مریخ سے 11 سال قبل اچانک غائب ہو جانے والا تحقیقاتی روبوٹ مل گیا
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ جنوری

مزید بین الاقوامی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-17
تاریخ اشاعت: 2015-01-17
تاریخ اشاعت: 2015-01-17
تاریخ اشاعت: 2015-01-17
تاریخ اشاعت: 2015-01-17
تاریخ اشاعت: 2015-01-17
تاریخ اشاعت: 2015-01-17
-

تلاش کیجئے

مریخ سے 11 سال قبل اچانک غائب ہو جانے والا تحقیقاتی روبوٹ مل گیا

لندن(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔17جنوری۔2015ء) مریخ سیارے مریخ کی سطح پر 11 سال قبل معلومات حاصل کرنے کے لیے بھیجا جانے والا خلائی روبوٹ معلومات تو کیا حاصل کرتا خود ہی غائب ہوگیا اور اب اچانک مل گیا ہے جس سے کئی سالوں سے جاری اس کی کھوج کامیاب ہوگئی ہے۔برطانیہ کے خلائی مشن پر جانے والے تحقیقاتی روبوٹ ’ بیگل‘ کو سرخ سیارے مریخ پر اترنا تھا لیکن جیسے ہی اس نے مریخ پر قدم رکھا وہ زمین پر موجود ریڈار سے غائب ہوگیا جس نے خلائی سائنسدانوں کو حیران اور پریشان کردیا اوروہ بیگل کے پراسرار طور پر غائب ہونے کی وجہ کی تلاش میں لگ گئے اور اس کوشش میں انہیں 11 سال کا عرصہ گزر گیا لیکن پتہ نہ چل سکا کہ بیگل کہاں گیا کیونکہ بے چارے سائنسدان خلا میں غائب ہونے والے روبوٹ کے بارے میں یہ بھی نہیں کہہ سکتے تھے کہ اسے آسمان کھا گیا کہ زمین نگل گئی، اوریہ مسئلہ اس وقت حل ہوگیا جب ناسا کے ہائی ریزولیشن سے لی گئی تصاویر نے راز افشاں کیا کہ لینڈر مریخ ہی کی سطح پر موجود ہے لیکن چونکہ اس کا نظام پوری طرح نہ کھل سکا تھا اس لیے وہ ریڈار سے غائب ہوگیا۔

خلائی روبوٹ کو 25 دسمبر 2003 میں مارس ایکسپریس کے ذریعے مریخ کی سطح پر اتارا گیا تھا لیکن اس کے سولر پینل پوری طرح نہیں کھل سکے جس کے باعث اس پر لگا انٹینا اپنا کام نہ کرسکا اور بیگل کو توانائی ہی نہ مل سکی جو اس کے سسٹم کو حرکت دیتی اوراس کا زمین سے رابطہ قائم ہو سکتا۔بیگل کو تیار کرنے والی ٹیم کے ممبر مارک سمس کا کہنا ہے کہ اگرچہ بیگل کی نشان دہی ہوگئی ہے لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ایسا کیوں ہوا کہ بیگل کے سولر پینل نہیں کھل سکے تاہم ہوسکتا ہے کہ ہائی ولاسٹی کی وجہ سے بیگل سطح سے زیادہ زور دار دھماکے سے ٹکرا گیا ہوگا جس کی وجہ سے سولر پینل نہ کھل سکے۔ یورپین خلائی ایجنسی کے مطابق 2 میٹر لمبے بیگل کی سب سے پہلے نشان دہی مائیکل کرون ٹائر نے کی اور یوں کئی سال سے سائنسدانوں کو پریشان کردینا والا پراسرار مسئلہ حل ہوگیا۔

17-01-2015 :تاریخ اشاعت