسی کو ئی پابندی نہیں لگائی اس لیے یہ فسخ نکاح کا جواز کا کوئی جواز نہیں جبکہ اسلام میں کسی شخص کے قید ہو نے جانے سے بھی نکاح فسخ نہیں ہوتا ۔ انہوں نے کہاکہ طلاق دینے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ ایک طہر میں ایک ہی طلاق دی جائے جبکہ تین طلاقیں دینا خلاف سنت اور گناہ ہے ۔

کونسل نے طویل غوروخوض کے بعد سفارش کی ہے کہ چونکہ اسلام میں تین طلاقوں کا کوئی تصور ہی نہیں ہے اس لیے ایک ہی نشست میں تین طلاقیں دینے کے غیر شرعی کام کو روکنے کے لیے حکومت سے سفارش کی جائے کہ وہ ایسی قانون سازی کرے جس کے نتیجے میں ایک ہی نشست میں تین طلاقیں دینے کے عمل کو قابل سزا جرم قرار دیا جائے اور اس کی سزا مقرر کردی جائے ،کونسل نے سزا

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

22-01-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان