ماورائے عدالت قتل کرنا اور شک کی بنیاد پر اور جرم بتائے بغیر لوگوں کو مارنا کھلی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر جنوری

مزید اہم خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-19
تاریخ اشاعت: 2015-01-19
تاریخ اشاعت: 2015-01-19
تاریخ اشاعت: 2015-01-19
تاریخ اشاعت: 2015-01-19
تاریخ اشاعت: 2015-01-19
تاریخ اشاعت: 2015-01-19
تاریخ اشاعت: 2015-01-19
تاریخ اشاعت: 2015-01-19
تاریخ اشاعت: 2015-01-19
پچھلی خبریں -

کراچی

تلاش کیجئے

ماورائے عدالت قتل کرنا اور شک کی بنیاد پر اور جرم بتائے بغیر لوگوں کو مارنا کھلی دہشت گردی ہے اسکی شدید مذمت کرتے ہیں ،سراج الحق،نوجوانوں کو گھروں سے اٹھانا اور ہفتوں اور مہینوں تک پتہ ہی نہ لگنے دینا کہ یہ کہاں ہیں اور پھر ان کو مار کر لاشیں پھینک دینا اندھیر نگری اور چوپٹ راج ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا ،اس سنگین صورتحال سے نمٹنے اور اس کے خاتمے کے لیے مشاورت کے بعد لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا ، کراچی میں ہر مظلوم کا ساتھ دینا ہمارا فرض ہے ،قاتل کو گرفتار کرنا اور سز ا دینا مقتول کے ورثاکا نہیں حکومت کا کام ہے اور جو حکومت مقتول اور مظلوم کی داد رسی نہ کرسکے اسے حکومت میں رہنے کا کوئی حق نہیں ،امیر جماعت اسلامی پاکستان

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔19جنوری۔2015ء)امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ ماورائے عدالت قتل کرنا اور شک کی بنیاد پر اور جرم بتائے بغیر لوگوں کو مارنا کھلی دہشت گردی ہے ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں ،نوجوانوں کو گھروں سے اٹھانا اور ہفتوں اور مہینوں تک پتہ ہی نہ لگنے دینا کہ یہ کہاں ہیں اور پھر ان کو مار کر لاشیں پھینک دینا اندھیر نگری اور چوپٹ راج ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا ۔

اس سنگین صورتحال سے نمٹنے اور اس کے خاتمے کے لیے مشاورت کے بعد لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا ، کراچی میں ہر مظلوم کا ساتھ دینا ہمارا فرض ہے ،قاتل کو گرفتار کرنا اور سز ا دینا مقتول کے ورثاکا نہیں حکومت کا کام ہے اور جو حکومت مقتول اور مظلوم کی داد رسی نہ کرسکے اسے حکومت میں رہنے کا کوئی حق نہیں ،ان خیالات کا اظہار انھوں نے ادارہ نور حق میں کراچی میں رہائش پذیر پختون آبادی سے تعلق رکھنے والے اہم افراد اور قبائلی عمائدین کے ایک جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

جرگے میں قبائلی عمائدین پختون آبادی کے نمائندوں اور بالخصوص پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل ہونے والے نوجوانوں کے اہل خانہ اور لواحقین نے بڑی تعداد میں شرکت کی ، جرگے میں شریک لواحقین نے اپنے بیٹوں ، بھائیوں اور دیگر عزیزوں کے بارے میں تفصیلات بیان کیں کہ ان کو کب اور کہاں سے اور کس طرح اٹھایا گیا متعلقہ تھانوں سے کوئی اطلاعات فراہم نہیں کی گئیں ،عدالتوں میں پٹیشن بھی جمع کرائی گئی لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی اور بالآخر ان کے پیاروں کو قتل کرکے لاشیں ادھر ادھر پھینک دی گئی ، اپنی روداد بتانے بتانے اور داستان الم سنانے والوں میں سعید الرحمن ، رواد خان ، سمیع الرحمن ، فضل کریم ، مولانا طاہر ، عبدالشکور اور دیگر افراد شامل تھے ۔

پختون قبائلی عمائدین کے جرگے سے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن ، سابق وفاقی وزیر حاجی عبدالقیوم خان ، قبائلی عمائدین کے نمائندے حاجی امیر زمان خان ، جماعت اسلامی ضلع غربی کے امیر عبدالرزاق خان اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔سراج الحق نے جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے غیرت مند قبائل اور عوام کے ساتھ جس ناروا سلوک کا ذکر یہاں کیا گیا ہے وہ افسوسناک اور باعث شرم ہے ،یہ صورتحال تو جنگلوں میں بھی نہیں ہوتی ، یہ کھلم کھلا ظلم ، درندگی اور وحشت ہے کہ لوگوں کو ان کا جرم بتائے بغیر ہی ما ردیا جائے ۔

اللہ تعالی بھی قیامت کے روز انسانوں کے گناہوں اور جرائم کے لیے ان کے ہاتھوں اور پیروں کو گواہی کے طور پر پیش کرے گا ، روز قیامت کائنات کا خالق اور مالک بھی عدالت کے تقاضے پورے کرے گا تو پھر کسی انسان کو یہ حق کیسے مل سکتا ہے کہ وہ کسی عدالت کے بغیر ہی دوسرے انسان کو قتل کردے ، انھوں نے کہا کہ اس نظام ،ریاست اور حکومت کا یہ رویہ ناقابل برداشت ہے اسے ہم

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

19-01-2015 :تاریخ اشاعت