وزارت خزانہ بری الذمہ؟،پٹرول بحران حکومت کے خلاف گہری سازش ہے،ذمہ داروں کا تعین ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-20
تاریخ اشاعت: 2015-01-20
تاریخ اشاعت: 2015-01-20
تاریخ اشاعت: 2015-01-20
تاریخ اشاعت: 2015-01-20
تاریخ اشاعت: 2015-01-20
تاریخ اشاعت: 2015-01-20
تاریخ اشاعت: 2015-01-20
پچھلی خبریں -

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 18/02/2017 - 11:25:27 وقت اشاعت: 18/02/2017 - 11:25:27 وقت اشاعت: 18/02/2017 - 11:25:27 وقت اشاعت: 18/02/2017 - 11:34:58 وقت اشاعت: 18/02/2017 - 11:35:00 وقت اشاعت: 18/02/2017 - 11:36:33 اسلام آباد کی مزید خبریں

تلاش کیجئے

وزارت خزانہ بری الذمہ؟،پٹرول بحران حکومت کے خلاف گہری سازش ہے،ذمہ داروں کا تعین کریں گے،وزیر خزانہ،وزیر اعظم تحقیقات کررہے ہیں ،دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجانا چاہیے ،وزارت خزانہ نے پی ایس او کا ایک روپیہ بھی نہیں دینا،پٹرول سٹاک کیوں نہ کیا گیا؟ ،جاپان لاکھڑا پاور پلانٹ کیلئے85 کروڑ ڈالر دیگا،جاپانی وزیر اعظم کو پاکستان آنے کی دعوت دی،تحریک انصاف مان جائے تو 30 منٹ میں جوڈیشل کمیشن بن جائے گا ، پریس کانفرنس

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔20جنوری۔2015ء)وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے وزارت خزانہ کو پٹرولیم بحران سے بری الذمہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پٹرول بحران پیدا کر کے حکومت کے خلاف سازش کی گئی ،وزیر اعظم تحقیقات کررہے ہیں جو بھی ذمہ دار ہوگا اس کو ضرور سزا ملنی چاہیے۔وزارت خزانہ کے ذمے پی ایس او کا ایک پیسہ بھی نہیں، حکومت کا حصہ ہونے پر پیٹرول بحران پر بدانتظامی کا اعتراف کرتا ہوں۔۔پٹرول بحران بدانتظامی کی وجہ سے پیدا ہوا۔

پی ایس او کورقم فراہم کرنا اولین ترجیح ہے۔تحریک انصاف مان جائے تو 30 منٹ میں جوڈیشل کمیشن بن جائے گا،آئین و قانون کے اندر رہ کر مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں،آج یا کل جہانگیر سے ملوں گا۔لاکھڑا پاور پلانٹ کیلئے جاپان 85 کروڑ ڈالر فراہم کریگا۔جاپانی وزیر اعظم کو پاکستان آنے کی دعوت دی جو انہوں نے رضامندی ظاہر کی ۔پاکستان اور جاپان کے درمیان مئی میں سٹرٹیجک ڈائیلاگ ہوں گے۔جاپان پاکستان میں سرمایہ کاری کو بڑھانا چاہتاہے۔

پیر کویہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پٹرول بحران سے متعلق جتنی باتیں کی گئیں وہ جھوٹ پر مبنی ہیں ۔پٹرول بحران پیدا کر کے حکومت کے خلاف سازش کی گئی ۔وزیر اعظم پٹرول بحران پر تحقیقات کررہے ہیں ۔جو بھی ذمہ دار ہوگا سزاضرور ملنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول بحران کے حوالے سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جانا چاہیے ۔ وزارت خزانہ نے پی ایس او کی کوئی ایل سی نہیں روکی اور نہ ہی پی ایس او نے رقم سے متعلق کوئی کلیم نہیں کیا ۔

وزارت خزانہ کا پی ایس او کے ساتھ کوئی کاروبار نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ پی ایس او کو رقم فراہم کرنا اولین ترجیح ہے ۔پانی و بجلی کے تمام کلیمز ادا کر چکے ہیں ۔وزارت نے پی ایس او کا ایک روپیہ بھی نہیں دینا۔پانی وبجلی کو تیل فراہم کرنا پی ایس او کی ذمہ داری ہے ۔تمام باتیں مفروضوں پر مبنی ہیں اور جھوٹ کا پلندا ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ جنہوں نے پٹرول کا سٹاک نہیں رکھا ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

شپنگ کارپوریشن کا جہاز تیل لینے کیوں نہیں گیا۔ پٹرول بحران بدانتظامی کی وجہ سے ہوا۔انہوں نے کہا کہ تیل کی قیمتیں40 فیصد کمی ہوئیں مگر مطلوبہ ذخیرہ نہیں رکھا گیا۔ آئل ذخیرہ نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی ضرور ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پٹرول بحران کو روکنا حکومت کی ذمہ داری تھی ۔ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی پی پیز بحران کے حوالے سے غلط بیان کی گئی ۔آئی پی پیز کو تمام

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

20-01-2015 :تاریخ اشاعت