اظہار رائے کی آزادی کو دبانے کی اجازت نہیں دیں گے ، امریکہ اور بر طا نیہ کا عزم ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ جنوری

مزید بین الاقوامی خبریں

تاریخ اشاعت: 2015-01-16
تاریخ اشاعت: 2015-01-16
تاریخ اشاعت: 2015-01-16
تاریخ اشاعت: 2015-01-16
تاریخ اشاعت: 2015-01-16
تاریخ اشاعت: 2015-01-16
تاریخ اشاعت: 2015-01-16
تاریخ اشاعت: 2015-01-16
پچھلی خبریں -

تلاش کیجئے

اظہار رائے کی آزادی کو دبانے کی اجازت نہیں دیں گے ، امریکہ اور بر طا نیہ کا عزم ، ان عناصر کے خلاف ساتھ کھڑے رہیں گے جو ہماری اقدار اور زندگی گزارنے کے طریقے کے لیے خطرہ بن رہے ہیں‘ ان وحشی قاتلوں اور ان کے مسخ شدہ نظریات کو شکست دیں گے جو معصوم افراد کے قتل کو جائز قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں، ڈیوڈ کیمرون،با راک اوباما

لند ن(اُردو پوائنٹ اخبارآن لائن۔17جنوری۔2015ء) بر طانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون اور امریکی صدربا راک اوباما نے دہشت گردی کے ’مسخ شدہ نظریات‘ کو شکست دینے کے لیے مل کر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔یہ بات دونوں رہنماوٴں کی جانب سے مشترکہ طور پر تحریر کردہ مضمون میں کہی گئی ہے جو جمعرات کو ٹائمز اخبار میں شائع ہوا ہے۔پیرس میں شدت پسندوں کے حملوں میں 17 افراد کی ہلاکت کے بعد شائع ہونے والے اس مضمون میں دونوں رہنماوٴں کا کہنا ہے کہ وہ کسی کو بھی’اظہارِ رائے کی آزادی کو دبانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

‘انھوں نے کہا ہے کہ ’ہم ان عناصر کے خلاف ساتھ کھڑے رہیں گے جو ہماری اقدار اور زندگی گزارنے کے طریقے کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔دونوں رہنماوٴں کا کہنا ہے کہ فرانسیسی رسالے چارلی ایبڈو اور کوشر مارکیٹ پر حملوں کے خلاف دنیا نے مل کر آواز بلند کی ہے: ’جب پیرس میں اس آزادی پر حملہ ہوا جسے ہم عزیز رکھتے ہیں تو دنیا نے یک زبان ہو کر اس کا جواب دیا۔‘کیمرون اور اوباما کا کہنا ہے کہ ’ہم ان وحشی قاتلوں اور ان کے مسخ شدہ نظریات کو شکست دیں گے جو معصوم افراد کے قتل کو جائز قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’جو لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اظہارِ رائے کی آزادی کو تشدد سے دبا سکتے ہیں ہم نے اپنے فرانسیسی اتحادیوں کے ساتھ مل کر ان واضح کر دیا ہے کہ ہماری آوازیں بلند سے بلند تر ہوتی جائیں گی۔‘خیال رہے کہ چارلی ایبڈو پر حملے اور تشدد کے نتیجے میں 17 افراد کی ہلاکتوں کے خلاف فرانسیسی عوام نے گذشتہ اتوار کو ملک بھر میں اجتماعات منعقد کیے تھے جن میں 35 لاکھ سے زیادہ افراد شریک ہوئے تھے۔

16-01-2015 :تاریخ اشاعت

:متعلقہ عنوان