آئی بی کی جانب سے اراکین پارلیمنٹ کے ٹیلی فون ٹیپ کئے جاتے ہیں،سینیٹر سلیم مانڈوی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-20
تاریخ اشاعت: 2015-01-20
تاریخ اشاعت: 2015-01-20
تاریخ اشاعت: 2015-01-20
تاریخ اشاعت: 2015-01-20
تاریخ اشاعت: 2015-01-20
تاریخ اشاعت: 2015-01-20
تاریخ اشاعت: 2015-01-20
تاریخ اشاعت: 2015-01-20
تاریخ اشاعت: 2015-01-20
تاریخ اشاعت: 2015-01-20
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:05 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:06 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:09 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:16 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:11:11 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:11:13 اسلام آباد کی مزید خبریں

تلاش کیجئے

آئی بی کی جانب سے اراکین پارلیمنٹ کے ٹیلی فون ٹیپ کئے جاتے ہیں،سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے تحریری ثبوت قائمہ کمیٹی کو پیش کردیئے،ڈی جی آئی بی نے بطور ثبوت پیش کئے جانے والے لیٹر کو جعلی قرار دیدیا ، دس دنوں میں ٹیلی فون ریکارڈ کئے جانے کے حوالے سے انکوائری رپورٹ طلب ، بعض سفارتخانوں کے ٹیلی فونز کو ناگزیر صورت میں ٹیپ کرنا پڑتا ہے،ڈی جی آئی بی

اسلام آباد( اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔20جنوری۔2015ء )سینٹ کی قواعد و ضوابط اور استحقاق کی قائمہ کمیٹی میں انکشاف کیا گیا ہے کہ انٹیلی جنس بیورو کی جانب سے ملکی اہم شخصیات سمیت اراکین پارلیمنٹ کے ٹیلی فون ٹیپ کئے جاتے ہیں ،سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے فون ٹریس کئے جانے کے حوالے سے تحریری ثبوت کمیٹی کو پیش کردیئے تاہم ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس بیورو آفتاب سلطان نے بطور ثبوت پیش کئے جانے والے لیٹر کو جعلی قرار دیدیا ، طویل بحث کے بعد کمیٹی نے دس دنوں میں ٹیلی فون ریکارڈ کئے جانے کے حوالے سے انکوائری رپورٹ طلب کرلی ۔

ڈی جی آئی بی نے واضح کیا کہ موجودہ اور سابقہ وزیراعظم میں سے کسی نے بھی پارلیمنٹرینز کے فون ریکارڈ کرنے کا نہیں کہا ، بعض سفارتخانوں کے ٹیلی فونز کو ناگزیر صورت میں ٹیپ کرنا پڑتا ہے۔قائمہ کمیٹی کا اہم اجلاس پیر کو چیئرمین کمیٹی سینیٹر طاہر حسین مشہدی کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں سینیٹر رضا ربانی ، سینیٹر اسلام الدین شیخ ، سینیٹر سلیم مانڈوی والا ، سینیٹر زاہد خان سمیت دیگر کمیٹی اراکین نے شرکت کی ۔

اجلاس میں اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی جب سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ انٹیلی جنس بیورو کی جانب سے ان سمیت دیگر پارلیمنٹرینز کے ٹیلی فون ٹیپ کئے جاتے ہیں یا ریکارڈ کئے جاتے ہیں اس پر کمیٹی میں موجود آئی بی کے ڈائریکٹر جنرل آفتاب سلطان سے استفسار کیا گیا تو انہوں نے سلیم مانڈوی والا کے موقف کو یکسر مسترد کردیا ان کا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس بیورو ان سمیت کسی بھی پارلیمنٹرینز کا فون ٹیپ نہیں کررہا اور نہ ہی اس حوالے سے حکومت کی جانب سے ہمیں کوئی ہدایات جاری کی گئی ہیں

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

20-01-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان