امریکی اخبارنیویارک ٹائمز اور خبر رساں ادارے یو پی آئی کا ٹوئٹر اوکانٹ ہیک ، ہیکرز ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر جنوری

مزید بین الاقوامی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-19
تاریخ اشاعت: 2015-01-19
تاریخ اشاعت: 2015-01-19
تاریخ اشاعت: 2015-01-19
تاریخ اشاعت: 2015-01-19
تاریخ اشاعت: 2015-01-19
تاریخ اشاعت: 2015-01-19
تاریخ اشاعت: 2015-01-19
پچھلی خبریں -

تلاش کیجئے

امریکی اخبارنیویارک ٹائمز اور خبر رساں ادارے یو پی آئی کا ٹوئٹر اوکانٹ ہیک ، ہیکرز نے ٹوئٹر اکاونٹوں پر چین اور امریکہ کے مابین لڑائی اور تیسری جنگ عظیم کے شروع ہونے کی جعلی خبریں جاری کر دیں

واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔19جنوری۔2015ء)امریکی صدر با ر اک اوباما کی جانب سے سائبر سکیورٹی کو سخت کرنے کے اقدامات کے اعلان کے چند روز بعد ہیکروں نے مشہور امریکی اخبار نیویارک پوسٹ اور خبر رساں ادارے یونائٹیڈ پریس انٹرنیشنل (یو پی آئی) کے ٹوئٹر اکاونٹوں کو ہیک کر کے وہاں سے چین اور امریکہ کے مابین لڑائی اور تیسری جنگ عظیم کے شروع ہونے کی جعلی خبریں جاری کیں۔ہیکروں نے خبر رساں ایجنسی یو پی آئی کے ٹوئٹر اکاونٹ سے جاری ہونے والے ایک جعلی پیغام میں پوپ کے حوالے سے لکھا کہ تیسری جنگ عظیم کا آغاز ہو گیا ہے۔

حالیہ دنوں میں ہیکروں نے امریکہ کے سرکاری اداروں اور پرائیوٹ کمپنیوں کے اکاونٹوں کو ہیک کر کے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ ہیکروں نے امریکی ملڑی کمانڈ کی سکیورٹی کو پامال کرنے کے صرف چار روز بعد ہی بڑے اخباری اداروں کے ٹوئٹر اکاونٹ تک رسائی حاصل کر لی۔یو پی آئی نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ اس کے ٹوئٹر اکاونٹ اور نیوز ویب سائٹ کو ہیک کر لیا گیا ہے۔ یو پی آئی کے ٹوئٹر اکاونٹ پر چھ جعلی ہیڈلائن جاری کی گئیں۔

بریکنگ سٹوری امریکی فیڈرل ریزرو بینک سے متعلق تھی۔نیو یارک پوسٹ کے اکاونٹ پر جعلی خبر جاری کی گئی کہ امریکی بحری جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن جنوبی بحیرہ چین میں چین کے ساتھ لڑائی میں مصروف ہے۔پینٹاگون کے اہلکار نے کہا چین کے ساتھ کشیدگی کے حوالے سے خبریں سچی نہیں ہیں۔ اب یہ تمام ٹویٹس مٹا دی گئی ہیں۔نیو یارک پوسٹ نے کہا ہے کہ وہ ٹوئٹر اکاونٹ کے ہیک ہونے سے متعلق تحقیق کر رہا ہے۔امریکی کی ملٹری کمانڈر کے اوکاونٹ کو ہیک کرنے والوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ شام اور عراق میں سرگرم شدت پسند گروہ داعش کے حامی ہیں۔نومبر میں ہیکروں نے سونی پکچر سے صارفین کی خفیہ معلومات چرا کر انٹرنیٹ پر جاری کر دیا تھا۔

19-01-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان